گہری رات اور LGTBQ

رات کیا ہوتی ہے؟
جو کسی کی آنکھ سے نکلے ندامت کے خاموش آنسو. تو  کہی کسی کی زبان سے نکلی  سیدھا عرش پر جاتی خاموش آہ.،کہی کسی کی آبرو پامال کرتے نفس، تو کہی تہجد کے خاص و خاص کے سجدے، کہی جوانی کے نشے میں ڈھوبے کبیرہ گناہ کا ارتکاب، کہی گانوں کی دھن پہ نچتے نفسوں کا شور تو کہی نیند کے مہربان آغوش میں لییٹے وجود کی خاموشی نیز ایسے ہی کئ راز ڈھکتی چھپاتی رازوں پہ اللہ کو گواہ بناتی ڈھلکتی چلی جاتی سیاہی کا نام رات ہے.  ہاں رات رازدارہوتی ہے. جو اپنے اندر ہر سیاسی ہر سفیدی کو ڈھانپ لیتی ہے.
ایسی ہی سیاہی سفیدی میں ڈوبی گہری تاریک رات اسلامی جمہوریہ پاکستان کے "دل شہرِ لاہور" میں ایک مشہورِ زمانہ تنطیم جو کہ خالیہ  "LGBTQ'' کے نام سے جانی جا رہی ہے ایک نہایت ہی فاحش پارٹی منعقد کرواتی ہے جس میں نہات
نازیبا اور فاحش حرکتیں کی جاتی ہیں. حال تو یہ ہے اُنہیں روکنے والا کوئی ہے ہی نہیں. کیوں؟
انہیں روکا اس  لیے نہیں جا رہا ہے کیونکہ ان کی fundings باہر  کے ممالک سے آتی ہے جو اس کمیونٹی کو ناصرف فنڈز دے رہی ہے بلکہ اسے پروموٹ بھی کر رہے ہیں. ایسا میں نہی کہ رہی  آپ اگر BBC news یا باہر کی کسی بھی نیوز کی طرف اپنی نظر ڈالیں تو آپ دیکھ پائیں گے کہ وہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ '' LGBTQ'' پاکستان کی ایک ایسی مظلوم  کمیونٹی جس کہ حقوق پاکستان نہیں دیتا، ان پہ ظلم کئے جاتے ہیں ان کو ٹاچر کیا جاتا ہے ان کی زندگی تنگ کی جاتی ہے ان کے علاج نہیں ہو پاتے، انہیں تعلیم نہیں لینے دی جاتی مُختصر یہ کہ ان کے بنیادی حقوق تک ادا نہیں کیے جاتے تبھی انہیں فنڈنگ کی جاتی ہے تاکہ ان کی بنیادی ضروریات پوری کی جا سکیں.
اگر دیکھا جائے تو یہ بات سچ ہے خواجہ سرا کمیونیٹی کے بنیادی حقوق پورے نہیں کیے جاتے جس کی وجہ سے ان کو اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نچنا گانا مانگنا یہاں تک کہ جسم بھی بیچنا پڑتا ہے. لیکن جن کو مظلوم باہر کے ممالک کہتے ہے ان کی کمیونٹی کے LGBTQ لفظ پہ غور کیا جائے  تو L for lesbian G for Gay  B for Bisexual T ''
for  transgender  and Q for Questioning or Queer
ان میں سے کوئی بھی مظلوم نہیں ہے ہم  جنس پرستی میں مبتلا یہ لوگ صرف اور صرف فحاشی پھیلا رہے ہیں اور اسی کام کو پھیلانے کے پیسے یہ فنڈز کے نام پہ لیتے ہیں. لاہور میں ہونے والی پارٹی میں ہم جنس پرستی ہی دکھائی اور پھیلائ گئ تھی وہاں موجود لوگ وہ TRANSGENDER تھے جنہوں نے اپنے آپ کو مردوں سے عورتوں میں اور عورتوں سے مردوں میں تبدیل کیا ہے. یہ کمیونٹی بہت تیزی سے پھیلتی ہی چلی جا رہی ہے. جا بجا سوشل میڈیا پر سڑکوں پر ہر جگہ ایسے لوگ نظر آتے ہیں جو ہم جنس پرستی میں مبتلا ہیں. مردوں نے  عورتوں جیسا اور عورتوں نے مردوں جیسا بننا اور دھکنا شروع کر دیا ہے. ان لوگوں کو دیکھ کے ان سے Inspired ہو کے رفتہ رفتہ ہر دوسرے شخص نے یہی سب کرنا شروع کر دیا ہے. Lesbian ہونا gay ہونا اب اس بات کو لوگ جسٹیفائی کرنے لگے ہیں کہ یہ سب ہم میں ہے ہمیں بنایا ہی ایسا گیا ہے ہمارا کیا قصور؟ بات اتنی نہیں رہی بات اتنی بڑھ گئی ہے کہ نوجوان  نسل جو ہم جنس پرستی کا شکار ہو چکی ہے  کہ وہ  اللہُ سے اس قدر بد گمان ہوگئے ہیں کہ دین اسلام کو بھی چھوڑ دینا چاہتے ہیں. انہیں لگتا ہے کہ اسلام نہ ہم جنس پرستی سے منع کیا ہے تو غلط کیا ہے نعوذبااللہ اللہُ بس پابندی عائد کر دیتا ہے یہ حرام وہ حرام. ان کے مطابق اللہُ کے دین کی وجہ سے وہ اپنی مرضی سے نہیں جی سکتے. اسلام کو چھوڑ دیں گئے تو اپنی نفسی خواہشات کو پورا کر سکے گئے. انہیں لگتا ہے اسلام ایک قید خانہ ہے اور سواے پابندیوں کے کچھ بھی نہیں. یہ کیسا دین ہے جو انہیں کھل کے جینے بھی نہ دے.
تو یہ وہ سنگین نتائج ہے LGBTQ کمیونٹی کی فحاشی کے. اور یہی مقصد ہے فنڈنگ دینے والوں کا فقط '' اسلام سے دوری''.
اللہُ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے کہ:
اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةًؕ-فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِؕ-اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ(23)
ترجمہ:
بھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا ٹھہرایا اور اللہ نے اُسے باوصف علم کے گمراہ کیا اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈالا تو اللہ کے بعد اُسے کون راہ دکھائے تو کیا تم دھیان نہیں کرتے.

