چین اور عالمی معیشت کے لیے مواقع میں اضافہ
(Shahid Afraz Khan, Beijing)
|
چین اور عالمی معیشت کے لیے مواقع میں اضافہ تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
عالمی معیشت کو درپیش سست روی، تجارتی تحفظ پسندی اور جغرافیائی سیاسی بے یقینی کے ماحول میں چین کی غیر ملکی تجارت خصوصاً درآمدات کی کارکردگی نے ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں چین کی مجموعی درآمدات ایک نئی تاریخی سطح پر پہنچ گئیں، جس سے نہ صرف چین کی داخلی معیشت کی مضبوطی ظاہر ہوتی ہے بلکہ یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ چین کا وسیع تر بازار عالمی صنعت اور تجارت کے لیے بدستور ایک اہم سہارا اور موقع بنا ہوا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں چین کی مجموعی مصنوعاتی درآمدات 18.48 ٹریلین یوآن تک پہنچ گئیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ اس کے ساتھ ہی چین مسلسل 17ویں سال دنیا کی دوسری سب سے بڑی درآمدی منڈی کے طور پر اپنی حیثیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ اس عرصے کے دوران چین نے 130 سے زائد ممالک اور خطوں سے درآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں سات زیادہ ہے۔ اس پیش رفت کو چین کے وسیع داخلی بازار کے فوائد کو عالمی مواقع میں تبدیل کرنے کی ایک واضح مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق 1.4 ارب سے زائد آبادی پر مشتمل چین کی منڈی، بڑھتی ہوئی کھپت اور مسلسل بہتر ہوتی صارفین کی طلب مستقبل میں بھی عالمی درآمدات کے لیے نمایاں امکانات فراہم کرتی رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ چین نہ صرف ترقی یافتہ بلکہ ترقی پذیر اور کم ترقی یافتہ ممالک کے لیے بھی ایک اہم تجارتی شراکت دار کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
چین اس وقت 160 سے زائد ممالک اور خطوں کا بڑا تجارتی شراکت دار بن چکا ہے، جو 2020 کے مقابلے میں 20 سے زائد کا اضافہ ہے۔ صرف 2025 میں چین کی درآمدات عالمی مجموعی درآمدات کا تقریباً 10 فیصد رہیں، جو اس کی عالمی تجارتی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہیں۔
علاقائی سطح پر جائزہ لیا جائے تو ایشیا، لاطینی امریکہ اور افریقہ سے چین کی درآمدات میں بالترتیب 3.9 فیصد، 4.9 فیصد اور 6 فیصد اضافہ ہوا۔ خاص طور پر کم ترقی یافتہ ممالک سے درآمدات میں 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی ایک بڑی وجہ چین کی جانب سے ان ممالک کے لیے صفر ٹیرف سہولت کا نفاذ ہے، جو سفارتی تعلقات رکھنے والے ممالک پر لاگو کی گئی۔
چین کی جانب سے درآمدات کے فروغ کے لیے عملی اقدامات بھی کیے گئے۔ 2025 میں کسٹمز حکام نے 65 ممالک سے 190 اقسام کی زرعی اور غذائی مصنوعات کی درآمد کی منظوری دی، جس سے عالمی زرعی تجارت کو بھی تقویت ملی۔ مصنوعات کی تجارت کے ساتھ ساتھ خدمات کے شعبے میں بھی چین کی درآمدی سرگرمیاں نمایاں رہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض ممالک کی جانب سے چین کو ہائی ٹیک مصنوعات کی برآمدات پر پابندیاں نہ ہوتیں تو چین کی درآمدات کا حجم اس سے بھی کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔ اس کے باوجود، چودھویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران چین کی مجموعی درآمدات 90 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر چکی ہیں، جو اس کی مسلسل کھلی معاشی پالیسی کا ثبوت ہیں۔
یہ ریکارڈ درآمدات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب عالمی معیشت کو سست روی، تجارتی تحفظ پسندی اور غیر یقینی حالات کا سامنا ہے۔ 2025 میں چین کی مجموعی مصنوعات کی تجارت 45 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گئی، جس میں سالانہ بنیادوں پر 3.8 فیصد اضافہ ہوا۔ ماہرین کے مطابق یہ کارکردگی چین کی غیر ملکی تجارت کی مضبوطی اور لچک کو ظاہر کرتی ہے۔
اعداد و شمار سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ چین میں درمیانی درجے کی مصنوعات کی تجارت تیزی سے بڑھ رہی ہے، جو عالمی صنعتی تعاون کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔ الیکٹرانک پرزہ جات اور کمپیوٹر اجزاء جیسی اشیاء کی درآمدات میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ چین کی صنعت تیزی سے جدید ٹیکنالوجی اور اعلیٰ معیار کی پیداوار کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مجموعی طور پر 2025 کے اعداد و شمار اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ چین کی معیشت عالمی غیر یقینی حالات کے باوجود استحکام اور وسعت کی راہ پر گامزن ہے۔ چین کی وسیع مارکیٹ، مکمل صنعتی نظام اور اعلیٰ معیار کی کھلی پالیسی نہ صرف ملکی ترقی کا ذریعہ ہیں بلکہ عالمی تجارت کے لیے بھی ایک مضبوط سہارا فراہم کر رہے ہیں۔
یہ توقع ظاہر کی گئی ہے کہ مستقبل میں بھی چین عالمی معیشت کے لیے ایک "یقینی منڈی" کے طور پر اپنی اہمیت برقرار رکھے گا، جہاں دنیا کے مختلف ممالک کے لیے ترقی اور تعاون کے وسیع مواقع موجود رہیں گے۔ |
|