صنعتی جدت، مصنوعی ذہانت اور سبز ترقی کا امتزاج

صنعتی جدت، مصنوعی ذہانت اور سبز ترقی کا امتزاج
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

توانائی کسی بھی جدید معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے، اور بجلی کی کھپت کسی ملک کی صنعتی سرگرمی، تکنیکی ترقی اور طرزِ زندگی کی واضح عکاس ہوتی ہے۔ حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت اور سبز ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ نے بجلی کی طلب کو غیر معمولی طور پر بڑھا دیا ہے۔ ایسے پس منظر میں چین کے توانائی سے متعلق تازہ ترین اعداد و شمار نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے، جو نہ صرف مقدار کے لحاظ سے غیر معمولی ہیں بلکہ معیشت میں آنے والی ساختی تبدیلیوں کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔

چین کی قومی توانائی انتظامیہ کے مطابق 2025 میں چین کی مجموعی بجلی کھپت 10.4 ٹریلین کلو واٹ آور تک پہنچ گئی۔ یہ تاریخ میں پہلی بار ہے کہ کسی ایک ملک نے بجلی کے استعمال میں 10 ٹریلین کلو واٹ آور کی حد عبور کی ہو۔ یہ اعداد و شمار عالمی سطح پر ایک نیا ریکارڈ تصور کیے جا رہے ہیں۔
ادارے کے مطابق چین کی بجلی کھپت امریکہ سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے، جبکہ یہ یورپی یونین، روس، بھارت اور جاپان کی مجموعی بجلی کھپت سے بھی بڑھ چکی ہے۔ یہ فرق محض آبادی کے حجم کا نتیجہ نہیں بلکہ معاشی ڈھانچے میں گہری تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بجلی کے استعمال میں یہ اضافہ چین کی معیشت میں جاری اس ساختی تبدیلی کا مظہر ہے، جس میں جدید صنعت، مصنوعی ذہانت اور سبز ترقی مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ روایتی صنعتوں کے ساتھ ساتھ ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ، ڈیجیٹل سروسز اور کم کاربن شعبے توانائی کی طلب کو نئی سمت دے رہے ہیں۔

یہ تبدیلی عالمی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بنی ہے۔ حال ہی میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ڈیووس میں ہونے والی ایک گفتگو کے دوران ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک نے کہا کہ عالمی مصنوعی ذہانت کی صنعت کو توانائی کی کمی جیسے مسئلے کا سامنا ہے، کیونکہ چِپس کی پیداوار بجلی کی فراہمی سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال میں چین ایک نمایاں استثنا کے طور پر سامنے آتا ہے، جہاں بجلی کی پیداوار اور کھپت میں غیر معمولی رفتار دیکھی جا رہی ہے۔
چین کے اندر بجلی کی طلب میں تبدیلی صنعتی اپ گریڈیشن اور نئی نسل کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے گہرے امتزاج کا نتیجہ ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق مختلف نئے صنعتی اور خدماتی شعبے بجلی کی کھپت میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔مثال کے طور پر ،مشرقی چین کے صوبہ زے چیانگ کے شہر ہانگ چو میں قائم ایک نیو مٹیریلز تیار کرنے والی کمپنی نے 2025 میں 25 ملین کلو واٹ آور سے زائد بجلی استعمال کی۔ اس اضافے کی وجہ ہائی پیوریٹی سیمی کنڈکٹر آلات اور توانائی ذخیرہ کرنے والے الیکٹروڈز کی نئی پیداواری لائنوں کا قیام تھا۔ سیمی کنڈکٹر اور مصنوعی ذہانت سے متعلق مواد کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث کمپنی کو آرڈرز میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔

مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار توسیع نے خدمات کے شعبے میں بھی بجلی کی طلب کو بڑھایا ہے۔ اسی صوبے میں ایک ذہین بزرگوں کی دیکھ بھال کی خدمات فراہم کرنے والے ادارے نے بتایا کہ 2025 میں اس کی بجلی کھپت میں سالانہ بنیادوں پر 25 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ لارج ڈیٹا ماڈلز کی تربیت اور نئی مصنوعات کی جانچ تھی۔

ادھر ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بجلی کے استعمال میں بھی تیزی آ رہی ہے۔ جنوبی چین کے صوبے گوانگ ڈونگ میں صوبائی پاور گرڈ کے زیرِ انتظام چارجنگ اسٹیشنز پر 2025 کے دوران تقریباً 800 ملین کلو واٹ آور بجلی استعمال ہوئی۔ یہ سلسلہ مسلسل چھٹے سال جاری اضافے کی نشاندہی کرتا ہے، جو برقی گاڑیوں کے فروغ کا واضح ثبوت ہے۔

اس بڑھتی ہوئی طلب کے ساتھ ساتھ صاف توانائی کی فراہمی میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ قومی توانائی انتظامیہ کے مطابق 2025 میں سبز بجلی کی تجارت کا حجم 328.5 بلین کلو واٹ آور تک پہنچ گیا، جو ایک سال میں 38.3 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے اور 2022 کے مقابلے میں 18 گنا زیادہ ہے۔ اس توسیع نے کم کاربن بجلی کے لیے بڑھتی ہوئی صنعتی طلب کو پورا کرنے میں مدد دی اور چین کی صنعتی ساخت کو زیادہ ماحول دوست بنانے میں کردار ادا کیا۔

چین کی بجلی کی کھپت میں ریکارڈ اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک نہ صرف صنعتی اور تکنیکی ترقی کی نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے بلکہ توانائی کے شعبے میں پائیداری کو بھی ساتھ لے کر چل رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت، جدید صنعت اور سبز توانائی کا امتزاج چین کو ڈیجیٹل دور کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے قابل بنا رہا ہے۔ یہ ماڈل ظاہر کرتا ہے کہ بڑے پیمانے اور ماحولیاتی ذمہ داری کو یکجا کر کے نہ صرف معاشی ترقی ممکن ہے بلکہ کم کاربن مستقبل کی جانب عملی پیش رفت بھی کی جا سکتی ہے۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1099241 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More