اس آیت سے معلوم ہوا کہ نفسانی خواہشات کی پیروی دنیا اور آخرت دونوں  کے لئے بہت نقصان دہ ہے۔ نفسانی خواہشات کی پیروی کی مذمت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ‘‘(قصص:۵۰)
ترجمۂ:
اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اللہ کی طرف سے ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کی پیروی کرے۔
اور ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ لَا تَتَّبِـعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ‘‘(ص:۲۶)
ترجمۂ:
اور نفس کی خواہش کے پیچھے نہ چلنا ورنہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکادے گی بیشک وہ جو اللہ کی راہ سے بہکتے ہیں  ان کے لیے سخت عذاب ہے اس بنا پر کہ انہوں  نے حساب کے دن کو بھلا دیا ہے۔
اور ارشاد فرماتا ہے:
’’ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا‘‘(کہف:۲۸)
ترجمۂ:
اور اس کی بات نہ مان جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام حد سے گزر گیا۔
ان آیات کو دیکھتے ہوئے ہمیں علم ہوتا ہے کہ نفسی خواہشات میں مبتلا ہو کر انسان عذابِ اللہی کو دعوت دیتا ہے. LGTBQ ایک ایسی ہی کمیونٹی ہے جو نوجوان نسل کو hunt کر رہی ہے.اللہنے نے ان کے دلوں پر مُہریں  لگا دیں ہیں.اب جو بھی ان میں شامل ہو گا اللہ کے عذاب کو دعوت دے گا.
وہ جو کہتے ہیں اسلام قید ہے اسلام قید نہیں ہے اسلام نے وہی چیزیں حرام کرار دیں ہیں جو نوے انسان کے لیے نقصان دہ ہے. اب ہمارا معاشرہ اس نہج پہ آچکا. ہے جہاں گناہ اس قدر عام ہو چکے ہیں کہ گناہ کو گناہ سمجھا ہی نہیں جاتا.
ہم جنس پرستی میں مبتلا لوگ غلط کہتے ہیں کہ ان کے دلوں کو ایسا بنایا گیا ہی ک وہ ہم جنس پرستی کی طرف اٹریکٹ ہوتے ہیں اللہ نے جس چیز سے منع فرمایا ہے وہ اس کہ خیال کو کیونکر کسی کے دل میں ڈالے گا. یہ انسان کی اپنے دماغ کا گند ہے اور کچھ بھی نہیں. جو نسل سوشل میڈیا پر یہ گند دیکھ کر جوان ہو گی ان کی دماغ میں یہی سوچ آیے گئ اور اُنہیں یہی سب درست لگے گا. خدارا اپنی نسل دین اسلام کے قریب کریں. ان کی inspiration صحابہ اکرام اللیہ سلام کو بنائیں ان کے دلوں میں اللہ کی محبت ڈالیں انہیں مولویوں کے سر پہ نہ چھوڑیں جو اُنہیں صرف یہ سیکھاتے ہے کہ نماز نہ پڑھی تو کافر ہو جاو گے، نماز روزے اور فرقہ واریت سے آگے نہیں بڑھتے. ان کے دل میں اللہ کی محبت ڈالیں تاکہ وہ اللہ کے خوف سے نہیں اللہ کہ محبت میں نماز پڑھیں. ان کو اللہ کے قریب کریں اور ان کی ایسی دینی اور دنیاوی تربیت کریں کہ ایسی تنظیمیں آپ کے بچوں کو اللہ سے دور نہ کر سکیں. ان کی سوشل میڈیا ایکٹیویٹی پے نظر رکھیں تکہ ان کے  معصوم ذہن غلاظت کا حصہ نہ بن جائیں. انہیں اچھے اور برے کا فرق بتائیں ان قرآن و حدیث کی تعلیم بڑی محبت سے دیں. کچی عمر میں پکی قرآن و سنت کی انہیں عادت ڈالیں تاکہ بڑے ہونے تک انہیں عبادت بوجھ نہ لگے. اپنے بچوں کو اس تنظیم کہ مقصد سے  اور اپنی اپنی آخرت بچا لیں.
از کلم:
حمنہ جہانگیر

 

Hamna Jehangir
About the Author: Hamna Jehangir Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.