ڈیجیٹل منڈی کا جبر
(Dr Saif Wallahray, Lahore)
بازاروں کے شٹر گر چکے تھے، دکانوں کی روشنیاں بجھ گئی تھیں، سڑکوں پر قدموں کی چاپ تک باقی نہ رہی تھی، مگر ایک بازار ایسا تھا جو پوری بے رحمی کے ساتھ زندہ تھا۔ وہاں نہ آواز لگانے والے دکاندار تھے، نہ بھاؤ تاؤ کرنے والے خریدار، نہ روشنیوں سے سجے شو روم، نہ گلیوں کا شور۔ وہاں صرف ایک سرد نیلی روشنی تھی، ایک اسکرین تھی، اور اس اسکرین کے سامنے جھکا ہوا ایک انسان تھا۔ اس کی انگلی اسکرین پر سرک رہی تھی اور ہر سرکاؤ کے ساتھ ایک نئی چیز، ایک نئی رعایت، ایک نیا خواب اور ایک نئی محرومی اس کے سامنے آ کھڑی ہوتی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ موبائل استعمال نہیں کر رہا بلکہ موبائل اسے استعمال کر رہا ہے۔ یہ منظر کسی ایک فرد کی رات کا قصہ نہیں، ہمارے پورے عہد کی اجتماعی تصویر ہے؛ ایک ایسا عہد جس میں بازار اب شہروں کے چوراہوں، بازاروں اور مالز میں نہیں لگتا بلکہ انسان کی جیب، اس کے وقت، اس کی تنہائی، اس کی نفسیات اور اس کے شعور میں منتقل ہو چکا ہے۔ ڈیجیٹل منڈی محض خرید و فروخت کا مقام نہیں رہتی بلکہ ایک تہذیبی، نفسیاتی، معاشی اور فکری جبر کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ صارفیت یقیناً کوئی نئی حقیقت نہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام نے بہت پہلے انسان کو باشعور شہری سے فعال صارف میں بدلنے کا عمل شروع کر دیا تھا، مگر ڈیجیٹل عہد نے اس تبدیلی کو غیر معمولی شدت، سرعت اور نفسیاتی باریکی عطا کر دی ہے۔ پہلے بازار انسان کے گھر کے باہر تھا، اب اس کے ہاتھ میں ہے۔ پہلے اشتہار دیواروں، اخبارات اور ٹیلی ویژن تک محدود تھا، اب وہ ہر اسکرین، ہر کلک، ہر سرچ، ہر توقف، ہر پسند اور ہر کمزوری کے ساتھ جڑ چکا ہے۔ پہلے منڈی کو یہ معلوم ہوتا تھا کہ آپ کیا خریدتے ہیں، اب اسے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ کس چیز پر کتنی دیر رکے، کس رنگ پر آپ کی نگاہ ٹھہری، کس ویڈیو نے آپ کو لبھایا، کس خبر نے آپ کو چونکایا، اور کس احساسِ محرومی نے آپ کے اندر ایک نئی خواہش کو جنم دیا۔ گویا انسان اب صرف خریدار نہیں رہا بلکہ خود ایک قابلِ فروخت ڈیٹا، ایک قابلِ استعمال رویہ اور ایک قابلِ قابو نفسیات میں بدل چکا ہے۔ ڈیجیٹل منڈی کی سب سے خطرناک بات یہی ہے کہ یہ جبر کی صورت میں داخل نہیں ہوتی، بلکہ سہولت، آزادی، ذاتی پسند، جدید طرزِ زندگی اور انتخاب کے خوش نما لبادے میں آتی ہے۔ یہی اس کی اصل چالاکی ہے۔ روایتی صارفیت میں اشتہار کسی شے کی طرف متوجہ کرتا تھا، مگر ڈیجیٹل منڈی انسان کے اندر خواہش پیدا کرتی ہے، خواہش کو محرومی میں بدلتی ہے، محرومی کو بے چینی میں، اور بے چینی کو خریداری میں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ای کامرس ویب سائٹس، ویڈیو ایپس اور اسٹریمنگ سروسز ایسے الگورتھمز پر قائم ہیں جن کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ صارف کو زیادہ سے زیادہ دیر تک اسکرین کے ساتھ باندھے رکھنا ہے۔ ان الگورتھمز کی منطق نہایت سادہ مگر نہایت سفاک ہے: صارف کو وہی دکھاؤ جو اسے روکے، برانگیختہ کرے، چونکائے، بے چین کرے یا اس کے اندر کسی نئی کمی کا احساس پیدا کرے۔ چنانچہ اگر کوئی نوجوان ایک بار فیشن، لگژری لائف اسٹائل، اسکن کیئر، گیجٹس یا جسمانی خوبصورتی سے متعلق مواد دیکھ لے تو پھر اسی نوع کے مناظر، اشیا، رعایتیں اور خواب اس کے سامنے بار بار دہرائے جاتے ہیں، یہاں تک کہ ضرورت اور مصنوعی خواہش کے درمیان موجود لکیر دھندلی پڑنے لگتی ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں، جدید ڈیجیٹل منڈی کی منظم نفسیاتی انجینئرنگ ہے۔ اکیسویں صدی کے ڈیجیٹل کاروباری ماڈل کی بنیاد ہی اس اصول پر رکھی گئی ہے کہ صارف کو اتنی باریک بینی سے سمجھ لیا جائے کہ اس کی کمزوری، اس کی آرزو، اس کے خوف، اس کے احساسِ محرومی اور اس کے رویّے کو منافع میں بدلا جا سکے۔ دنیا کی بڑی ٹیک کمپنیاں بظاہر مفت پلیٹ فارم مہیا کرتی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کا اصل سرمایہ صارف کی توجہ، اس کا وقت، اس کا ڈیٹا اور اس کے رویّے ہوتے ہیں۔ صارف کب جاگتا ہے، کیا دیکھتا ہے، کس مواد پر رکتا ہے، کن موضوعات پر ردِعمل دیتا ہے، کس طبقے سے تعلق رکھتا ہے، کس موسم میں کیا خریدتا ہے اور کس عمر میں کن خواہشات کا شکار ہوتا ہے—یہ سب معلومات ایک خام مال کی طرح جمع کی جاتی ہیں۔ پھر انہی معلومات کی بنیاد پر ایسے اشتہارات، ایسی سفارشات اور ایسا مواد تیار کیا جاتا ہے جو صارف کو زیادہ مؤثر انداز میں گرفت میں لے سکے۔ یوں ڈیجیٹل منڈی اب صرف سامان نہیں بیچتی بلکہ انسان کے شعور کے گرد ایک ایسا حصار قائم کرتی ہے جس میں وہ بظاہر اپنی مرضی سے داخل ہوتا ہے، مگر آہستہ آہستہ اس کی مرضی بھی اسی حصار کے اندر تشکیل پانے لگتی ہے۔ اس سارے عمل کا سب سے ہولناک پہلو یہ ہے کہ اس نے کامیابی، خوش حالی اور شخصیت کے معیار کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب انسان کی قدر اس کے علم، کردار، فکری بالیدگی، اخلاقی سنجیدگی اور سماجی ذمہ داری سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس کے استعمال شدہ برانڈ، پہنے ہوئے لباس، موبائل فون کے ماڈل، کھانے کی جگہ، سفر کی تصویروں اور سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی “خوشحال زندگی” سے متعین ہونے لگی ہے۔ زندگی کے داخلی معانی کی جگہ خارجی نمائش نے لے لی ہے۔ اب انسان “ہونے” کے بجائے “رکھنے” سے پہچانا جاتا ہے۔ وہ کیا سوچتا ہے، یہ ثانوی ہو گیا ہے؛ وہ کیا خریدتا ہے، کیا پہنتا ہے، کیا دکھاتا ہے اور کتنی نگاہیں اس کی طرف متوجہ ہوتی ہیں، یہ اہم ہو گیا ہے۔ یوں انسان آہستہ آہستہ “شخص” سے “پروفائل” اور “شہری” سے “صارف” میں تبدیل ہو رہا ہے۔ اس کی شناخت افکار سے نہیں، اشیا سے مرتب کی جا رہی ہے؛ اس کی قدر اس کے کردار سے نہیں، اس کی نمائش سے متعین ہو رہی ہے۔ اس تبدیلی کا سب سے گہرا اثر نوجوان نسل پر پڑا ہے، کیونکہ نوجوانی خودی کی تعمیر، شناخت کی تلاش، خوابوں کی ترتیب اور سماجی قبولیت کی خواہش کا زمانہ ہوتی ہے۔ جب یہی عمر مسلسل فلٹر شدہ خوبصورتی، نمائشی آسودگی، برانڈڈ وقار، فوری شہرت اور مصنوعی کامیابی کے مناظر میں بسر ہو تو اس کے نتیجے میں شخصیت کی تعمیر نہیں بلکہ احساسِ کمتری، اضطراب، تقلید، خود فراموشی اور بے جا مسابقت جنم لیتی ہے۔ نوجوان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ کامیاب زندگی وہ ہے جو اسکرین پر اچھی لگے، نہ کہ وہ جو حقیقت میں باوقار، متوازن اور بامعنی ہو۔ سوشل میڈیا پر موجود انفلوئنسرز، ولاگرز اور لائف اسٹائل کریئیٹرز بظاہر ایک دلکش طرزِ زندگی پیش کرتے ہیں، مگر اکثر ان کے پسِ پردہ ایک منظم تجارتی منطق کام کر رہی ہوتی ہے۔ ان کے ذریعے صرف مصنوعات فروخت نہیں ہوتیں بلکہ حسن کے معیار، سماجی مرتبے کے تصورات، طرزِ زندگی کے سانچے اور خواہش کے نئے پیمانے بھی فروخت کیے جاتے ہیں۔ اشتہار اور ذاتی تجربے کے درمیان لکیر اس قدر مدھم ہو چکی ہے کہ ناظر کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ جس چیز کو وہ سادہ مشورہ یا ذاتی پسند سمجھ رہا ہے، وہ دراصل ڈیجیٹل منڈی کی منصوبہ بند حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ ڈیجیٹل منڈی میں عورت کا کردار بھی نہایت پیچیدہ اور تنقیدی مطالعے کا متقاضی ہے۔ عورت اس منڈی میں صرف صارف نہیں رہی بلکہ اکثر اسے خود ایک “ڈیجیٹل شوکیس” میں بدل دیا گیا ہے جہاں اس کی شخصیت، خوبصورتی، گھریلو مہارت، طرزِ زندگی، لباس، جلد، باورچی خانے اور حتیٰ کہ اس کی نجی زندگی تک کو قابلِ فروخت مواد میں ڈھال دیا جاتا ہے۔ اسکرین پر عورت کو کبھی مثالی ماں، کبھی مکمل گھریلو منتظم، کبھی بے عیب حسن کی علامت اور کبھی ہر وقت فیشن ایبل، خوشحال اور پُرکشش صارف کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تاکہ دوسری عورتوں کے اندر بھی اسی طرزِ زندگی کی خواہش پیدا ہو۔ یوں عورت کی آزادی، اظہار اور خودمختاری کے نام پر اسی پر ایک نیا دباؤ مسلط کیا جاتا ہے کہ وہ مسلسل خود کو دکھائے، سنوارے، ثابت کرے اور خریدے۔ المیہ یہ ہے کہ اس پورے عمل میں عورت کی ذہانت، فکری صلاحیت اور سماجی کردار سے زیادہ اس کی ظاہری پیشکش، اس کی مارکیٹ ویلیو اور اس کی “ڈیجیٹل کشش” کو اہم بنا دیا جاتا ہے۔ گویا عورت کی شناخت کو وسعت دینے کے بجائے ڈیجیٹل منڈی اسے ایک نئے، زیادہ نفیس اور زیادہ منافع بخش صارفی سانچے میں قید کر رہی ہے۔ یہ یلغار صرف نفسیاتی یا تہذیبی نہیں، گہری معاشی نوعیت بھی رکھتی ہے۔ “فلیش سیل”، “صرف آج”، “آخری موقع”، “آپ کے لیے منتخب”، “دوسرے لوگ بھی یہ خرید رہے ہیں” جیسے جملے محض کاروباری اصطلاحات نہیں بلکہ انسانی نفسیات پر حملہ آور ہونے والے حربے ہیں۔ ان کے ذریعے صارف کے اندر محرومی، جلد بازی اور محرک خریداری کا رجحان پیدا کیا جاتا ہے تاکہ وہ سوچے بغیر فیصلہ کرے۔ خریداری اب ایک سنجیدہ معاشی فیصلہ نہیں رہی بلکہ ایک جذباتی ردِعمل بنتی جا رہی ہے۔ متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے لیے یہ رجحان زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ وہ اکثر اپنی معاشی استطاعت سے بڑھ کر اس نمائشی مسابقت میں شامل ہونے لگتے ہیں جس کی بنیاد حقیقت پر نہیں بلکہ دکھاوے پر ہوتی ہے۔ قسطوں، “بائے ناؤ پے لیٹر”، ای ایم آئی اور رعایتی آفرز کے نام پر ایسی خواہشات کو معمول بنایا جا رہا ہے جو اکثر ضرورت نہیں ہوتیں۔ نتیجہ یہ کہ آمدنی محدود رہتی ہے مگر خواہشات غیر محدود ہو جاتی ہیں، اور انسان معاشی دباؤ کے ساتھ ساتھ نفسیاتی دباؤ میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے۔ یوں ڈیجیٹل منڈی صرف جیب خالی نہیں کرتی، آدمی کے اندر قناعت، توازن اور معاشی بصیرت کو بھی کمزور کرتی ہے۔ پاکستانی سماج اور بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے، کیونکہ یہاں ڈیجیٹل پھیلاؤ تو برق رفتاری سے ہوا ہے مگر ڈیجیٹل شعور، صارف کے حقوق، ڈیٹا کے تحفظ اور اشتہاری ضوابط پر سنجیدہ کام نہ ہونے کے برابر ہے۔ انٹرنیٹ، اسمارٹ فون، آن لائن کاروبار، سوشل میڈیا مارکیٹنگ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ فریب دہ اشتہارات، غیر واضح شرائط، ڈیٹا کے غیر شفاف استعمال اور نفسیاتی استحصال کے خطرات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہمارے ہاں والدین اور اساتذہ کی بڑی تعداد ابھی تک ڈیجیٹل منڈی کے نفسیاتی اور تجارتی حربوں سے پوری طرح آگاہ نہیں، چنانچہ نئی نسل ایک ایسے ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے جہاں اسے اسکرین استعمال کرنا تو آتا ہے مگر اسکرین کے پیچھے کارفرما منڈی کی منطق سمجھنا نہیں آتا۔ ہم ٹیکنالوجی کے استعمال میں تو جدید ہو گئے، مگر اس کے فکری اور اخلاقی مضمرات کے ادراک میں ابھی تک پیچھے ہیں۔ ڈیجیٹل منڈی کا ایک نہایت سنگین پہلو “ڈیٹا کی نوآبادیات” ہے۔ پرانی نوآبادیات میں طاقتور قوتیں زمین، وسائل اور محنت پر قبضہ کرتی تھیں؛ نئی ڈیجیٹل نوآبادیات میں قبضہ انسان کے ڈیٹا، توجہ، عادات اور رویّوں پر ہوتا ہے۔ آج صارف یہ سمجھتا ہے کہ وہ ایک ایپ استعمال کر رہا ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ خود استعمال ہو رہا ہوتا ہے۔ اس کی سرچ ہسٹری، اس کے روابط، اس کی دلچسپیاں، اس کے سفر، اس کی خریداری، اس کے جذباتی رجحانات،سب ایک ایسے تجارتی نظام میں داخل ہو چکے ہیں جو ان معلومات کو نفع، اثراندازی اور رویّہ سازی کے لیے استعمال کرتا ہے۔ “I Agree” پر ایک کلک کو رضامندی کہا جاتا ہے، مگر یہ رضامندی اکثر لاعلمی، مجبوری اور غیر متوازن طاقت کے ماحول میں حاصل کی جاتی ہے۔ یوں صارف بظاہر آزاد ہوتا ہے مگر اس کی آزادی کے گرد ایک غیر مرئی تجارتی نگرانی قائم رہتی ہے۔ گویا ڈیجیٹل منڈی اب دکان نہیں رہی، ایک ایسا خاموش اقتدار بن چکی ہے جو انسان کو دیکھتا بھی ہے، پڑھتا بھی ہے، اور بتدریج بناتا بھی ہے۔ اس یلغار کا تہذیبی پہلو بھی کم خطرناک نہیں۔ مقامی تہذیب، مقامی ذوق، مقامی زبان اور مقامی اقدار آہستہ آہستہ ایک ایسی عالمی ڈیجیٹل منڈی کے سانچے میں ڈھالی جا رہی ہیں جس میں ہر شے “کنٹینٹ” بن جاتی ہے۔ اب کھانا بھی کنٹینٹ ہے، لباس بھی کنٹینٹ، رشتہ بھی کنٹینٹ، عبادت بھی کنٹینٹ اور دکھ بھی کنٹینٹ۔ جو چیز زیادہ دیکھی جا سکتی ہے وہی اہم قرار پاتی ہے، جو زیادہ بکتی ہے وہی خوبصورت سمجھی جاتی ہے، اور جو زیادہ وائرل ہوتی ہے وہی سچ محسوس ہونے لگتی ہے۔ یوں تہذیب ایک زندہ اجتماعی تجربہ نہیں رہتی بلکہ ایک فروخت کے قابل منظرنامہ بن جاتی ہے۔ مقامی سادگی، فکری وقار، ذوق کی شائستگی اور زندگی کی سنجیدگی کی جگہ ایسی نمائشی ثقافت لے لیتی ہے جس کا بنیادی مقصد توجہ حاصل کرنا اور منڈی کو متحرک رکھنا ہوتا ہے۔ اس عمل میں زبان بھی متاثر ہوتی ہے، ذوق بھی، رشتے بھی اور خودی کا تصور بھی۔ ڈیجیٹل منڈی کا ایک اور خطرناک نتیجہ یہ ہے کہ یہ معاشرے کو شہریوں کے بجائے صارفین میں بدل دیتی ہے۔ جب انسان کی تربیت مسلسل اس طور پر ہو کہ وہ ہر شے کو خریدنے، دکھانے، برانڈ بنانے اور فوری لذت حاصل کرنے کے زاویے سے دیکھے تو پھر تعلیم، صحت، انصاف، ماحولیات، مزدوروں کے حقوق، سماجی نابرابری اور سیاسی شفافیت جیسے سوالات اس کی ترجیحات سے پیچھے چلے جاتے ہیں، جبکہ سیل، سبسکرپشن، فالوورز، ویوز اور رعایتی کوڈ سامنے آ جاتے ہیں۔ یوں جمہوری شعور بتدریج کمزور پڑنے لگتا ہے۔ انسان اپنے عہد کے بڑے اخلاقی اور سماجی سوالات سے زیادہ اپنی ذاتی نمائش، ذاتی پسند اور ذاتی خریداری میں الجھ جاتا ہے۔ یہ محض ذوق کی تبدیلی نہیں، ترجیحات کی ایسی سیاسی تشکیل ہے جو معاشرے کو اندر سے غیر سنجیدہ، منتشر اور سطحی بناتی ہے۔ کیا ڈیجیٹل دنیا یا آن لائن تجارت بذاتِ خود شر ہے ؟ مسئلہ ٹیکنالوجی کے وجود میں نہیں، اس کے غیر منضبط استعمال، غیر شفاف تجارتی ڈھانچے، کمزور قانونی نگرانی اور صارف کی فکری بے تیاری میں ہے۔ آن لائن منڈی مقامی کاروبار کو وسعت دے سکتی ہے، نوجوانوں اور خواتین کے لیے معاشی مواقع پیدا کر سکتی ہے، علم اور معلومات تک رسائی آسان بنا سکتی ہے اور روزمرہ زندگی کی کئی مشکلات کم کر سکتی ہے۔ مگر جب یہی نظام انسان کو اس کی اصل ضرورتوں سے کاٹ کر خواہشات کی فیکٹری میں دھکیل دے، اس کی توجہ کو منافع کے لیے قید کر لے، اس کی شناخت کو برانڈنگ کے سپرد کر دے، اور اس کے نجی ڈیٹا کو تجارتی ہتھیار میں بدل دے، تو پھر یہ محض سہولت نہیں رہتی، ایک تہذیبی چیلنج بن جاتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس یلغار کے مقابلے کی صورت کیا ہے؟ اس کا پہلا جواب ڈیجیٹل خواندگی ہے، مگر صرف اس معنی میں نہیں کہ ہم ایپ استعمال کرنا یا آن لائن خریداری کرنا سیکھ لیں۔ اصل ڈیجیٹل خواندگی یہ ہے کہ ہم سمجھیں الگورتھم کیسے کام کرتے ہیں، اشتہار ہماری نفسیات کو کیسے ہدف بناتا ہے، ڈیٹا کس طرح جمع اور استعمال ہوتا ہے، اور “مفت” پلیٹ فارمز کی اصل قیمت کیا ہے۔ دوسرا قدم گھروں اور تعلیمی اداروں میں تنقیدی شعور کی تربیت ہے تاکہ نوجوان ہر وائرل شے کو سچ، ہر اشتہار کو ضرورت اور ہر نمائش کو کامیابی نہ سمجھیں۔ تیسرا قدم ریاستی سطح پر ڈیٹا پروٹیکشن، بچوں کے آن لائن تحفظ، اشتہاری شفافیت اور ٹیک کمپنیوں کی جواب دہی کے لیے واضح قوانین اور مؤثر عمل درآمد ہے۔ اور چوتھا قدم فرد کی سطح پر یہ اخلاقی تربیت ہے کہ وہ اپنی زندگی کو اسکرین کے بجائے شعور، مطالعے، رشتوں، کردار اور حقیقی تجربات کے مرکز میں رکھے۔ درحقیقت ڈیجیٹل منڈی کے خلاف مزاحمت خریداری ترک کرنے کا نام نہیں، شعور بحال کرنے کا نام ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ انسان چیزیں خریدتا ہے؛ مسئلہ یہ ہے کہ کہیں چیزیں انسان کو خرید نہ لیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ کہیں ٹیکنالوجی ہماری خواہش، توجہ، وقت اور شناخت کو اس طرح استعمال نہ کرنے لگے کہ ہم اپنے ہی وجود میں ثانوی ہو جائیں۔ اگر ہم نے ڈیجیٹل منڈی کو محض سہولت، تفریح اور جدیدیت کے خوش نما پردے میں دیکھتے رہنے کی غلطی کی تو بہت جلد ہمیں احساس ہوگا کہ ہم نے صرف چند ایپس نہیں اپنائیں بلکہ اپنی فکری آزادی، تہذیبی خودمختاری اور انسانی وقار کے کئی حصے خاموشی سے منڈی کے حوالے کر دیے ہیں۔ ڈیجیٹل منڈی کی یہ یلغار دراصل نئی نوآبادیات ہے؛ ایسی نوآبادیات جس میں زمینیں نہیں، ذہن فتح کیے جاتے ہیں؛ زنجیریں نہیں پہنائی جاتیں، خواہشیں ڈیزائن کی جاتی ہیں؛ اور انسان سے اس کی محنت ہی نہیں، اس کی توجہ، اس کی تنہائی، اس کی نجی زندگی اور اس کی شناخت تک حاصل کر لی جاتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ یلغار موجود ہے یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ ہم اس کے سامنے محض صارف بن کر کھڑے ہیں یا باشعور انسان بن کر۔ آج کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ ڈیجیٹل منڈی اب کسی شہر کے وسط میں قائم بازار نہیں، بلکہ ہمارے ہاتھ کی ہتھیلی، ہماری جیب، ہمارے کمرے، ہمارے بچوں کے ذہن، ہماری خواہشوں اور ہماری ترجیحات کے اندر آباد ہو چکی ہے۔ یہ منڈی صرف اشیا نہیں بیچتی؛ یہ ذوق بناتی ہے، محرومیاں تراشتی ہے، ترجیحات بدلتی ہے، شناختیں مرتب کرتی ہے اور آہستہ آہستہ انسان کو اس کی اپنی ذات سے دور لے جاتی ہے۔ اگر اس عہد میں انسان نے اپنے شعور، اپنی تہذیبی خودمختاری اور اپنی اخلاقی بصیرت کی حفاظت نہ کی تو آنے والے زمانوں میں اسے شاید یہ احساس بھی نہ رہے کہ وہ کب ایک آزاد انسان سے ڈیجیٹل منڈی کا مستقل گاہک، پھر اس کا خام مال، اور آخرکار اس کی پیداوار بن گیا۔ اس لیے اب وقت صرف اس بات کا نہیں کہ ہم اس منڈی سے کیا خرید رہے ہیں، بلکہ اس بات کا بھی ہے کہ یہ ڈیجیٹل منڈی ہم سے کیا خرید رہی ہے۔ |
|