سب سے پہلے پاکستان کا حامی ملک کا محسن عوام کا غمخوار
اور سرسید کا ہمسایہ پرویزمشرف اس مٹی کا بیٹا تھا جو اسی مٹی کے حوالے
کردیا گیا مشرف وہ مرد آہن تھا جس نے آمر ہوتے ہوئے بھی بنیادی جمہوریت کا
بہترین نظام دیا اور آزاد میڈیا کی بنیادرکھی اور تو اور مشرف کے تاریخی
دور میں ہی ہم موبائل نیٹ ورک سے آشنا ہوئے ورنہ پی سی او سے 10روپے یونٹ
بات کرنا اب شائد 50روپے یونٹ تک پہنچی ہوتی جنرل پرویز مشرف کشمیریوں کے
بھی عظیم محسن تھے 2005کے خوفناک زلزلے کے بعد جس تیزی سے متاثرین زلزلہ کی
بحالی اور آبادکاری کا کام انھوں نے کیا وہ ناقابل فراموش ہے بعد کی
حکومتیں اس چلتے ہوئے کام کو بھی مکمل نہ کرسکیں اور باقی ماندہ کام آج تک
نامکمل اور ادھورا ہے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جنرل پرویز مشرف کے اقدامات
سے کشمیریوں کو براہ راست ریلیف ملا انٹرا کشمیر ٹریڈ، انٹرا کشمیر ٹریول
اور ستر سال سے تقسیم شدہ خاندانوں کا ویزے اور پاسپورٹ کے بغیر ایک دوسرے
سے ملنا انکے عظیم کارناموں میں سے ایک ہے پرویز مشرف 11 اگست 1943 کو دہلی
برطانوی ہندوستان میں ایک اردو بولنے والے گھرانے میں پیدا ہوئے انکے والد
سید مشرف الدین اور ان والدہ بیگم زرین مشرف سرسید احمد خان کے ہمسایے بھی
تھے پرویز مشرف کے پردادا تمباکو کے تاجر تھے جنہوں نے پیران شہر سے برصغیر
پاک و ہند میں ہجرت کی تھی ان کا خاندان مسلمان تھا جو سید بھی تھے سید
مشرف نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن کیا اور سول سروس میں داخل
ہوئے جو کہ برطانوی دور حکومت میں ایک انتہائی باوقار کیریئر تھا پرویز
مشرف سرکاری افسران کی ایک لمبی قطار سے فوجی ملازمت میں داخل ہوا کیونکہ
اس کے پردادا ٹیکس جمع کرنے کی ملازمت کیا کرتے تھے جبکہ ان کے نانا قاضی (جج)
تھے مشرف کی والدہ زرین بیگم جو 1920 کی دہائی کے اوائل میں پیدا ہوئیں اور
لکھنؤ میں پلی بڑھی وہیں اسکول کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد انہوں نے دہلی
یونیورسٹی کے اندرا پرستھ کالج سے انگریزی ادب میں بیچلر کی ڈگری حاصل کرنے
کے بعد شادی کی تو اپنے آپ کو ایک خاندان کی پرورش کے لیے وقف کر دیا پرویز
مشرف کے والد ایک اکاؤنٹنٹ تھے جنہوں نے برطانوی ہندوستانی حکومت میں فارن
آفس میں کام کیا اور آخر کار اکاؤنٹنگ ڈائریکٹر بن گئے پرویز مشرف تین بچوں
میں دوسرے نمبر پر تھے روم میں مقیم ان کے بڑے بھائی جاوید مشرف ایک ماہر
معاشیات ہیں اور انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈویلپمنٹ کے ڈائریکٹرز میں
سے ایک ہیں ان کے چھوٹے بھائی نوید مشرف ریاستہائے متحدہ امریکہ کی ریاست
الینوائے میں مقیم ایک اینستھیزیولوجسٹ ہیں ان کی پیدائش کے وقت مشرف کا
خاندان ایک بڑے گھر میں رہتا تھا جو ان کے والد کے خاندان سے تعلق رکھتا
تھا جسے نہر والی حویلی کہا جاتا تھا، جس کا مطلب ہے ''نہر کے ساتھ والا
گھر'' جہاں سر سید احمد خان کا خاندان بھی ساتھ ہی رہتا تھا جنرل پرویز
مشرف ایک نامور پاکستانی فوجی افسر، سیاست دان اور پاکستان کے دسویں صدر
تھے انہوں نے 1998 سے 2001 تک 10ویں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور
1998 سے 2007 تک 7ویں چیف آف آرمی سٹاف کے طور پر بھی خدمات انجام دیں
برطانوی راج کے دوران دہلی میں پیدا ہونے والے مشرف کی پرورش کراچی اور
