چین میں صنعتی انٹرنیٹ کی تیز رفتار ترقی کا نیا لائحۂ عمل

چین میں صنعتی انٹرنیٹ کی تیز رفتار ترقی کا نیا لائحۂ عمل
تحریر: شاہد افراز خان ، بیجنگ

چین تیزی سے اپنی صنعت کو ڈیجیٹل اور ذہین خطوط پر استوار کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے، جہاں صنعتی انٹرنیٹ کو نئی صنعتی کاری کا بنیادی ستون قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں چین نے 2026 سے 2028 کے عرصے کے لیے صنعتی انٹرنیٹ پلیٹ فارمز کی اعلیٰ معیار پر مبنی ترقی کا ایک جامع ایکشن پلان جاری کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد صنعتی پیداوار کی صلاحیت میں اضافہ، ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینا اور نئی نوعیت کی پیداواری قوتوں کی تشکیل ہے، تاکہ چین کی صنعت مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکے۔

اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت چین میں 340 سے زائد بااثر صنعتی انٹرنیٹ پلیٹ فارمز فعال ہیں، جو مختلف صنعتی شعبوں میں ڈیٹا، آلات اور پیداواری نظام کو باہم جوڑنے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ نئے ایکشن پلان کے تحت ہدف مقرر کیا گیا ہے کہ 2028 تک یہ تعداد 450 سے تجاوز کر جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اہم صنعتی پلیٹ فارمز سے منسلک آلات کی تعداد 120 ملین یونٹس سے بڑھانے کا منصوبہ بھی شامل ہے، جبکہ پلیٹ فارم پینیٹریشن ریٹ کو 55 فیصد سے زائد تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

چینی حکام کے مطابق، صنعتی انٹرنیٹ پلیٹ فارمز جدید صنعت کا ایک مرکزی جزو ہیں۔ یہ پلیٹ فارمز بڑے پیمانے پر ڈیٹا کے ذخیرے، ماڈلز کی تیاری اور مختلف ایپلیکیشنز کی ترقی کے لیے بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی پلیٹ فارمز صنعتی عوامل اور وسائل کے ہمہ جہت رابطے، لچکدار فراہمی اور مؤثر تقسیم کے لیے مرکزی حب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ صنعتی انٹرنیٹ نہ صرف پیداواری عمل کو زیادہ مؤثر بناتا ہے بلکہ صنعتوں کو ڈیجیٹل، نیٹ ورک اور ذہین نظام میں تبدیل کرنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔

چین کے جاری کردہ ایکشن پلان میں تین اہم اسٹریٹجک سمتوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔اول، پلیٹ فارمز کی امتیازی اور متنوع ترقی، تاکہ مختلف صنعتوں اور شعبوں کی مخصوص ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے حل فراہم کیے جا سکیں۔دوم، مصنوعی ذہانت کے ذریعے پلیٹ فارمز کو بااختیار بنانا، تاکہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی بدولت صنعتی نظام زیادہ ذہین اور خودکار بن سکے۔سوم، منظرنامہ پر مبنی اطلاق کو فروغ دینا، جس کے تحت صنعتی انٹرنیٹ کو حقیقی پیداواری ماحول میں زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔

ایکشن پلان میں مصنوعی ذہانت کے انضمام کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ چین کا ارادہ ہے کہ صنعتی انٹرنیٹ پلیٹ فارم چلانے والی کمپنیاں اعلیٰ معیار کے ڈیٹا سیٹس، صنعتی لارج ماڈلز اور ذہین ایجنٹس کی تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری بڑھائیں۔حکام کے مطابق، اس اقدام کا مقصد چین کو ڈیٹا کے ذخیرے اور صنعتی نظام میں حاصل ابتدائی برتری کو ڈیجیٹل اور ذہین مینوفیکچرنگ میں مسابقتی طاقت میں تبدیل کرنا ہے۔ ماہرین کے خیال میں، مصنوعی ذہانت کے استعمال سے پیداوار کی پیش گوئی، معیار کا کنٹرول اور وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہو سکے گا۔

ایکشن پلان میں صنعتی انٹرنیٹ کی ترقی کے لیے چار کلیدی اقدامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔پہلا، کثیر سطحی پلیٹ فارم نظام کی تشکیل، تاکہ بنیادی سطح سے لے کر مکمل ماحولیاتی نظام تک پلیٹ فارمز کو منظم انداز میں فروغ دیا جا سکے۔دوسرا، ڈیٹا کے انضمام کے ذریعے ذہانت میں اضافہ، تاکہ صنعتی فیصلے زیادہ درست اور بروقت ہوں۔تیسرا، وسیع پیمانے پر اطلاق کو فروغ دینا، جس سے صنعتی انٹرنیٹ حقیقی معیشت میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔چوتھا، صنعتی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانا، تاکہ مختلف اداروں، پلیٹ فارمز اور خدمات کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

منصوبے کے تحت ایک چار سطحی تربیتی نظام متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے، جو بنیادی، تخصصی، جامع اور ماحولیاتی سطحوں پر مشتمل ہو گا۔ اس نظام کا مقصد صنعتی انٹرنیٹ پلیٹ فارمز کو زیادہ پیشہ ورانہ، مہارت پر مبنی اور مخصوص ضروریات کے مطابق ترقی دینا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار سے صنعتی انٹرنیٹ کی مجموعی کارکردگی بہتر ہو گی اور چھوٹے و درمیانے درجے کے اداروں کو بھی جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔

مارکیٹ کے اطلاق کے حوالے سے، چین ایسے جدید سروس ماڈلز کی حوصلہ افزائی کرے گا جن میں "استعمال کے بعد ادائیگی" اور سبسکرپشن پر مبنی خدمات شامل ہیں۔ ان ماڈلز کے ذریعے صنعتی اداروں پر ابتدائی سرمایہ کاری کا بوجھ کم ہو گا اور وہ اپنی ضروریات کے مطابق ڈیجیٹل خدمات حاصل کر سکیں گے۔

مجموعی طور پر، صنعتی انٹرنیٹ پلیٹ فارمز کے لیے جاری کردہ یہ ایکشن پلان چین کی نئی صنعت کاری کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور صنعتی نظام کے گہرے انضمام کے ذریعے چین اپنی صنعت کو زیادہ مؤثر، پائیدار اور مسابقتی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر یہ منصوبہ مؤثر انداز میں نافذ ہوا تو نہ صرف صنعتی پیداوار میں نمایاں بہتری آئے گی بلکہ نئی معیاری پیداواری قوتیں بھی جنم لیں گی، جو چین کی معیشت کو مستقبل کی عالمی مسابقت کے لیے بہتر طور پر تیار کریں گی۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1758 Articles with 1010131 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More