ٹرانس جینڈرقانون ،پیش کرنے والوں سے ابھی تک سوال کیو ں نہیں


اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ سے سال 2018میں پاس ہونیوالا ٹرانسجینڈر بل جو اب قانون بن چکا ہے اور اب تقریبا کم و بیش چار سال بعد موت کی نیند سوئی ہوئی قوم کو پتہ چلا کہ ان کے ساتھ کیسے ہاتھ ہوگیاہے . خواجہ سرا کہتے ہیں کہ ہم خود اس کے حق میں نہیں کہ کوئی اپنی مرضی سے جنس تبدیل کرے ہاں اس بات کی وہ ڈیمانڈ کرتے ہیں کہ انہیں بھی بنیادی حقوق دئیے جائیں جو کہ آئین پاکستان میں دئیے گے ہیں ، ویسے بھی ان کی دل کی تسلی کیلئے یہ بات خوش آئند ہے کہ انہیں آئین پاکستان میں دئیے گئے حقوق تو یاد نیں یہاں تو پاکستان کے کسی بھی شہری کو آئین پاکستان کے مطابق دئیے جانیوالے کوئی حقوق حاصل نہیں ، تعلیم ، تحفظ ، روزگار ، صحت ، آزادی سمیت ہر وہ حق جو آئین پاکستان میں پاکستان کے شہریوں کا حق ہے وہ صرف ایک خواب ہے .جس پر ساری قوم سوئی ہوئی ہیں. جن کو آئین کا پتہ ہے وہ ان کیساتھ کھلواڑ کررہے ہیں ، اور آئین ان کی گھر کی لونڈی بنی ہوئی ہیں.سال 2018 میں پاس ہونیوالے قانون کے بعداب تک یعنی سال 2022 تک اب تک چودہ ہزار مردوں نے اپنی جنس تبدیل کرکے اپنے آپ کو عورت بنا لیا ہے جبکہ بارہ ہزار عورتوں نے اپنے آپ کو مرد بنا لیا ہے.یعنی کم و بیش اٹھائیس ہزار افراد ایسے ہیں جنہیں اپنے جنس پر اعترا ض تھا اور انہوں نے اپنی خواہشات کے پیش نظر اپنے جنس تبدیل کی .بہت کم خواجہ سرا اس سے مستفید ہوئے .یعنی جن کے نام پر بنایا گیا تھا وہ آج بھی اسی حال میں ہیں جو کہ اس قانون سے پہلے حال میں تھے.

عرصہ چار سال سے موت کی نیند اگر یہ قوم سوئی ہوئی تھی تو اس میں قصور صرف عوام کا نہیں بلکہ ان تمام نام نہاد لیڈروں کا ہے جن کی گاڑیوں کے آگے پیچھے عوام " ڈانس کرتی" ہیں ، جب یہ قانون سینیٹ میں اور قومی اسمبلی میں پیش کیا جارہا تھا تو وہاں پر بیٹھے سارے سوئے ہوئے تھے یا پھر انہیں انگریزی کی سمجھ نہیں آرہی تھی یا پھر ان کے آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئی تھی.جن چار خواتین سینیٹرز نے جوکہ چار مختلف پارٹیوں سے تعلق رکھتی ہیں کو کیا ضرورت تھی کہ انہوں نے یہ بل جمع کروایا ، ویسے آپس کی بات ہے کہ اب تک جتنے بھی اس طرح کے بل اسمبلیوں میں پیش کئے جاتے ہیں ان میں بیشتر مختلف غیر سرکاری تنظیمیں تیار کرتی ہیں ان پر لابنگ کی جاتی ہیں ، ممبران اسمبلی کو ڈنرز ، لنچ اور سیمینار ورکشاپ سمیت تفریحی ٹورز کروائے جاتے ہیں اور پھر بل اسمبلی میںپیش کروائے جاتے ہیں اور یوں بل منظور کروائے جاتے ہیں سوال ان چار سینیٹرز خواتین سے کرنے کا کا ہے کہ ان سے پوچھا جائے کہ آپ نے جو بل جمع کروایا تھا آپ کو کس نے دیا تھا ، اس کے پیچھے کون لوگ تھے کیونکہ ایک ہی بل پر چار مختلف پارٹیوں کی خواتین کا یکساں انداز میں متفق ہونا اور پھراسے پیش کرنا بھی حیران کن امر ہے .

ٹرانس جینڈر بل جوکہ اب قانون بن چکا ہے ایسا بھی نہیں کہ کسی نے بل پیش کیا اور بغیر بحث کے اسے منظور کرلیا جائے بلکہ اس پر باقاعدہ بحث ہوتی ہیں .مخالفت اور حق میں دلائل آتے ہیں اور یہ سب کچھ ریکارڈ ہوتا ہے سال 2018 کا سینیٹ و قومی اسمبلی کا ریکارڈ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کون کون ممبر اسمبلی یا سینیٹ میں اس بل کی حق میں دلائل دے رہ ہے ، کیسے دلائل دے رہا ہے ، ان دنوں اسمبلی و سینیٹ کے دونوں سیشنز میں خصوصا جب یہ بل پیش ہورہا تھا تو کون کونس سی این جی اوز کے لوگ دیکھنے میں آرہے تھے یہ وہ بنیادی چیزیں ہیں جس سے کم از کم پتہ تو چل جائیگا کہ کون سی مخلوق اس بل کو اسمبلی میں لانے میں ، قانون بنانے میں مصروف عمل تھی ، کس کس نے فائدہ اٹھایا ، خواہ مالی طور پر ، یادوسری طرح سے ، ابھی تک کسی نے اس معاملے پر توجہ ہی نہیں دی.

