15 ماہ سے زیرِ التوا RTI: ٹورازم پولیس کی موٹر سائیکلیں کہاں ہیں، اور ریکارڈ شاید ابھی راستے میں ہے؟**

خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی سے ایک انتہائی خطرناک سوال پوچھا گیا تھا۔ نہ یہ سوال کسی خفیہ آپریشن سے متعلق تھا، نہ کسی حساس سرکاری راز سے، نہ ہی کسی افسر کے گھر کا نقشہ مانگا گیا تھا۔ سوال صرف اتنا تھا کہ **سرکاری موٹر سائیکلیں کہاں ہیں، کون استعمال کر رہا ہے، کہاں جاتی ہیں، کتنا پٹرول پیتی ہیں اور ان کا حساب کتاب کہاں لکھا جاتا ہے؟**۔لیکن لگتا ہے سوال کچھ زیادہ ہی مشکل تھا۔کیونکہ یہ RTI درخواست **8 مئی 2025** کو جمع ہوئی تھی اور آج **12 اگست 2026** ہے۔ یعنی تقریباً **15 ماہ** گزر چکے ہیں، مگر معلومات ابھی تک اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکیں۔

درخواست گزار نے انتظار بھی کیا، صبر بھی کیا اور بالآخر 11 جولائی 2025** کو خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن سے رجوع بھی کر لیا۔ شکایت/ڈیٹا نمبر **12677** بھی موجود ہے۔اب صورتحال کچھ یوں دکھائی دیتی ہے کہ موٹر سائیکلیں شاید اپنے کام پر ہوں، پٹرول شاید جل رہا ہو، مینٹیننس شاید ہو رہی ہو، مگر ان سب کا ریکارڈ ایک ایسی طویل سرکاری ٹریفک میں پھنسا ہوا ہے جہاں سگنل کب سبز ہوگا، کسی کو معلوم نہیں۔سوال صرف چھ موٹر سائیکلوں کا ہے، مگر جواب پورے نظام کا مانگا جا رہا ہے**RTI میں بنیادی طور پر سرکاری اثاثوں اور عوامی پیسے کے استعمال سے متعلق معلومات طلب کی گئی تھیں۔ یعنی پوچھا گیا کہ گزشتہ 12 ماہ کے دوران ٹورازم پولیس کی موٹر سائیکلوں پر ضلع وار کتنا پٹرول خرچ ہوا؟

ہر موٹر سائیکل ماہانہ کتنے لیٹر پٹرول استعمال کرتی رہی؟ پٹرول کے لیے کتنا بجٹ مختص کیا گیا اور اس میں سے کتنی رقم خرچ ہوئی؟ مختلف سیاحتی اضلاع میں ٹورازم پولیس کے کتنے اہلکار تعینات ہیں؟ موٹر سائیکلیں اس وقت کہاں موجود ہیں؟ وہ کن سرکاری مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہیں؟ ان کی موومنٹ کا ریکارڈ کہاں ہے؟ لاگ بک کہاں ہے؟ مینٹیننس ریکارڈ کہاں ہے؟ یعنی درخواست میں وہی چیزیں مانگی گئیں جو عام طور پر کسی سرکاری گاڑی یا موٹر سائیکل کے بارے میں محکمہ خود بھی جاننا چاہتا ہے۔ اگر کسی موٹر سائیکل کی ڈیوٹی ہے تو اس کی لاگ بک ہونی چاہیے۔ اگر پٹرول ملتا ہے تو پٹرول کا حساب ہونا چاہیے۔ اگر مرمت ہوتی ہے تو مینٹیننس ریکارڈ ہونا چاہیے۔ اگر موٹر سائیکل کسی افسر یا اہلکار کے پاس ہے تو اس کا سرکاری ریکارڈ ہونا چاہیے۔ اور اگر یہ سب کچھ موجود ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ **اسے فراہم کرنے میں 15 ماہ کیوں لگ رہے ہیں؟**

آر ٹی آئی میں خاص طور پر پشاور میں موجودچھ موٹر سائیکلوں کے بارے میں بھی معلومات طلب کی گئیں۔ یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ یہ چھ موٹر سائیکلیں اس وقت کہاں ہیں؟ گزشتہ ایک سال کے دوران انہیں کن سرکاری مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا؟ کیا یہ فیلڈ ڈیوٹی انجام دے رہی ہیں؟ کیا یہ دفتر میں کھڑی رہتی ہیں؟ کیا ان کے روزانہ یا ماہانہ استعمال کا کوئی ریکارڈ موجود ہے؟ اور سب سے اہم سوالاگر یہ موٹر سائیکلیں سرکاری ڈیوٹی کے لیے ہیں تو ان کی موومنٹ کا ریکارڈ کہاں ہے؟**

یہاں ذرا تصور کریں۔ ایک موٹر سائیکل صبح دفتر سے نکلتی ہے۔ سرکاری موٹر سائیکل ہے۔ سرکاری پٹرول استعمال کرتی ہے۔ سرکاری مینٹیننس ہوتی ہے۔ تو نظری طور پر اس کی ایک سرکاری زندگی بھی ہونی چاہیے۔ صبح کہاں گئی؟ دوپہر کہاں گئی؟ کتنے کلومیٹر چلی؟ کس اہلکار کے پاس تھی؟ کس کام کے لیے استعمال ہوئی؟ کتنا پٹرول استعمال ہوا؟ کب واپس آئی؟ یہ سب کچھ لاگ بک میں ہونا چاہیے۔ لیکن اگر 15 ماہ تک صرف ان سوالات کا جواب نہیں ملتا تو عوام کے ذہن میں لازماً یہ سوال پیدا ہوگا کہ موٹر سائیکلوں سے زیادہ تیز رفتار چیز شاید فائلوں کی خاموشی ہے۔

