ڈریم آف امریکہ(سوانحی ناول)۔سلمان اکبر تعارفی تقریب

صداتی کلمات!
مہمان محترم، صدر۔ شعبہ سوشل ورک، جامعہ کراچی،اساتذہ، نیشنل لائبریری ایسو سی ایشن کے ذمہ داران (صدر مظفر شاہ اور انور حسین)،مہما نانِ گرامی، میرے ہم پیشہ ساتھیو، شعبہ سوشل ورک کے اساتذہ و طلباء، ڈریم آف امریکہ کے ناول نگار سلمان اکبر صاحب(جواس وقت محفل میں موجود نہیں)، ان کی نمائندگی محترمہ سلمہ راشدفرمارہی ہیں)،مقررین جنہوں نے کتاب پر اپنے خیالات کا اظہار کیا، سامعینِ محترم!
السلام علیکم!
ڈریم آف امریکہ(سوانحی ناول)۔سلمان اکبر
تعارفی تقریب
زیر اہتمام شعبہ سوشل ورک، جامعہ کراچی اورنیشنل لائبریری ایسو سی ایشن(رجسٹرڈ)
٭
ڈاکٹر رئیس صمدانی
پروفیسر ایمریٹس: منہاج یونیورسٹی، لاہور
صداتی کلمات!
مہمان محترم، صدر۔ شعبہ سوشل ورک، جامعہ کراچی،اساتذہ، نیشنل لائبریری ایسو سی ایشن کے ذمہ داران (صدر مظفر شاہ اور انور حسین)،مہما نانِ گرامی، میرے ہم پیشہ ساتھیو، شعبہ سوشل ورک کے اساتذہ و طلباء، ڈریم آف امریکہ کے ناول نگار سلمان اکبر صاحب(جواس وقت محفل میں موجود نہیں)، ان کی نمائندگی محترمہ سلمہ راشدفرمارہی ہیں)،مقررین جنہوں نے کتاب پر اپنے خیالات کا اظہار کیا، سامعینِ محترم!
السلام علیکم!
کسی بھی مصنف کی غیر موجودگی میں اس کی تصنیف کا تعارفی تقریب کا انعقاد ایک خوش آئند بات ہے۔ اس کے لیے نیشنل لائبریری ایسو ایشن، شعبہ سماجی بہبود، جامعہ کراچی اور محترمہ سلمہ راشد قابل مبارک باد ہیں۔ مقررین نے کتاب پر سیر حاصل گفتگو کی۔ ان کی گفتگو سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ کتاب مصنف کے خواب کو سچ کرنے اور امریکہ تک پہنچنے کی کوششوں کو بہت عمدہ انداز سے بیان کرتی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آج کی تقریب میں میرے ہم پیشہ احباب کی اکثریت ہے۔ بہت عرصہ بعد یہ موقع مل رہا ہے کہ میں اپنے ہم پیشہ سے مخاطب ہوں۔پہلے کچھ باتیں کہانی، قصہ گوئی اور ناول کے حوالے سے ضروری معلوم ہوتی ہیں۔
کہا نی اور قصہ گوئی سے انسان کی وابستگی ایک جبلی تقاضا ہے۔ کہانیاں ہماری تہذیب و ثقافت کا لازمی جذو ہیں، انسانی زندگی کا کوئی دور ایسا نہیں گزرا جس میں قصہ گوئی نہ ملتی ہو، کہاجاتا ہے کہ کہانی کا وجود اس وقت سے ہے جب سے انسان ہے، اور انسان اور سماجی زندگی لازم و ملزوم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کہانی کی پیدائش اور ارتقائی حیثیت سماجی ہے۔ میں بطور عمرانیات کے طالب علم کے یہ کہہ سکتا ہوں کہ انسانی جبلت قصے، عادات و اطواراور کہانیوں سے دلچسپی لینے میں فطری طور پر مجبور ہے۔جہاں تک کہانی میں اداسی، یاسیت اور قنوطیت کا تعلق ہے تویہ ہر انسان میں کم یا زیادہ پائی جاتی ہے۔ لکھاری کیونکہ حساس دل لیے ہوتا ہے، بعض لکھاری اپنی زندگی کے حالات اور واقعات کے اثرات کے باعث اس کی تحریر میں یاسیت، افسردگی اور پژمردگی جیسے رویے کا اظہار ہوتا ہے۔