استنبول میں ہوئی انہوں نے لاہور کے فارمن کرسچن کالج سے ریاضی کی تعلیم کے
ساتھ ساتھ برطانیہ کے رائل کالج آف ڈیفنس اسٹڈیز سے بھی تعلیم حاصل کی مشرف
نے 1961 میں پاکستان ملٹری اکیڈمی میں داخلہ لیا 1964 میں پاکستان آرمی کی
آرٹلری رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا مشرف نے 1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران
ایک سیکنڈ لیفٹیننٹ کے طور پر کارروائی دیکھی اور 1980 کی دہائی تک وہ
آرٹلری بریگیڈ کی کمانڈ کی 1990 کی دہائی میں مشرف کو میجر جنرل کے عہدے پر
ترقی دی گئی اور ایک انفنٹری ڈویژن تفویض کیا گیا بعد میں سپیشل سروسز گروپ
کی کمانڈ کی ڈپٹی ملٹری سیکرٹری اور ملٹری آپریشنز کے ڈائریکٹر جنرل کے طور
پر بھی خدمات انجام دیں 1998 میں وزیر اعظم نواز شریف نے انہیں فور سٹار
جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر مسلح افواج کا سربراہ بنادیا بعد میں میاں نواز
شریف اور مشرف کے درمیان کئی مہینوں کے متنازعہ تعلقات کے بعد میاں
نوازشریف نے مشرف کو فوج کے سربراہ کے طور پر ہٹانے کی ناکام کوشش کی تو اس
فیصلہ کو فوج نے قبول نہ کیا مشرف ابتدائی طور پر چیئرمین جوائنٹ چیفس اور
چیف آف آرمی سٹاف رہے وہ 2007 میں ریٹائر ہونے تک آرمی چیف رہے مشرف نے
2002 میں آئین کو بحال کیا ظفر اﷲ جمالی اور بعد میں شوکت عزیز کو وزیر
اعظم مقرر کیا اور دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں کی نگرانی کی مشرف نے اپنے
روشن خیال اعتدال پسند پروگرام کے تحت سماجی لبرل ازم کو آگے بڑھایا اور
معاشی لبرلائزیشن کو فروغ دیا مشرف کی صدارت کے دوران مجموعی قومی پیداوار
میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا پرویز مشرف اپنے دور صدارت میں کئی قاتلانہ
حملوں میں بچ گئے جب شوکت عزیز وزیر اعظم کے طور پر رخصت ہوئے اور 2007 میں
عدلیہ کی معطلی کی منظوری کے بعد مشرف کی پوزیشن ڈرامائی طور پر کمزور ہوئی
تو 2008 میں مواخذے سے بچنے کے لیے انہوں نے اپنا استعفیٰ پیش کرتے ہوئے
مشرف نے خود ساختہ جلاوطنی میں لندن ہجرت کی بعد میں پروزی مشرف 2013 کے
عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے وہ پاکستان واپس آئے لیکن ملک کی اعلیٰ
عدالتوں کی جانب سے نواب اکبر بگٹی اور بے نظیر بھٹو کے قتل میں مبینہ طور
پر ملوث ہونے کے الزام میں ان کے اورشوکت عزیز کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے
جانے کے بعد انہیں اس میں حصہ لینے سے نااہل قرار دے دیا گیا 2013 میں میاں
نواز شریف کے دوبارہ منتخب ہونے پر انہوں نے مشرف کے خلاف ایمرجنسی کے نفاذ
اور 2007 میں آئین کو معطل کرنے کے لیے سنگین غداری کے الزامات کا آغاز کیا
مشرف کے خلاف مقدمہ 2017 میں نواز شریف کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد بھی
جاری رہا اسی سال جب مشرف کو دبئی منتقل ہونے کی وجہ سے بھٹو قتل کیس میں
''مفرور'' قرار دیا گیا توغیر حاضری پرغداری کے الزام میں سزائے موت سنائی
گئی بعد میں لاہور ہائی کورٹ نے سزائے موت کو کالعدم قرار دے دیا تھا پرویز
مشرف 5 فروری 2023 کو دبئی کے امریکن ہسپتال میں 79 سال کی عمر میں
ایمیلائیڈوسس کے طویل کیس میں مبتلا رہنے کے بعد انتقال کر گئے اﷲ تعالی سے
دعا ہے کہ وہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے اور اہلخانہ سمیت
تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے آمین۔
|