توجہ تو اب اس معاملے پر کوئی بھی نہیں دے رہا کہ اس.. لا.. میہ.. جم.. ہوریہ.. پاکستان کے پارلیمنٹ میں بیٹھے بیشتر ممبر ان" اللہ میاں" کی بانجھ گائے ہیں بانجھ اس لئے کہ فائدہ ان سے کچھ نہیں لیکن اخراجات ان پر کئے جاتے ہیں.انہیں " انگریجی" نہیں آتی ، وہ غلط کو غلط نہیں کہہ سکتے کچھ اسمبلی کے ڈی سیٹ ہونے کی وجہ سے اور کچھ مراعات کے اتنے عادی ہیں کہ اس مراعات کو دوام دینے کیلئے وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ قانون اگر کوئی پاس ہورہا ہے تو پھر اس کے اثرات کیا ہونگے کیا یہ قانون اسلامی بھی ہے کہ نہیںاور کیا سینیٹ اور قومی اسمبلی کی "نرم و گداز نشستیں"قیامت تک ان کے پاس ہونگی اوراگر انہیں مرنا بھی ہوا تو قبر میں ان سے پوچھ گچھ نہیں ہوگی اور سوال و جواب کرنے والے فرشتوں کو نعو ذباللہ یہ کہہ کر ان ممبران اسمبلی و سینیٹ ممبران سے دو ر رکھا جائے گا کہ یہ صاحب لوگ ہیں اور ممبران اسمبلی ہیں ان سے پوچھ گچھ کا حق کسی کو نہیں.

سب سے مزے اور حیران کن بات کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اس قانون کو غیراسلامی قرار دیا ہے کیا اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبران ان چار سالوں میں سوئے ہوئے تھے یا وہ بھی "انگریجی " سے نابلد ہیں ، انہیں خاموش رکھا گیا تھا یا وہ جان بوجھ کر خاموش تھے جب یہ بل پاس ہورہاتھا تو انہیں بھی "بھنگ " پلادی گئی تھی کہ انہیں غیر اسلامی قانون پر خاموشی طاری ہوگئی تھی اب جبکہ پورے پاکستان میں اس کے خلاف آوزیں اٹھنے لگی ہیں تو انہوں نے اپنے آپ کو "انگلی زخمی"کرکے شہیدوں میں اپنے آپ کو شامل کرانے کی کوشش کی ، حالانکہ یہ بھی ممبران اسمبلی کی طرح عوام کے ٹیکسوں پر پلتے ہیں اورآئین پاکستان یہ کہتا ہے کہ اس ملک میں کوئی بھی خلاف اسلام قانون نہیں بنے گا . لیکن یہاں پر ایسا قانون بن گیا ہے کہ پوری دنیا میں کہیں پر نہیں اور اسلامی نظریاتی کونسل جسے "نظر ماتی کونسل" کہا جائے تو بہتر ہوگا کی آنکھیں بند تھی .

سب سے آخر میں جو اہم چیزکہ جن اٹھائیس ہزار افراد نے اپنی جنس تبدیل کی ہے ان کا ڈیٹا پبلک کیا جائے ، تاکہ پتہ چل سکے کہ کون کہاں پر ہے اور یہ بھی پتہ چل سکے کہ خلاف فطرت اپنا جنس تبدیل کرنے والے کون لوگ ہیں ، کیا ان لوگوں نے شادیاں کی ہیں اوراگر کی ہیں تو انہیں انڈر آبزرویشن رکھا جائے ، جس سے ایک طرف ان کے معاشرے پر اثرات کو کم کیا جاسکے گا تو دوسری طرف یہ لوگ جنہوں نے اپنی آپ کو مرد سے عورت اور عورت سے مرد کی جنس میں تبدیل کیا ان کے حالات کا بھی پتہ چل سکے گا اور کوشش کی جائیگی کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات نہ ہوں ، اسی طرح یہ عام لوگوں کو دھوکہ نہیں دے سکیں گے .اب بہت سارے لوگوں کو یہ درد اٹھے گا اور کہیں گے کہ یہ " پرائیویسی لاء " کی خلاف ورزی ہے.تو انہیں پرائیویسی لاء اور انسانی حقوق کی پروا ہے لیکن خدا کے قانون کی خلاف ورزی پر بالکل بھی پروا نہیں تھی .

صرف یہی نہیں بلکہ اس قانون کے بعد مرد کی مرد اور عورت کی عورت سے شادی کو تحفظ دینے والوں سمیت اس حوالے سے ٹک ٹک اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے مزاحیہ وڈیو بنانے والے بھی اس دن کے عذاب سے ڈریں جس دن صرف اور صرف "اللہ تعالی " کی بادشاہت ہوگی اور کوئی کسی کا سہارا نہیں بن سکے گا .لوگوں کے ذہنو ں میں اس طرح کی لغویات کیلئے جگہ پیدا کرنے والے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی حالت کو یاد رکھیں.
Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 507 Articles with 315183 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More