مت چھیڑ ان زخموں کو جو برسوں کی خاموشی میں سہمے پڑے ہیں۔ مت چھو ان تاروں کو جو دل کے اندر کہیں گہرائی میں جلتے بجھتے رہتے ہیں۔ میں نے بہت کوشش کی ہے کہ یہ دل اب کسی درد کی صدا پر کان نہ دھرے، مگر تو جانتا ہے نا، کچھ دُکھ ایسے ہوتے ہیں جو سانسوں کے ساتھ جڑ جاتے ہیں، جنہیں بھلانا ممکن نہیں ہوتا۔ میرے غم کے تار مت چھیڑ، یہ بجتے نہیں، جلتے ہیں۔ ہر نوٹ کے ساتھ کوئی یاد اُبھرتی ہے، کوئی چہرہ، کوئی لمحہ، کوئی خاموش نگاہ جو دل کو چھلنی کر دیتی ہے۔ میں وہ سب بھول جانا چاہتا ہوں، جو کبھی میری ذات کا حصہ تھا۔ مگر یہ دل ہے کہ مانتا نہیں۔ یہ ہر چھوٹی سی خوشبو میں ماضی کی یاد ڈھونڈتا ہے، ہر خاموش رات میں کسی کھوئے ہوئے نام کو پکارتا ہے۔ تمہیں کیا خبر، یہ وحشتیں کیا ہیں! یہ اندھیرے، یہ سناٹے، یہ دل کی وہ گونج جو کسی اور کو سنائی نہیں دیتی۔ جب تنہائی اپنے پورے وجود کے ساتھ سینے میں اترتی ہے تو سانس لینا بھی اذیت بن جاتا ہے۔ میں نے خود کو سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ یہ سب وقت کا کھیل ہے، مگر وقت نے ہی سب کچھ چھین لیا۔ مت چھیڑ میرے غم کے تار، کہ یہ دل اب نازک نہیں رہا، بس تھک چکا ہے۔ اب اس میں اتنی طاقت نہیں کہ ایک اور یاد کا بوجھ اٹھا سکے۔ میری وحشتوں کا خیال کر، میں اب ایک خاموش سا انسان ہوں، جو بولتا نہیں مگر اس کے اندر طوفان اٹھتے ہیں۔ میں ہنستا ہوں مگر اندر کہیں چیخیں گونجتی ہیں، میں چلتا ہوں مگر ہر قدم خالی لگتا ہے۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر میں واقعی بول پڑوں، تو شاید یہ دنیا میری باتیں سن نہ پائے۔ میری زبان نہیں، میرا درد بولے گا، اور وہ آواز کسی کے لیے برداشت کرنا آسان نہیں۔ تو پلیز، مت چھیڑ۔ مجھے میری خاموشی میں رہنے دے۔ یہ سکوت ہی میرا واحد سہارا ہے۔ اگر یہ بھی ٹوٹ گیا تو شاید میں بکھر جاؤں گا۔ میری وحشتوں کا خیال کر، وہ بہت نازک ہیں، بہت تھکی ہوئی۔ اب اگر ایک لمحے کو بھی انہیں کسی نے ہلایا تو شاید یہ دل ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے۔ تو سن، اے میرے خاموش ہمراز، میں یہ لفظ لکھتے ہوئے خود سے لڑ رہا ہوں۔ یہ دل چاہتا ہے سب کہہ دوں، سب اُگل دوں، مگر زبان رک جاتی ہے۔ کچھ باتیں کہنے کے لیے نہیں ہوتیں، وہ صرف محسوس کی جاتی ہیں اور میری ہر بات، ہر احساس اب صرف تیری خاموشی میں قید ہے۔ تو کبھی جان سکے تو جان لینا، کہ میں نے تیری یاد کے بوجھ تلے جینا سیکھ لیا ہے۔ ہاں، جینا، مگر جینا بھی تو ایک عذاب ہی بن گیا ہے۔ میں نے اپنے دل کو سمجھایا کہ اب وہ وقت گزر گیا، مگر وقت گزرتا کہاں ہے؟ وقت تو بس بہانے بدلتا ہے، دکھ وہی رہتے ہیں۔ رات کی تنہائی میں جب بارش کھڑکی پر ہلکے ہلکے دستک دیتی ہے، تو وہی چہرہ ذہن میں آتا ہے، وہی نرمی، وہی سکون۔ مگر اب میں جانتا ہوں کہ وہ چہرہ میری پہنچ سے باہر ہے، جیسے دعا آسمان تک جا کر کہیں تھم جاتی ہے۔ میں اب التجائیں نہیں کرتا، بس خاموشی سے سانس لیتا ہوں، کہ شاید یہی میری عبادت ہے، تیری یاد کے ساتھ جینا۔ میرے غم کے تار مت چھیڑ، کہ ان میں ہر ساز کی جگہ ایک چیخ دفن ہے۔ میں نے خود کو بہت سنبھال لیا ہے، بہت مضبوط ظاہر کیا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ میں اندر سے راکھ ہو چکا ہوں۔ اگر تو دوبارہ میرے قریب آیا، اگر تیری یاد نے ایک لمحے کو بھی جھلک دکھائی، تو میں بکھر جاؤں گا۔ تمہیں کیا خبر، میں نے کتنی راتیں جاگ کر گزاریں، کتنی دعائیں مانگیں جن کا صلہ خاموشی میں ملا۔ میں چاہتا تھا کہ تو ایک بار پلٹ کر دیکھ لے، ایک بار کہہ دے کہ سب ٹھیک ہو جائے گا، مگر اب وہ پل بھی گزر گیا ہے۔ اب باقی ہے تو بس وحشت، خاموشی، اور یہ ہاتھ جو کبھی تھمتا نہیں، کیونکہ شاید لکھنا ہی میری آخری پناہ ہے۔ میں اب اپنے درد کو لفظوں میں قید کر کے سانس لیتا ہوں۔ یہ تحریریں، یہ جملے، میرے وجود کے نشان ہیں۔ جب میں نہ رہوں، تو شاید یہ لفظ گواہی دیں کہ کوئی شخص ایسا بھی تھا جو محبت کی انتہا تک گیا، اور پھر واپس نہ آ سکا۔ اس لیے، اے دنیا والو، میرے غم کے تار مت چھیڑنا۔ میری وحشتوں کا خیال کرنا۔ میں اب اپنے درد کے ساتھ جینے کا عادی ہو چکا ہوں، اور شاید یہی میرا سکون ہے، یہی میری سزا۔ |