کوئی راشد محمود کے درد کوسمجھے

کوئی راشد محمود کے درد کوسمجھے
حسیب اعجاز عاشرؔ
اے خدا! یہ کیا ظلم ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے؟ یہ کیا بے رحمی ہے جو ہماری روح کو چیر رہی ہے؟ ہمارا معاشرہ، ہماری قوم، ہماری تہذیب سب کچھ اس قدر سنگدل ہو چکی ہے کہ جو لوگ کل ہمارے گھروں میں ہنسی کی لہریں دوڑاتے تھے، جو ہمارے بچپن کے خوابوں میں راتوں کو جگاتے تھے، جو ہماری جوانی کو دلگی کی خوشبو دیتے تھے – آج وہی لوگ تنہائی کے اندھیرے میں کراہ رہے ہیں، درد کی چیخیں ان کے سینے میں دب کر رہ جاتی ہیں، اور ہم؟ ہم بس چند لائکیں، چند شیئرز، چند دعاؤں کے ساتھ اپنا فرض ادا کر کے خود کو مطمئن کر لیتے ہیں۔ یہ ناقدری نہیں، یہ قتلِ روح ہے۔ یہ خیانت ہے اس محبت کی جو انہوں نے ہم سے مانگی تھی۔ راشد محمود کو دیکھ لیجئے، پاکستان کی ٹیلی ویژن اور فلم انڈسٹری کے دی لیونگ لیجنڈ، جنہوں نے اپنی ہر اداکاری میں جلال، زندگی، اور انسانیت کا عکس پیش کیا،وہ انسان جن کی آواز، ڈائیلاگ ڈلیوری، اور ہر کردار کی پرفیکشن نے ایک دور کو زندہ کیا، آج بیماریوں اور مالی مشکلات کے بوجھ تلے دب چکے ہیں اور حکومت سکون کی بانسری بجا رہی ہے، اور یہ معاشرتی ناقدری ہماری فنی دنیا کا المیہ بن چکی ہے۔ 2022 کی ایک رپورٹ مطابق: ''Majority of Pak artists spent their last days in financial problems''۔ یہ ہماری شرم کی داستان ہے یا یہ ہماری تہذیب کی نشانی بن چکی ہے کہ جو شخص اپنی جوانی اور شباب میں ہمارے دلوں کو مسخر کرے، ہماری تفریح اور تعلیم کا ذریعہ بنے، اسے ہم بوڑھاپے اور بیماری میں تنہا چھوڑ دیں؟
راشد محمود محب وطن ہیں کہ اپنی پوسٹوں کے ساتھ ''پاکستان زندہ باد'' لکھتے ہیں، اور وہ بھی سینہ تان کر۔عاجزی ایسی کہ خاکسار راقم الحروف نے اپنی کتاب پر تبصرہ لکھنے کی درخواست کی تو فوراً قبول کی، اور آج میری کتاب ان کی تحریر کی خوشبو سے معطر ہے۔انہوں نے اپنی زندگی میں صبر اور تحمل کی ایسی مثال قائم کی کہ محض الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ان کے بیٹے اظہر محمود کا انتقال دسمبر 2013 میں ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ہوا، جو ان کی زندگی کا سب سے بڑا صدمہ تھا،جسے کھلے دل سے سہا، اور پھر بھی اپنے فن، اپنے اخلاقی معیار اور اپنی محنت کو جاری رکھااور ”زندہ باد پاکستان“ کا نعرہ لگانے نہ بھولے۔دوسری طرفصحت کے مسائل نے اُن کی زندگی کو کئی بار محدود کیا۔ 2023 کے آس پاس انہیں ہارٹ اٹیک ہوا، پھر سٹروک، جس نے ان کی حرکت کو متاثر کیا اور جزوی فالج کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت پنجاب کی نگراں حکومت نے ان کی مالی اور طبی مدد کی، طبی اخراجات کی ادائیگی کی، مگر یہ عارضی سہارا تھا۔ رواں ماہ، جنوری 2026 میں، انہوں نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں بتایا کہ وہ پچھلے 21 دنوں سے بستر پر ہیں، پرانی ہارٹ کنڈیشن کے ساتھ ایک نئی بیماری کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مداحوں سے دعاؤں کی اپیل کی، اپنی حالت کو سنگین قرار دیا۔کئی بارپہلے بھی دبے الفاظ میں اپنی حالت بتاتے رہے، زائد بلوں کی تصویر شیئر کی، حکومت سے ملنے والے معمولی چیک تذکرہ کیا،کہ شاید کسی کو خیال آجائے۔ افسوس ہم نے اُنکے چہرے کو نہیں پڑھااُن کے لہجے کو نہیں سمجھے، یا پڑھا بھی اور سمجھا بھی مگرپھر بھی نظرانداز کر دیا۔
یہ صرف راشد محمود کی کہانی نہیں، یہ ہمارے قومی شیوا کی عکاسی ہے۔ یاد کیجئے ان بڑے بڑے فنکاروں کو، جن کا ایک بھرم ہوتا ہے، ایک وقار ہوتا ہے۔ زندگی کے ایک موڑ پر ایسا وقت آتا ہے کہ انہیں اپنا پیٹ ننگا کر کے کسمپرسی کی حالت دنیا کو دکھانی پڑتی ہے، کہ شاید کسی کو خیال آجائے، پھر چند کوڑیوں کا چیک ملتا ہے، جس کی تصویریں بنتی ہیں، شیئر ہوتی ہیں، واہ واہ ہوتی ہے، مگر پھر بھولا دیا جاتا ہے۔ ہماری تہذیب میں یہ المیہ رچا بسا ہے کہ عروج پر پہنچنے والوں کو آسمان پر چڑھاتے ہیں، مگر زوال میں انہیں گرداب میں ڈبو دیتے ہیں۔
فکری اعتبار سے یہ کیوں ہوتا ہے؟ کیونکہ ہمارا معاشرہ مادیت پرست ہے، جہاں کامیابی کی پیمائش صرف موجودہ عروج سے ہوتی ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ یہ لیجنڈز ہماری ثقافت کے معمار ہیں، جن کی خدمات ہماری نسلوں کو متاثر کرتی ہیں۔ ادبی اعتبار سے، یہ زمانے کی بے وفائی ہے، جیسے مولانا روم فرماتے ہیں کہ دنیا ایک خواب ہے، مگر ہم اس خواب میں کھو جاتے ہیں۔ جذباتی طور پر، یہ گریبان جھنجھوڑنے والا ہے کہ ایک شخص جو ہمارے دلوں کو خوشی بخشتا رہا، آج تنہائی میں کراہ رہا ہے۔ کیا ہماری قوم میں رحم کی کوئی جھلک باقی نہیں؟ کیا ہم صرف چڑھتے سورج کی پرستش کرنے والے بن گئے ہیں؟ یہ وقت ہے کہ ہم اپنے گریبان میں جھانکیں، اپنے لیجنڈز کی قدر کریں، ان کی خدمات کو یاد رکھیں، نہ کہ صرف موت کے بعد فاتحہ پڑھیں۔معذرت کے ساتھ یہ سب لکھنا میری مجبوری بن گیا تھا۔
آئیے، راشد محمود جیسے لیجنڈز کو تنہا نہ چھوڑیں۔ ان کی صحت یابی کے لیے دعا کریں، ان کی مالی مدد کریں، ان کی خدمات کو زندہ رکھیں۔ یہ نہ صرف ان کا حق ہے بلکہ ہماری قومی ذمہ داری۔ حکومت سے بھی مطالبہ کریں کہ مستقل آرٹسٹ ویلفیئر فنڈ بنے، پنشن سکیم ہو، ہیلتھ انشورنس ہو اور ان کے ہاتھ تھامیں، ان کی آنکھوں میں دیکھ کر کہیں: ''آپ تنہا نہیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔''۔
Haseeb Ejaz Aashir | 03344076757
Haseeb Ejaz Aashir
About the Author: Haseeb Ejaz Aashir Read More Articles by Haseeb Ejaz Aashir: 181 Articles with 176758 views https://www.linkedin.com/in/haseebejazaashir.. View More