ایران: معاشی کمزوری، دفاعی دباؤ اور غیرت کی ناقابلِ شکست قوت
(Javed Khan, Dera Ismail Khan)
یہ بات اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ ایران اس وقت شدید معاشی مسائل سے دوچار ہے۔ بین الاقوامی پابندیوں نے اس کی معیشت کی جڑیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ تیل کی برآمدات محدود، بینکنگ نظام عالمی مالیاتی دھارے سے کٹا ہوا، افراطِ زر آسمان کو چھوتی ہوئی اور عام آدمی کی قوتِ خرید روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے۔ ان حالات میں بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ ایران ایک کمزور ریاست ہے جو کسی بھی بڑے دباؤ کے سامنے دیر تک کھڑی نہیں رہ سکتی۔ مگر تاریخ، سیاست اور زمینی حقائق اس تاثر کو بار بار غلط ثابت کرتے آئے ہیں۔ دفاعی اعتبار سے بھی ایران کو جدید ٹیکنالوجی، جدید جنگی طیاروں اور عالمی عسکری اتحادوں کی کمی کا سامنا ہے۔ اس کے مقابلے میں اس کے مخالفین نہ صرف عسکری لحاظ سے طاقتور ہیں بلکہ عالمی حمایت، جدید ہتھیاروں اور مضبوط معیشت کے بل پر میدان میں اترتے ہیں۔ اس کے باوجود ایران کا نام آج بھی مزاحمت، جرأت اور ڈٹ جانے کی علامت کے طور پر لیا جاتا ہے۔ اس تضاد کی اصل وجہ وہ طاقت ہے جسے نہ پابندیوں سے توڑا جا سکتا ہے اور نہ بموں سے—اور وہ ہے غیرت۔ ایران کی قومی سوچ محض ریاستی مفاد تک محدود نہیں بلکہ نظریے، خودمختاری اور وقار کے گرد گھومتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی اس پر دباؤ بڑھایا گیا، اس نے وقتی نقصان کو قبول کیا مگر اصولی پسپائی سے انکار کیا۔ چاہے وہ جوہری پروگرام کا معاملہ ہو، علاقائی اثر و رسوخ کا سوال ہو یا عالمی طاقتوں کے مطالبات، ایران نے بارہا یہ پیغام دیا کہ وہ دباؤ میں فیصلے نہیں کرتا۔ ایرانی قوم کی اجتماعی نفسیات میں قربانی ایک مقدس تصور ہے۔ وہاں ریاست اور عوام کے درمیان ایک نظریاتی رشتہ موجود ہے، جو مشکل وقت میں مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ جب معیشت کمزور ہوتی ہے تو قوم ریاست کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے، اور جب بیرونی خطرات بڑھتے ہیں تو داخلی اختلافات پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ یہی وہ عنصر ہے جو ایران کو مکمل طور پر گھٹنے ٹیکنے سے روکے رکھتا ہے۔ دشمن شاید یہ سمجھتا ہے کہ معاشی پابندیوں کے ذریعے کسی قوم کو جھکایا جا سکتا ہے، مگر ایران کی مثال بتاتی ہے کہ پابندیاں صرف کمزور ارادوں والی قوموں کو توڑتی ہیں۔ ایران نے محدود وسائل میں رہتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت کو مقامی بنیادوں پر استوار کیا، اپنے اتحادی پیدا کیے اور سفارتی محاذ پر بھی اپنی موجودگی منوائی۔ یہ سب کچھ کسی مضبوط معیشت کے بغیر ممکن نہیں تھا، اگر پیچھے غیرت اور عزم کی طاقت نہ ہوتی۔ عالمی سیاست میں ایران ایک ایسا فریق بن چکا ہے جسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ اس کی ہر مزاحمت یہ ثابت کرتی ہے کہ طاقت صرف میزائلوں اور بجٹ کا نام نہیں بلکہ طاقت وہ حوصلہ ہے جو قوم کو آخری حد تک ڈٹ جانے پر مجبور کر دے۔ دشمن جدید اسلحہ اور عالمی حمایت کے باوجود جانتا ہے کہ ایسے حریف کے ساتھ ٹکر لینا آسان نہیں جو ہار کو ذلت سمجھتا ہو۔ آج کے دور میں جب بہت سی ریاستیں معاشی مفاد کے بدلے نظریاتی سرحدیں پار کر لیتی ہیں، ایران کا رویہ ایک مختلف مثال پیش کرتا ہے۔ وہ کمزور ہو سکتا ہے، دباؤ میں ہو سکتا ہے، مگر بےغیرت نہیں۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی قوم غیرت کے ساتھ کھڑی ہو جائے تو بالآخر دشمن کو پیچھے ہٹنا پڑتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کو سمجھنے کے لیے اس کے بجٹ یا معیشت کے اعداد و شمار کافی نہیں، بلکہ اس کی اصل طاقت کو جانچنے کے لیے اس قوم کے حوصلے، غیرت اور ڈٹ جانے کی صلاحیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہی طاقت ایران کو بار بار گرنے کے باوجود اٹھ کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتی ہے، اور یہی وہ عنصر ہے جو اسے عالمی سیاست میں ایک مستقل چیلنج بنائے ہوئے ہے۔ تحریر: جاوید خان مروت |