باپ - ایک غیر منصفانہ روا رکھے جانے والا قابل قدر و احترام والا رشتہ (عمومی طور پر )

ماں باپ اس دنیا میں موجود ہمارے رشتوں میں سب سے زیادہ قابل قدر اور احترام والے رشتے ہیں، ماں کی قدر تو اکثر خوب کرلی جاتی ہے مگر باپ کا رشتہ کبھی کبھی غیر منصفانہ رویہ روا رکھنے والا ہوتا ہے۔
بچپن کی نظر، ایک ادھوری تصویر
_____________________

بچپن میں ہماری توجہ زیادہ تر ماں پر مرکوز رہتی ہے۔
ہم ماں کو دن رات کچن میں مصروف دیکھتے ہیں—کھانا پکاتے، صفائی کرتے
سردی ہو یا گرمی، بغیر شکایت۔

اسی دوران والد شام کو گھر آتے دکھائی دیتے ہیں
کپڑے بدلتے ہیں، چائے پیتے ہیں
اور خاموشی سے اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھ جاتے ہیں۔
بچوں کی نگاہوں کو یوں محسوس ہوتا ہے
کہ محنت ماں کر رہی ہے
اور والد محض آرام میں ہیں۔

خاموشی کے پیچھے چھپی ذمہ داری
______________________

یہ تاثر دراصل ہماری نظر کی کمزوری ہے۔
وقت کے ساتھ جب شعور پختہ ہوتا ہے
تو یہ ادھوری تصویر مکمل ہونے لگتی ہے۔

تب سمجھ آتا ہے کہ
والد وہ مضبوط ستون ہوتے ہیں
جن پر پورا گھر کھڑا ہوتا ہے۔

وہ خاموشی سے
رزق کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں
گھر کے اخراجات، تعلیم، علاج
اور مستقبل کی فکریں
اپنے دل و دماغ میں سموئے رکھتے ہیں۔

باپ کا ذہنی بوجھ، جو نظر نہیں آتا
_____________________

ہر لمحہ ان کے ذہن میں
سوالات گردش کرتے رہتے ہیں
کون سا مسئلہ حل طلب ہے؟
وسائل اور ضروریات میں توازن کیسے رکھا جائے؟
آنے والے دن، ہفتے اور مہینے
کون سے نئے چیلنجز لائیں گے؟

یہ سب وہ بوجھ ہیں
جو زبان سے کم
اور دل سے زیادہ اٹھائے جاتے ہیں۔

قرآنِ کریم میں فرمایا گیا

**"الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ"**
(مرد ذمہ دار اور نگہبان ہیں)

یہ قِوامت محض اختیار نہیں
بلکہ ایک مسلسل قربانی ہے
ایسی قربانی جو عموماً نظر سے اوجھل رہتی ہے۔


باپ اور اولاد کے درمیان خاموش فاصلہ
________________________

اکثر والد اور اولاد کے درمیان
ایک غیر محسوس فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے۔
یہ فاصلہ محبت کی کمی کا نتیجہ نہیں
بلکہ والد کی سنجیدگی، خودداری
اور مسائل کو تنہا جھیلنے کی عادت کا حاصل ہوتا ہے۔

وقت کے ساتھ
ان کا بولنا کم ہوتا چلا جاتا ہے
کیونکہ بظاہر خاموش رہنے والا باپ
اندر ہی اندر مسلسل سوچتا رہتا ہے۔

خواہشات کا تدریجی زوال
_______________

وہ شخص جس کی کھانے پینے، پہننے اوڑھنے کی عادات اور پسند تھیں
وہ تو ماضی میں کہیں دور کھو گئی ہوتی ہیں
اور اب وہ شخص سب کچھ کھا پی لیتا، پہن اوڑھ لیتا ہے

کیا لگتا ہے ؟
کہ اس کے احساسات کو زنگ لگ گیا ہے ؟
یا اس کا دل نہیں چاہتا ہوگا کہ کھانے میں بہترین کیا ہے
معاشرے میں پہننے میں کون سے کپڑے زبردست لگیں گے
جو اس کی شخصیت پر جچے گے
کون کون سے جوتے کس کس ڈریس کے ساتھ پہننے میں اچھے لگیں گے
کھانے پینے، پہننے اوڑھنے کی پسند ناپسند
جو کبھی واضح ہوتی تھی
رفتہ رفتہ پس منظر میں چلی جاتی ہے۔
یہ احساسات کے ختم ہونے کی علامت نہیں
بلکہ اپنی ذات کو پیچھے رکھ دینے کی عادت ہے۔
وہ کم بولتے ہیں
مگر زیادہ سہتے ہیں۔

جدائی کے بعد سمجھ آنے والی حقیقت
______________________

اور پھر جب والد اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں
تو دل میں ایک ایسا خلا رہ جاتا ہے
جو کبھی پُر نہیں ہو پاتا۔

تب ہمیں احساس ہوتا ہے
کہ وہ ہم سے
اپنی طاقت، صحت
اور خواہشات سے کہیں زیادہ
محبت کرتے تھے۔

رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا

**"باپ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے"**
(ترمذی)

مگر افسوس،
ہم اس دروازے کی قدر
اکثر اس وقت کرتے ہیں
جب وہ بند ہو چکا ہوتا ہے۔

ایک اعتراف، ایک دعا
______________

بے شک ماں کا درجہ بلند تر ہے
مگر باپ کی قربانیاں
اکثر اعتراف سے محروم رہتی ہیں۔
مگر باپ ! کہ جب ان کی قدر کا احساس دل میں بستا ہے تو
وہ وہاں جابستے ہیں کہ جہاں ہم ان سے روا رکھی جانے والی
اپنی کوتاہیوں اور ناانصافیوں پر
ان سے پیار سے لاڈ سے
امید سے ان سے معافی و معذرت بھی نہیں کرسکتے۔
کہ وہ اتنا کچھ برداشت کرتے رہے
گھٹتے رہے، سہتے رہے
اور اپنی خواہشات، اپنی پسند
اپنی خوشیاں اپنے دل میں دفن کرتے کرتے
خود شہر خاموشاں میں اپنی خاموشیوں کے ساتھ دفن ہوگئے۔

محبت ہے آپ سے، بابا۔
آپ کی خاموش 🤍 محبت
ہماری زندگی کی سب سے بڑی دولت


جو خاموشی سے
برداشت کرتے رہے
خود کو سمیٹتے رہے
اور اپنی خواہشات
دل میں دفن کرتے کرتے
خاموشی کے ساتھ رخصت ہو گئے۔

اللہ سے دعا ہے کہ
جن کے والدین حیات ہیں
وہ ان کی قدر کریں
ان کے جذبات اور احساسات کو سمجھیں۔

اور جو ہم سے جدا ہو چکے ہیں
اللہ ان کی قبور کو نور سے بھر دے۔
آمین یا رب العالمین
M. Furqan Hanif
About the Author: M. Furqan Hanif Read More Articles by M. Furqan Hanif: 451 Articles with 639720 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.