نیا سال: امیدیں، وعدے اور ہماری ذمہ داریاں

یہ کالم نئے سال کی آمد کے موقع پر ذاتی اور معاشرتی ذمہ داریوں پر غور کرتا ہے، اور بتاتا ہے کہ امید اور عملی قدم کے بغیر تبدیلی ممکن نہیں۔
نیا سال: امیدیں، وعدے اور ہماری ذمہ داریاں

نیا سال آتے ہی گھڑی کی سوئیاں جیسے ہمیں آہستہ سے یہ احساس دلاتی ہیں کہ وقت ہمارے انتظار میں نہیں رکتا۔ کیلنڈر کا ایک اور صفحہ پلٹ جاتا ہے، اور ہم رسمِ دنیا نبھاتے ہوئے ایک دوسرے کو نیا سال مبارک کہہ دیتے ہیں۔ مسکراہٹوں کے پیچھے کہیں امیدیں جاگتی ہیں، کہیں دل کے کسی کونے میں دبے ادھورے خواب پھر سے سانس لینے لگتے ہیں۔ مگر اس شورِ مبارکباد میں ہم ایک بنیادی سوال اکثر بھول جاتے ہیں: کیا نیا سال صرف خوشی اور تمناؤں کا نام ہے، یا یہ ہمیں کسی بڑی ذمہ داری کی یاد دہانی بھی کراتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ ہم سب پچھلے سال کا بوجھ اٹھائے نئے سال میں داخل ہوتے ہیں۔ کچھ غلطیاں جو ہم جان بوجھ کر کر بیٹھے، کچھ فیصلے جو ہمیں کرنے چاہیے تھے مگر ہم نے ٹال دیے، کچھ پچھتاوے جو دل پر بوجھ بنے رہتے ہیں، اور کچھ خواب جو وقت کی گرد میں کہیں دھندلا گئے۔ نیا سال ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم لمحہ بھر کے لیے رکیں، شور سے ہٹ کر خود سے ایمانداری سے پوچھیں: کیا ہم واقعی پچھلے سال سے کچھ سیکھ پائے، یا ہم بس دن بدلتے دیکھتے رہے؟

ہم اکثر تبدیلی کے نعرے لگاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ملک بدل جائے، نظام درست ہو جائے، حالات بہتر ہو جائیں، لوگ بدل جائیں۔ مگر سچ یہ ہے کہ بڑی تبدیلی کبھی بھی باہر سے شروع نہیں ہوتی۔ وہ ہمیشہ انسان کے اندر جنم لیتی ہے۔ جب ہم سچ جانتے ہوئے بھی چپ رہنے کو آسان سمجھیں، جب ہم ناانصافی دیکھ کر نظریں چرا لیں، جب ہم غلط کو غلط کہنے کی ہمت نہ کر سکیں—تو پھر ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ مسئلہ صرف نظام کا نہیں، ہمارا اپنا بھی ہے۔

نیا سال وعدوں سے بھرا ہوتا ہے۔ ہم خود سے بھی وعدے کرتے ہیں اور دنیا سے بھی۔ ہم کہتے ہیں کہ اب ہم بدل جائیں گے، اب ہم بہتر بنیں گے، اب ہم ذمہ دار شہری بنیں گے۔ مگر افسوس کہ یہ وعدے اکثر چند دنوں سے زیادہ نہیں چلتے۔ جیسے ہی روزمرہ کی مصروفیات لوٹتی ہیں، ہم پھر انہی پرانی عادتوں، انہی پرانے رویّوں میں واپس چلے جاتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ ہم بڑے بڑے خواب تو دیکھ لیتے ہیں، مگر چھوٹے چھوٹے عمل کو اہم نہیں سمجھتے۔

حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اصل تبدیلی انہی چھوٹے کاموں سے جنم لیتی ہے۔ کسی کو عزت دینا، سچ بولنا چاہے نقصان ہی کیوں نہ ہو، اپنی باری کا انتظار کرنا، دوسروں کے حق کا خیال رکھنا، قانون کی پابندی کرنا، کمزور کے ساتھ کھڑا ہونا—یہ سب وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک مضبوط اور مہذب معاشرہ کھڑا ہوتا ہے۔ یہ کام مشکل نہیں، بس نیت، شعور اور تھوڑی سی ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔

نیا سال ہمیں امید بھی دیتا ہے۔ امید کہ مایوسی کے اندھیروں میں بھی کہیں نہ کہیں روشنی کی ایک کرن ضرور موجود ہے۔ امید کہ اگر ہم اپنی سوچ بدلنے کی کوشش کریں تو حالات بھی آہستہ آہستہ بدل سکتے ہیں۔ امید کہ آنے والا کل آج سے بہتر ہو سکتا ہے، بشرطیکہ ہم آج ذمہ داری کے ساتھ جینا سیکھ لیں۔

ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیا دے کر جا رہے ہیں۔ کیا ہم انہیں صرف شکایت کرنا سکھا رہے ہیں، یا مسئلہ حل کرنے کا حوصلہ بھی دے رہے ہیں؟ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ اپنے بڑوں کو کرتے دیکھتے ہیں۔ اگر ہم خود قانون توڑیں گے، بددیانتی کو معمول سمجھیں گے، اور غلط کو نظرانداز کریں گے، تو ہم آنے والے کل سے بہتری کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟

نیا سال ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم صرف خواہشوں پر اکتفا نہ کریں، بلکہ عملی قدم بھی اٹھائیں۔ یہ مان لینا کوئی کمزوری نہیں کہ ہم اکیلے سب کچھ نہیں بدل سکتے، مگر یہ مان لینا ضرور کمزوری ہے کہ ہم اپنے حصے کا کردار ادا کرنے سے بھی انکار کر دیں۔ شاید ہماری ایک چھوٹی سی کوشش، ہماری ایک درست بات، ہماری ایک ایماندارانہ حرکت کسی بڑے بدلاؤ کی شروعات بن جائے۔

آخر میں نیا سال ہم سب سے ایک خاموش مگر گہرا سوال کرتا ہے:
کیا ہم واقعی بدلنا چاہتے ہیں، یا ہم صرف وقت کے ساتھ بہتے رہنا چاہتے ہیں؟
اگر ہم نے اس سوال کا جواب دل سے دے دیا، تو یقین جانیں—یہ سال صرف نیا نہیں ہوگا، بلکہ واقعی بہتر بھی ہوگ

 

sania mehsood
About the Author: sania mehsood Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.