زندگی نے جیسے جیسے ترقی کی کہانی کا انداز بھی بدلتا گیا شروع شروع میں یہ قصے کہانیاں نانیاں دادیاں سنایا کرتی تھیں، پھر زندگی نے کروٹ لی اور یہی کہانیاں اور قصے قرطاس پر منتقل کیے جانے لگے۔کہانی کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ نثری ادب کی جتنی بھی اقسام ہیں جیسے قصہ، داستان، واقعات، ناول، افسانہ، ڈراما، حکایت، تمثیل، انبیاء کے قصے، کہانی ان سب کی بنیادکہانی ہے۔البتہ ہرایک صنف اپنے اپنے طور پر مختلف خصوصیات رکھتی ہیں۔ یہاں ان کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں، اپنی بات کو کہانی سے ناول نگاری تک ہی محدود رکھتے ہوئے اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ کہانی ادب کی ایک ایسی صنف ہے جس کا سفر اس کی پیدائش سے آج تک جاری ہے، اس کہانی نے کئی اصناف کو جنم دیا لیکن خود اپنی جگہ جوں کی توں چٹان کی مانند کھڑی رہی۔کہا نی کی عمراتنی ہی ہے جتنی حضرت انسان کی عمرہے البتہ ناول اور افسانہ کی عمر سو سال سے اوپربیان کی جاتی ہے۔ ادب کی ان اصناف میں افسانہ کو قاری کی چاہت ایسے ہی حاصل ہے جیسے شاعری میں غزل کو ہے، اسی طرح ناول سے بھی ناول نگاروں اور ناول کے قارئین کا تعلق بدستور قائم ہے۔
ناول ہو یا افسانہ دونوں کی کڑیاں کہانی، داستان اور قصہ گوئی سے جاملتی ہیں۔ ناول بنیادی طور پر داستان کی جدید شکل ہے۔ کہانی مختصر تھی، افسانہ کچھ بڑا ہوا، ناول نے کہانی کو وسیع تر مفہوم میں پیش کیا۔ ناول میں زندگی اور اس سے جڑے بے شمار مصائب و مشکلات، خوشی و غمی کی حقیقتوں اورزندگی کی سچائی کو ادبی چاشنی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔نثری ادب کی جتنی بھی اقسام ہیں کہانی ان سب کی اساس ہے۔ ناول بنیادی طور پر مغربی صنف ہے، اردو میں داستان کے بعد اس نے اپنے پر پرزے نکالے،لیکن اس میں اتنی جان تھی کہ اس نے دیگر اصناف کو اپنے پیچھے لگالیااب یہ اردو ادب کا سب سے طاقت ور اور بڑا سرمایا ہے۔ اس نے ادب میں اپنی خصوصیات کے باعث عصری ادب میں اعتبار پیدا کیا۔نظم میں غزل اور نثر میں ناول اصناف میں صف اول پر حکمرانی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ناول ڈیڑ سو سال سے زیادہ کا سفر طے کرچکا ہے۔ اس طویل دور میں معروف ناول نگار سامنے آئے اور ان کے لکھے ہوئے نال بے حد مقبول بھی ہوئے۔ متعدد اردو ناول نگار وں نے ناول کی حقیقت کا لوہا منوایا ہے ان میں ڈپٹی نذیر احمدکو اردو کا پہلا ناول نگار اور ان کے ناول ’مراۃ العروس (1869ء) کو پہلا ناول تسلیم کیاجاتا ہے، ان کے ناول’توبتہ النصوح‘ اور’ابن الوقت‘کو شہرت حاصل ہے۔ ان کے علاوہ مرزا ہادی رسوا اور ان کا ناول’امراؤ جان ادا‘، عبد الحلیم شررکا ناول ’فروس بریں‘، پریم چند کے ناول ’میدان عمل‘، ’گنودان‘ معروف ہیں، علاوہ ازیں رتن ناتھ سرشار، پریم چند، قرۃ العین حیدر، عزیز احمد،انتطار حسین، عصمت چغتائی، عبد اللہ حسین، نسیم حجازی، مصتنصر حسین تارڑ، بانوقدسیہ،شوکت صدیقی اور دیگر ناول نگاری میں معروف ہیں۔
حاضرین محفل!
