عالمی امن، مشترکہ ترقی اور چین کا کردار

عالمی امن، مشترکہ ترقی اور چین کا کردار
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

دنیا ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں غیر یقینی حالات، جغرافیائی کشیدگی، ماحولیاتی بحران اور معاشی دباؤ نے بین الاقوامی نظام کو شدید آزمائش سے دوچار کر رکھا ہے۔ ایسے میں عالمی سطح پر استحکام، تعاون اور ترقی کے لیے واضح سمت اور ذمہ دارانہ قیادت کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اسی پس منظر میں چین کی قیادت کی جانب سے عالمی امن، ترقی اور مشترکہ مستقبل کے تصور کو اجاگر کیا جا رہا ہے، جس کا اظہار صدر شی جن پھنگ کے 2026 کے آغاز پر جاری کردہ سالِ نو کے پیغام میں نمایاں طور پر دیکھنے میں آیا۔

چینی صدر نے اپنے پیغام میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ چین تمام ممالک کے ساتھ مل کر عالمی امن اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس کے دوران چین نے عالمی برادری کے لیے کھلے پن، مکالمے اور تعاون کی پالیسی پر ثابت قدمی سے عمل کیا اور تاریخ کے درست رخ پر کھڑا رہا۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب 2025 عالمی سطح پر بے یقینی اور انتشار کا سال ثابت ہوا، چین نے بات چیت کو ترجیح دی، باہمی فائدے پر مبنی تعاون کو فروغ دیا اور عالمی استحکام کے ایک مضبوط ستون کے طور پر اپنا کردار ادا کیا۔

عالمی حکمرانی میں چین کی سرگرم شرکت

چین نے خود کو بین الاقوامی نظام کے محافظ اور گلوبل پبلک پراڈکٹس فراہم کرنے والے ملک کے طور پر پیش کرتے ہوئے عالمی حکمرانی کے نظام میں اصلاحات کے لیے عملی اقدامات کیے۔ 2025 میں صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو کو اس حوالے سے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام وسیع مشاورت، مشترکہ شراکت اور اجتماعی فوائد کے اصولوں پر مبنی ایک زیادہ منصفانہ اور متوازن عالمی نظام کی تشکیل کا عملی خاکہ پیش کرتا ہے، جس سے عالمی برادری کی مشترکہ کوششوں کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔

ماحولیاتی حکمرانی کے شعبے میں بھی چین نے فعال کردار ادا کیا۔ پیرس معاہدے اور کھون مینگ۔مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک پر مکمل اور مؤثر عمل درآمد کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ 2035 کے لیے قومی طور پر متعین اہداف کا اعلان اور عالمی صاف توانائی تعاون شراکت داری کے قیام کی تجویز پیش کر کے چین نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کیے۔

چین نے اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی بھرپور حمایت جاری رکھی، چین۔اقوام متحدہ امن و ترقی فنڈ میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا اور متعلقہ شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھایا۔ اس کے علاوہ چین نے 30 سے زائد ممالک کے ساتھ مل کر ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے میں بین الاقوامی تنظیم برائے ثالثی کے قیام میں مدد فراہم کی، جس کا مقصد قانون کی بالادستی کے ذریعے عالمی امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔

کثیرالجہتی سفارت کاری اور شراکت داریاں

2025 میں چین نے سفارتی محاذ پر بھی نمایاں سرگرمی دکھائی۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس اور عالمی خواتین سمٹ کے اجلاس کی میزبانی کے ذریعے چین نے برابری، کھلے پن اور تعاون کی بنیاد پر عالمی شراکت داریوں کو مزید گہرا اور وسیع کیا۔ عالمی حکمرانی کے نظام میں بہتری کے لیے چین کی وابستگی نے دنیا کے سامنے اتحاد اور تقسیم، مکالمے اور محاذ آرائی، اور باہمی فائدے یا زیرو سم گیم کے درمیان ایک واضح انتخاب پیش کیا۔

جدیدیت، معیشت اور ٹیکنالوجی میں پیش رفت

صدر شی جن پھنگ نے اپنے پیغام میں چینی جدیدیت کی راہ پر حاصل ہونے والی نمایاں کامیابیوں کو بھی اجاگر کیا۔ 2025، چودھویں پانچ سالہ منصوبے (2021-2025) کی تکمیل کا سال تھا، جس کے دوران چین کی معاشی طاقت، سائنسی و تکنیکی صلاحیت، دفاعی استعداد اور مجموعی قومی قوت نئی بلندیوں تک پہنچی۔

اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے جدت کو مرکزی حیثیت دی گئی، جس کے نتیجے میں چین دنیا کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے اختراعی ماحولیاتی نظام رکھنے والے ممالک میں شامل ہو گیا۔ ملک میں مصنوعی ذہانت سے وابستہ اداروں کی تعداد 4,500 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ "اے آئی پلس" حکمت عملی کو صنعت، مالیات اور صحت جیسے شعبوں میں ضم کر دیا گیا ہے، جو معاشی ترقی کے نئے محرک کے طور پر ابھری ہے۔

مصنوعی ذہانت کے لارج ماڈلز کی تیاری، مجسم ذہانت کا صنعتی شعبوں سے امتزاج اور انسان نما روبوٹس کا آٹوموبائل مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور بجلی کے نظاموں میں استعمال، ان تمام کامیابیوں نے چین کو مستقبل کی ٹریلین یوآن کی صنعتوں کی بنیاد فراہم کی ہے۔

عالمی ترقی میں چین کی شراکت

چین کی تکنیکی ترقی کے ثمرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ بے دو دو نیویگیشن سسٹم کی خدمات 140 سے زائد ممالک اور خطوں میں قدرتی آفات کی پیشگی وارننگ، نقل و حمل اور زراعت میں استعمال ہو رہی ہیں۔ چین۔برازیل سائنس و ٹیکنالوجی انوویشن سینٹر کے ذریعے دور دراز علاقوں میں صاف توانائی کی فراہمی ممکن بنائی گئی ہے۔

اسی طرح منگولیا، سعودی عرب اور دیگر ممالک کے ساتھ صحرا زدگی کے خلاف ٹیکنالوجی کا اشتراک، اور مصر کو سمارٹ زراعت کے طریقوں اور مشینری کی فراہمی، پانی کی قلت اور غذائی تحفظ جیسے مسائل سے نمٹنے میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔

2026 کے ساتھ ہی چین پندرھویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) میں داخل ہو رہا ہے۔ صدر شی جن پھنگ نے اس موقع پر واضح کیا کہ کامیاب منصوبہ بندی ، واضح اہداف اور مضبوط عزم سے شروع ہوتی ہے۔ عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود چین کی جانب سے اعلیٰ معیار کی ترقی، ہمہ گیر اصلاحات، کھلے پن اور مشترکہ خوشحالی پر زور اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ چین نہ صرف اپنی قومی ترقی کو آگے بڑھانا چاہتا ہے بلکہ عالمی امن، استحکام اور ترقی میں بھی ایک ذمہ دار اور فعال کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ طرزِ فکر ایک ایسے عالمی مستقبل کی تشکیل کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں تعاون، مکالمہ اور مشترکہ مفاد کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1743 Articles with 1003418 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More