پہاڑوں کے درمیان امید کی نئی راہیں
(Shahid Afraz Khan, Beijing)
|
پہاڑوں کے درمیان امید کی نئی راہیں تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
دور افتادہ پہاڑی علاقوں میں ترقی کا سفر اکثر مشکل، طویل اور صبر آزما ہوتا ہے، تاہم جب مقامی سطح پر قیادت، عزم اور مسلسل محنت شامل ہو جائے تو وہی علاقے ترقی کی مثال بن جاتے ہیں۔چین کے صوبہ سیچوان کے لیانگشان یی خود اختیار پریفیکچر کے ایک دور دراز گاؤں میں بھی ایسی ہی ایک تبدیلی کی کہانی سامنے آئی ہے، جہاں ایک نوجوان مقامی رہنما جی لائے زری نے اپنے علاقے کو غربت سے نکالنے اور ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔
یہ گاؤں، جس کا نام مقامی زبان میں "وہ جگہ جہاں کم لوگ پہنچتے ہیں" کے معنی رکھتا ہے، طویل عرصے تک چین کا وہ آخری گاؤں سمجھا جاتا تھا جہاں تک باقاعدہ سڑک نہیں تھی۔ سخت پہاڑی راستوں، دریا کے خطرناک عبور اور بنیادی سہولیات کی کمی نے یہاں کے لوگوں کی زندگی کو انتہائی مشکل بنا رکھا تھا۔
گاؤں سے تعلق رکھنے والے نوجوان عہدیدار جی لائے زری ، جو کمیونسٹ پارٹی کے مقامی سطح کے رہنما کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، اسی گاؤں کے پہلے یونیورسٹی گریجویٹ بھی ہیں۔ انہوں نے بچپن میں درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اسکول جانے کے لیے انہیں گھنٹوں پہاڑی راستے طے کرنے پڑتے تھے، بارش کے موسم میں خطرناک راستوں سے گزرنا پڑتا تھا اور ایک موقع پر دریا عبور کرتے ہوئے شدید حادثہ بھی پیش آیا۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہیں شہر میں ملازمت کے مواقع بھی ملے، لیکن انہوں نے اپنے گاؤں واپس آ کر خدمت کا فیصلہ کیا تاکہ اپنے علاقے کی تقدیر بدل سکیں۔ ان کے مطابق بنیادی مسئلہ سڑک کی عدم موجودگی تھی، جس کے بغیر ترقی کا خواب پورا ہونا ممکن نہیں تھا۔
کئی سال کی کوششوں اور مختلف حکومتی اداروں کے تعاون سے بالآخر 2020 میں گاؤں تک سڑک کی تعمیر مکمل ہوئی، جس کے لیے مشکل پہاڑی علاقوں میں بھاری مشینری ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچائی گئی۔ یہ منصوبہ علاقے کے لیے ایک بڑی تبدیلی کا نقطہ ثابت ہوا۔
سڑک کی تعمیر کے بعد مقامی قیادت نے معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر توجہ دی۔ زرعی ماہرین کے مشورے سے علاقے میں ناویلی مالٹے کی کاشت شروع کی گئی، جبکہ حکومت کی مدد سے آبپاشی کے جدید نظام بھی متعارف کرائے گئے۔ اس منصوبے کے تحت اب درجنوں ہیکٹر پر باغات موجود ہیں اور گزشتہ سال ان سے قابل ذکر آمدن بھی حاصل ہوئی۔
اس ترقیاتی عمل نے دیگر نوجوانوں کو بھی متاثر کیا ہے، جن میں ایک مقامی نوجوان ایڈا نویسا بھی شامل ہے جو اب گاؤں کے اکاؤنٹنٹ اور گاؤں کے تاریخی مرکز میں رہنمائی کی خدمات انجام دے رہا ہے۔ ایڈا نویسا کے مطابق ماضی کے مقابلے میں آج کے حالات مکمل طور پر بدل چکے ہیں، جہاں پہلے بنیادی سہولیات کا تصور بھی مشکل تھا، اب وہاں بہتر رہائش اور سہولیات موجود ہیں۔
جی لائے زری کا کہنا ہے کہ ان کی کوششوں کا مقصد صرف انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ عوامی خدمت ہے، تاکہ حکومتی پالیسیوں کو زمینی سطح تک مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے اور حقیقی تبدیلی لائی جا سکے۔
یہ کہانی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ جب مقامی سطح پر عزم، قیادت اور حکومتی تعاون یکجا ہو جائیں تو دور دراز اور پسماندہ علاقے بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کی بہتری، زرعی اصلاحات اور نوجوان قیادت کی واپسی نہ صرف معاشی حالات کو بدلتی ہے بلکہ لوگوں کی زندگیوں میں امید اور اعتماد بھی پیدا کرتی ہے۔ |
|