عالمی چیلنجز کے تناظر میں چین کا گلوبل گورننس انیشی ایٹو
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
عالمی چیلنجز کے تناظر میں چین کا گلوبل گورننس انیشی ایٹو تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں جغرافیائی کشیدگیاں شدت اختیار کر رہی ہیں، موسمیاتی خطرات سنگین صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں اور مصنوعی ذہانت جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی حکمرانی سے متعلق خدشات عالمی سطح پر تشویش پیدا کر رہے ہیں۔ ان حالات میں پرانے اور نئے مسائل کا امتزاج عالمی نظامِ حکمرانی کی کمزوریوں کو مزید نمایاں کر رہا ہے، جس کے باعث موجودہ بین الاقوامی اداروں اور طریقۂ کار پر غیر معمولی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی جانب سے جولائی 2025 میں جاری کی گئی ایک رپورٹ، جس میں پائیدار ترقی کے 2030 ایجنڈے پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، عالمی صورتحال کی ایک تشویشناک تصویر پیش کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 169 اہداف میں سے صرف تقریباً 35 فیصد درست سمت میں گامزن ہیں، جب کہ قریب نصف اہداف کی رفتار انتہائی سست ہے اور 18 فیصد اہداف میں واضح زوال دیکھا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار عالمی حکمرانی کے ڈھانچے میں پائے جانے والے خلا اور ناکافی ہم آہنگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اسی پس منظر میں چین نے ستمبر 2025 میں گلوبل گورننس انیشی ایٹو پیش کیا، جس کا مقصد اس نازک مرحلے پر عالمی حکمرانی کے نظام میں اصلاح اور بہتری کے لیے اصولی اور عملی راستے فراہم کرنا ہے۔ یہ انیشی ایٹو نہ صرف عالمی مسائل کی تشخیص پیش کرتا ہے بلکہ ان سے نمٹنے کے لیے ایک منظم فکری خاکہ بھی فراہم کرتا ہے۔
یہ انیشی ایٹو پانچ بنیادی اصولوں پر استوار ہے، جن میں ریاستی خودمختاری کا احترام، بین الاقوامی قانون کی پاسداری، کثیرالجہتی نظام کا فروغ، عوام کو مرکزِ نگاہ رکھنا اور عملی اقدامات پر توجہ شامل ہیں۔ یہ اصول مجموعی طور پر امن، ترقی، سلامتی اور حکمرانی کے شعبوں میں موجود بڑے عالمی خساروں سے نمٹنے کے لیے ایک اخلاقی فریم ورک اور عملی روڈ میپ فراہم کرتے ہیں۔
گلوبل گورننس انیشی ایٹو کے اعلان کے بعد عالمی برادری کی جانب سے اس پر مثبت اور تیز رفتار ردعمل سامنے آیا۔ اب تک 150 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیمیں اس انیشی ایٹو کی حمایت یا خیر مقدم کر چکی ہیں۔ دسمبر 2025 میں ’’گروپ آف فرینڈز آف گلوبل گورننس‘‘ کے قیام نے اس حمایت کو مزید ادارہ جاتی شکل دی، جس کا مقصد عالمی حکمرانی کے اہم معاملات پر مکالمے، تعاون اور مشترکہ اقدامات کو فروغ دینا ہے۔ اس گروپ میں اب تک 43 ممالک کی شمولیت اس بات کی عکاس ہے کہ عالمی سطح پر اصولوں کو عملی کثیرالجہتی اقدامات میں ڈھالنے کی خواہش بڑھ رہی ہے۔
بین الاقوامی ماہرین اور ممتاز اعلیٰ شخصیات نے بھی اس انیشی ایٹو کی افادیت کو اجاگر کیا ہے۔اُن کا ماننا ہے کہ چین عالمی مکالمے میں ایک اہم فریق کے طور پر ابھرا ہے اور اس انیشی ایٹو کی اصل قوت ایسے اصولوں کی تشکیل میں ہے جو وسیع عالمی قبولیت حاصل کر سکتے ہیں۔ اُن کے مطابق یہ اصول نہ صرف گلوبل ساوتھ کے بڑے ممالک بلکہ کئی یورپی ریاستوں کے لیے بھی قابلِ قبول ہیں اور مستقبل کی عالمی ترقی کے لیے سنگِ بنیاد ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ انیشی ایٹو دورِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں کو مضبوط بناتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ترقی پذیر ممالک کے ان خدشات کا بھی جواب دیتا ہے جو عالمی نظام میں غیر متوازن نمائندگی اور اثر و رسوخ سے متعلق ہیں۔
عالمی شخصیات تسلیم کرتی ہیں کہ یہ انیشی ایٹو ریاستی خودمختاری، مساوی وقار اور داخلی امور میں عدم مداخلت کے اصولوں کو مرکزیت دیتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی حکمرانی کی اصل روح کثیرالجہتی تعاون میں مضمر ہے، اور یہی اصول اس اقدام کا بنیادی ستون ہیں۔
بین الاقوامی جائزوں میں ایک نمایاں پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ چین اس انیشی ایٹو کو محض بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اقدامات سے جوڑ رہا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم، برکس، اعلیٰ معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون، سعودی عرب اور ایران کے درمیان مفاہمت، اور بین الاقوامی ثالثی تنظیم کے قیام جیسے اقدامات کو اس عملی حکمتِ عملی کی مثالیں قرار دیا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر گلوبل گورننس انیشی ایٹو اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ موجودہ عالمی بحران کے دور میں صرف تنقید یا نظریاتی بحث کافی نہیں، بلکہ ایک ایسے متوازن، منصفانہ اور عملیت پسند نظام کی ضرورت ہے جو تمام ممالک کے مفادات اور وقار کو یکساں اہمیت دے۔ چین کا یہ انیشی ایٹو عالمی سطح پر مکالمے اور تعاون کے نئے امکانات پیدا کرتا ہے اور اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ مستقبل کی عالمی حکمرانی زیادہ شمولیتی، متوازن اور عوامی مفاد پر مبنی ہو سکتی ہے۔ |
|