پاکستان کی ریکوڈک اور دنیا کی 6 سب سے بڑی سونے کی کانیں٬ آج کون کہاں؟

image
 
سونا بلاشبہ دنیا کے اہم ترین معدنیات میں سے ایک ہونے کے علاوہ دنیا کی ایک نایاب ترین دھات بھی ہے۔ ہماری معیشت میں اس کی بہت اہمیت ہے، جس کی وجہ سونے کا انتہائی قیمتی ہونا ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق چین دنیا کا سب سے زیادہ سونا پیدا کرنے والا ملک ہے، جبکہ دوسرے اور تیسرے نمبر پر آسٹریلیا اور روس ہیں۔ آج پہاڑوں اور کانوں سے سونا نکالنے کے لیے علاوہ بھاری مشینری کا استعمال کیا جاتا ہے جبکہ ان کانوں میں سونے کے علاوہ بہت سی دوسری دھاتیں بھی پائی جاتی ہیں۔ اس مختصر مضمون میں، ہم آپ کو دکھائیں گے کہ فوربس کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دنیا کی 6 سب سے بڑی سونے کی کانیں کون سی ہیں۔ اس کے علاوہ ساتھ ہی پاکستان میں موجود سونے کی کان کی تفصیلات سے بھی آگاہ کریں گے-
 
Carlin Trend - Nevada (United States)
یہ سونے کی کان امریکہ میں واقع ہے جو کہ 1.4 کلومیٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے- یہاں سے سونا نکالنے کا کام newmont corporation نامی کمپنی کرتی ہے- اس کان سے سونا نکالنے کے لیے ایک ہزار ملازمین اپنی خدمات سرانجام دیتے ہیں جبکہ یہاں سے 7 ملین اونس سونا نکالا جاتا ہے- اس مقدار کے اعتبار سے امریکہ کا یہ علاقہ سب سے زیادہ سونا پیدا کرنے والا علاقہ ہے-
image
 
Muruntau - Navoiy (Uzbekistan)
ازبکستان میں واقع یہ سونے کی کان 3.35 کلو میٹر لمبی اور 2.7 کلومیٹر چوڑی جبکہ 560 میٹر گہرائی میں کھدی ہوئی کان ہے- یہ کان 1958 میں دریافت ہوئی جبکہ اس پر کام کا آغاز 1969 میں ہوا- اس کان سے سونا نکالنے کی ذمہ داری سرکاری کمپنی Navoi Mining and Metallurgical Combinat کے پاس ہے- اور یہاں سے 2.2 ملین اونس سے زائد سونا دریافت کیا جاتا ہے-
image
 
Olimpiada - Krasnojarsk (Russia)
یہ روس کے علاقے کی سب سے زیادہ پیداواری کان ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی کانوں میں سے ایک ہے۔ یہ کان 1.1 کلومیٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے، اور اس کا تعلق قومی کمپنی پولیو سے ہے۔ یہاں 6,000 سے زیادہ کارکنان کام کرتے ہیں، اور تقریباً 1.4 ملین اونس ٹرائے سونے کی کان کنی کی جاتی ہے۔
image
 
Grasberg - Irian Jaya (New Guinea)
نیو گینیا میں واقع یہ سونے کی موجودہ دنیا کی سب سے بڑی کان ہے، اور تانبے کی دوسری بڑی کان ہے۔ یہ سطح سمندر سے 4000 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ اس کی ملکیت 67.3 فیصد فری پورٹ میک مو ران کے امریکیوں کے پاس ہے، 13 فیصد اینگلو-آسٹریلین ریو ٹنٹو گروپ اور 9.3 فیصد انڈونیشیا کی حکومت کے پاس ہے، یہاں تقریباً 19,500 کارکنان ملازمت کرتے ہیں اور 1.1 ملین اونس ٹرائے سونا تیار کرتے ہیں۔
image
 
TauTona - Witwatersrand (South Africa)
یہ سونے کی کان سطح سمندر سے 1700 اور 1800 میٹر کی بلندی کے درمیان واقع ہے، اور اس میں 3.9 کلومیٹر گہرائی تک تقریباً 800 کلومیٹر کی سرنگیں ہیں، جو اسے دنیا کی سب سے گہری کان بناتی ہے۔ جنوبی افریقہ کے علاقے میں واقع اس کان کی مالک جنوبی افریقی کمپنی اینگلو گولڈ اشانتی ہے، جس میں تقریباً 5600 کارکن کام کرتے ہیں اور 290,000 آونس ٹرائے سونا تیار کرتے ہیں۔
image
 
Lihir - Lihir (Papua New Guinea)
 یہ کان سطح سمندر سے 2300 میٹر بلندی پر آتش فشاں کے اندر واقع ہے اور سمندر کے قریب ہونے کی وجہ سے سیلاب کو روکنے کے لیے طاقتور پمپس کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ 99.86 فیصد آسٹریلوی کمپنی نیو کرسٹ مائننگ کی ملکیت ہے، جس میں تقریباً 4,500 کارکن کام کرتے ہیں اور 187,000 اونس ٹرائے سونا تیار کرتے ہیں۔
image
 
Reko Diq - Balochistan (Pakistan)
بلوچستان کے ضلع چاغی میں ریکوڈک ایک چھوٹے سے قصبے کا نام ہے۔ تاریخی اعتبار سے ریکوڈک ایک قدیم اّتش فشاں کا نام تھا۔ اس علاقے کو قدرت نے سونے ، تانبے اور شیل گیس جیسی نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی سونے کی کان جسے ریکوڈک کے نام سے بھی جانا جاتا ہے یہیں واقع ہے- اور اس کان میں اتنی زیادہ مقدار میں سونا موجود ہے کہ اسے نکالنے میں 50 سال سے زائد کا عرصہ لگ سکتا ہے-سونے کے یہ پہاڑ 100 کلومیٹر سے زائد کے رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں-سونے کے یہ پہاڑ 100 کلومیٹر سے زائد کے رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں- تاہم یہ پہاڑ مختلف تنازعات کا شکار چلے آرہے ہیں اور اب تک ان سے کوئی خاص فائدہ نہیں اٹھایا جاسکا- نتیجہ یہ ہے کہ سونے کے پہاڑ ہونے کے باوجود آج بھی ہمارا ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے اور مزید قرض لینے کا خواہشمند ہے-
image
YOU MAY ALSO LIKE: