روشنی کے دیس میں اندھیروں کا سفر

روشنی کے دیس میں اندھیروں کا سفر
طارق محمود مرزا ۔ آسٹریلیا
[email protected]
رات کے دس بج رہے تھے۔ لاہور کے ایک متوسط گھرانے میں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ پنکھے خاموش تھے، کمرے کی دیواریں گرمی سے تپ رہی تھیں، ایک ماں ہاتھ سے پنکھا جھلتے ہوئے اپنے بیمار بچے کو سلانے کی کوشش کر رہی تھی، جبکہ باپ ہاتھ میں بجلی کا بل لیے خاموش بیٹھا تھا۔ اس کی نگاہیں بار بار اس رقم پر جا کر رک جاتی تھیں جو اس کی ایک ماہ کی آمدنی کا بڑا حصہ نگل چکی تھی۔ گھر کا بڑا بیٹا موبائل کی مدھم روشنی میں امتحان کی تیاری کر رہا تھا اور چھوٹا بچہ معصومیت سے پوچھ رہا تھا ۔ابو کیا بجلی پھر چلی گئی ہے۔یہ کسی ایک خاندان کی کہانی نہیں، بلکہ آج کے پاکستان کے لاکھوں گھروں کی روزمرہ حقیقت ہے۔ ایک ایسا ملک جسے قدرت نے بلند پہاڑ، بہتے دریا، تیز دھوپ، ہوائیں اور بے پناہ قدرتی وسائل عطا کیے ہیں، وہاں سایہ فگن تاریکیاں صرف رات کی نہیں، بلکہ نظام کی بھی ہیں۔پاکستان میں توانائی کا بحران محض بجلی کی پیداوار کا مسئلہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک کئی برسوں سے ایک ایسے دائرے میں گردش کر رہا ہے جس کا نام گردشی قرضہ ہے۔ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں ادائیگیوں کی منتظر رہتی ہیں، تقسیم کار ادارے نقصانات کا شکار ہیں، بجلی چوری اور لائن لاسز قومی خزانے کو کھوکھلا کر رہے ہیں، جبکہ پالیسیوں کا تسلسل ہر نئی حکومت کے ساتھ بدل جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بجلی موجود ہونے کے باوجود عوام تک سستی اور مسلسل بجلی نہیں پہنچ پاتی۔اس بحران کا سب سے زیادہ بوجھ وہ شخص اٹھاتا ہے جو اس کا ذمہ دار نہیں۔ ایک مزدور جو روزانہ کی اجرت پر اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے، ایک چھوٹا دکاندار جس کا فریج بجلی نہ ہونے سے بار بار خراب ہو جاتا ہے، ایک طالب علم جس کے خواب لوڈشیڈنگ کی نذر ہو جاتے ہیں، اور ایک صنعت کار جو اپنی فیکٹری کی مشینیں بند ہونے پر مزدوروں کو فارغ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔توانائی صرف بلب جلانے کا نام نہیں، بلکہ معیشت کا دل ہے۔ جب بجلی مہنگی ہوتی ہے تو صنعت مہنگی ہوتی ہے، صنعت مہنگی ہو تو اشیائے ضروریہ مہنگی ہوتی ہیں، اور جب مہنگائی بڑھتی ہے تو سب سے پہلے غریب کی دسترخوان سکڑ جاتی ہے۔
گزشتہ تین دہائیوں سے آسٹریلیا میں رہتے ہوئے مجھے اس نظام کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ یہاں بھی کبھی کبھار بجلی منقطع ہوتی ہے، بعض ریاستوں میں نرخوں پر بحث بھی ہوتی ہے، لیکن فرق یہ ہے کہ یہاں بحران مستقل نہیں بنتا۔ اس کی بنیادی وجہ وسائل سے زیادہ انتظام ہے۔آسٹریلیا نے برسوں پہلے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ توانائی کو سیاست سے زیادہ منصوبہ بندی کے تابع ہونا چاہیے۔ ہر ریاست اپنی ضروریات کے مطابق منصوبے بناتی ہے، بجلی کی ترسیل کے نظام کو مسلسل جدید بنایا جاتا ہے، صارفین کو بروقت معلومات فراہم کی جاتی ہیں، اور سب سے بڑھ کر قابلِ تجدید توانائی پر مسلسل سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔آج آسٹریلیا کی چھتوں پر لاکھوں سولر پینل نصب ہیں۔ دیہی علاقوں میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے بڑے بڑے ونڈ فارم نظر آتے ہیں۔ حکومت عوام کو متبادل توانائی اختیار کرنے کی ترغیب دیتی ہے، جبکہ نجی شعبہ بھی اس عمل میں بھرپور شریک ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہاں منصوبے حکومتوں کے بدلنے سے ختم نہیں ہوتے بلکہ قومی مفاد کے تحت جاری رہتے ہیں۔
پاکستان کے پاس تو آسٹریلیا سے کہیں زیادہ دھوپ ہے۔ بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب کے وسیع میدان دنیا کے بہترین سولر زونز میں شمار ہوتے ہیں۔ شمالی علاقوں کے دریا سستی پن بجلی پیدا کرنے کی بے مثال صلاحیت رکھتے ہیں۔ ساحلی علاقوں میں ہوا کی طاقت بھی کسی سے کم نہیں۔ سوال وسائل کا نہیں، سوال نیت، منصوبہ بندی اور عملدرآمد کا ہے۔بدقسمتی سے ہم نے کئی دہائیوں تک توانائی کو قومی حکمت عملی کے بجائے سیاسی منصوبوں کی نظر کر دیا۔ ہر نئی حکومت نے پچھلی حکومت کے منصوبوں پر اعتراض کیا، نئی ترجیحات متعارف کروائیں اور یوں قومی تسلسل متاثر ہوتا رہا۔ ترقی کا پہیہ وہاں نہیں چلتا جہاں پالیسیاں ہر پانچ سال بعد بدل جائیں۔
پاکستان کو آسٹریلیا کی اندھی تقلید کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے حالات، آبادی اور معیشت مختلف ہیں۔ البتہ چند بنیادی اصول ضرور سیکھے جا سکتے ہیں۔ سب سے پہلے توانائی کی پالیسی کو سیاسی تبدیلیوں سے بالاتر کر کے قومی پالیسی بنایا جائے۔ بجلی چوری اور لائن لاسز کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہو۔ ترسیلی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ سولر، ونڈ اور ہائیڈرو جیسے سستے ذرائع پر بھرپور سرمایہ کاری کی جائے۔ عوام کو بھی بجلی کے ذمہ دارانہ استعمال کی ترغیب دی جائے تاکہ توانائی کی بچت قومی ثقافت کا حصہ بن سکے۔یہ بھی ضروری ہے کہ بجلی کے نرخ مقرر کرتے وقت صرف اعدادوشمار نہیں بلکہ عام آدمی کی زندگی کو بھی سامنے رکھا جائے۔ وہ بل جو ایک سرکاری دفتر میں بیٹھ کر محض ایک فائل معلوم ہوتا ہے، کسی مزدور کے لیے پورے مہینے کی روٹی، بچوں کی تعلیم یا دواؤں کی قیمت بھی ہو سکتا ہے۔دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے صرف بجلی پیدا نہیں کی بلکہ اعتماد پیدا کیا۔ انہوں نے اداروں کو مضبوط کیا، قانون کو طاقت دی، اور قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی۔ یہی وہ روشنی ہے جس کی پاکستان کو آج سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
اندھیروں کو کوسنے سے چراغ نہیں جلتے۔ چراغ اس وقت روشن ہوتے ہیں جب قومیں اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں، درست سمت کا انتخاب کریں اور مستقل مزاجی سے سفر جاری رکھیں۔ پاکستان کے پاس وسائل بھی ہیں، صلاحیت بھی ہے اور نوجوان نسل بھی۔ اگر شفاف حکمرانی، طویل المدتی منصوبہ بندی اور دیانت دار قیادت میسر آ جائے تو وہ دن دور نہیں جب یہ ملک صرف اپنی ضرورت پوری نہیں کرے گا بلکہ توانائی کے میدان میں خطے کے لیے ایک مثال بھی بن سکتا ہے۔آخر میں یہی کہنا مناسب ہوگا کہ قوموں کی ترقی کا راز صرف بجلی کے کھمبوں اور تاروں میں نہیں ہوتا، بلکہ ان اصولوں میں ہوتا ہے جن پر ان کے نظام قائم ہوتے ہیں۔ جب نظام روشن ہو جائے تو گھر بھی روشن ہو جاتے ہیں، صنعت بھی، معیشت بھی اور مستقبل بھی۔

 
Tariq Mirza
About the Author: Tariq Mirza Read More Articles by Tariq Mirza: 57 Articles with 59965 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.