اب سلمان اکبر کے ناول ’ڈریم آف امریکہ‘ کی بات کرتا ہوں جو کہ ایک سوانحی ناول ہے۔ ماہرین ادب نے ناول کی کئی قسمیں بیان کی ہیں ان میں اصلاحی ناول، سماجی ناول،سیاسی ناول،تاریخی ناول، مہماتی ناول، جاسوسی ناول، نظریاتی ناول اور سوانحی ناول۔سلمان اکبر صاحب کا خواب تھا کہ وہ امریکہ جائیں اور وہ گئے، انہوں نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا، کیسے؟ کن حالات میں، کیا کیا مشکلات پیش آئیں، کس طرح ایک ایک سیڑھی چڑتے ہوئے انہوں نے اپنی خواہش کی تکمیل کی۔ ناول نگار نے از خود اپنے آپ کو خواب نگر کا ’مجنوں‘ اور ’جیون گلی کا ’فرہادی‘ لکھا ہے۔ یعنی امریکہ سے انہیں شدید عشق ہوگیا تھا اور ان کے زندگی میں امریکہ، امریکہ اور امریکہ ہی تھا، انہوں نے اپنے اس مقصد کو خواب کا نام دیا، اس خواب کو سچ کر دکھایا،یہ ان کے برسوں کی جدوجہد، لگن اور محنت کی کہانی ہے۔
در اصل تو یہ ان کی آپ بیتی کا ایک حصہ ہے جسے ناول نگار نے مختلف عنوانات کے تحت قلم بند کیاہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے بڑی محنت، فنی رموز، ادبی چاشنی کو ملحوز خاطر رکھتے ہوئے زندگی کے اس مخصوس حصہ کو خوبصورتی سے قلم بند کیاہے۔ ہماری زندگی بے شمار اور مختلف ادوار کا مجموعہ ہوتی ہے۔ زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں،خوشی اور غمی، دکھ سکھ غرض نشیب و فراز سے دو چار ہوکر زندگی کا اختتام ہوتا ہے۔ زندگی کے انہی معمالات کو اگر قلم بندکر لیا جائے تو وہ آپ بیتی کہلاتی ہے۔ آپ کی آپ بیتی کوئی اورتحریر کرے تو سوانح حیات کا نام دیاجاتا ہے۔ آپ بیتی ادب کی اصناف کی مقبول صنف ہے۔ آپ بیتی کوناول کی طرز پر بھی لکھا جاتا ہے جیسا کہ سلمان اکبر صاحب نے اپنی آپ بیتی کے ایک پہلو یعنی امریکہ کے خواب کو اپنی تحریر کاحاصل بنایا اس میں وہ مکمل طور پر کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔ دراصل مربوط واقعہ ناول کی کلیدی ضرورت ہوتا ہے جب کہ ناول کی تحریر میں روانی ناول کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ کسی بھی قصہ کی مختلف کڑیوں کو ہنر مندی کے ساتھ ایک ایک کر کے باہم جوڑنا ناول کا پلاٹ کہلاتا ہے۔ پیش نظر ناول میں ہمیں امریکہ کا خواب مربوط قصہ دکھائی دیتا ہے جب تحریر میں روانی بھی پائی جاتی ہے اور وہ ناول نگار اپنے خواب کے قصے کی مختلف کڑیوں کو باہم جوڑنے اور اسے مکمل کرنے میں کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔ اس لیے ناول کی جو ضروریات ہوتی ہیں وہ سلمان اکبر نے پوری کی ہیں۔ چنانچہ ڈریم آف امریکہ ایک اچھے ناول کی خصوصیات پر پورا اتر تا ہے اور ایک دلچسپ ناول ہے ساتھ ہی ایک مصنف کی آپ بیتی بھی۔ (29نومبر2023ء)


Prof. Dr Rais Ahmed Samdani
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 850 Articles with 1241562 views Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More