یہاں معاملہ بہت سادہ ہے۔ اگر ریکارڈ موجود ہے تو معلومات فراہم کی جائیں۔ اگر ریکارڈ موجود نہیں ہے تو یہ اس سے بھی بڑا سوال ہے کہ سرکاری اثاثوں کا حساب کیسے رکھا جا رہا ہے؟ اور اگر ریکارڈ موجود ہے لیکن معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں تو پھر سوال RTI کے قانون پر آتا ہے۔ آخر حقِ معلومات کا مقصد کیا ہے؟ کیا عوام کو صرف یہ بتانا ہے کہ حکومت میں شفافیت موجود ہے؟ یا واقعی عوام کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ سرکاری پیسے سے خریدے گئے اثاثوں کے بارے میں دستاویزی معلومات حاصل کر سکیں؟

یہاں مزاحیہ صورتحال یہ ہے کہ **موٹر سائیکلوں کی موجودگی معلوم کرنے کے لیے 15 ماہ سے معلومات مانگی جا رہی ہیں۔ اگر یہی رفتار ٹریفک پولیس اختیار کر لے تو شاید ایک موٹر سائیکل چالان ہونے سے پہلے اپنی پوری زندگی مکمل کر لے۔ لیکن یہ معاملہ مزاحیہ ہونے کے باوجود سنجیدہ ہے۔ کیونکہ سرکاری اثاثہ کوئی ذاتی ملکیت نہیں ہوتا۔اسے عوام کے پیسے سے خریدا جاتا ہے۔ اس پر پٹرول بھی عوام کے پیسے سے ڈالا جاتا ہے۔ اس کی مرمت بھی سرکاری بجٹ سے ہوتی ہے۔اس لیے اس کا حساب بھی عوام کے سامنے ہونا چاہیے۔لیکن ایک بات واضح رہنی چاہیے**

یہاں ایک اہم قانونی فرق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔۔صرف اس بنیاد پر کہ RTI کا جواب دیر سے دیا گیا یا معلومات فراہم نہیں کی گئیں، **بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال یا موٹر سائیکلوں کے ذاتی استعمال کا الزام ثابت نہیں ہوتایہ بات واضح رہنی چاہیے۔ کسی بھی سرکاری افسر یا اہلکار کے خلاف الزام لگانے کے لیے دستاویزی ثبوت درکار ہوں گے۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی درست ہے کہ مسلسل عدمِ شفافیت سوالات ضرور پیدا کرتی ہے۔اور ان سوالات کا بہترین جواب قیاس، وضاحت یا زبانی دعویٰ نہیں بلکہ **ریکارڈ** ہے۔

اگر موٹر سائیکلیں فیلڈ میں استعمال ہو رہی ہیں تو لاگ بک دکھائی جائے۔ اگر پٹرول سرکاری ڈیوٹی پر خرچ ہوا ہے تو فیول ریکارڈ موجود ہوگا۔ اگر مینٹیننس ہوئی ہے تو ورکشاپ یا مرمت کا ریکارڈ ہوگا۔ اگر موٹر سائیکلیں کسی مخصوص اہلکار یا یونٹ کے پاس ہیں تو اسٹاک اور اثاثہ رجسٹر میں اندراج ہوگا۔ یعنی مسئلے کا حل انتہائی آسان ہے۔۔ ریکارڈ سامنے لائیں اور سوال ختم کریں۔ کمیشن سے بھی سوال بنتا ہے یہ درخواست صرف متعلقہ ادارے تک محدود نہیں رہی۔ جب **11 جولائی 2025** کو معاملہ خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن تک پہنچا اور شکایت/ڈیٹا نمبر **12677** جاری ہوا، تو ایک اور سوال پیدا ہوا۔

اس شکایت پر اب تک کیا کارروائی ہوئی؟ کیا متعلقہ ادارے سے جواب طلب کیا گیا؟ کیا کوئی سماعت ہوئی؟ کیا معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی؟ اگر ہدایت کی گئی تو اس پر عمل ہوا یا نہیں؟ اور اگر عمل نہیں ہوا تو اس کے بعد کیا کارروائی کی گئی؟ یہ تفصیلات بھی عوام کے لیے اہم ہیں۔کیونکہ RTI کا نظام صرف درخواست جمع کرنے کا نام نہیں۔اگر شہری معلومات مانگے، محکمہ جواب نہ دے، شہری کمیشن جائے، اور پھر معاملہ بھی طویل عرصے تک چلتا رہے، تو سوال صرف محکمہ سے نہیں بلکہ پورے معلوماتی نظام کی کارکردگی سے بھی پیدا ہوتا ہے۔

اصل سوال: موٹر سائیکلیں کہاں ہیں؟ آخرکار معاملہ دوبارہ انہی چھ موٹر سائیکلوں پر آ جاتا ہے۔ پشاور میں موجود چھ موٹر سائیکلیں اس وقت کہاں ہیں؟ ان کے پاس کون سا یونٹ یا اہلکار ذمہ دار ہے؟ وہ گزشتہ 12 ماہ میں کتنے کلومیٹر چلی ہیں؟ کتنا پٹرول استعمال ہوا؟ کتنا خرچ آیا؟ کتنی مرتبہ مرمت ہوئی؟ کیا ان کی لاگ بک مکمل ہے؟ کیا اسٹاک رجسٹر میں اندراج موجود ہے؟ کیا اثاثہ رجسٹر میں ان کی تفصیل موجود ہے؟ اور کیا ان کا استعمال واقعی ان مقاصد کے لیے ہو رہا ہے جن کے لیے یہ سرکاری اثاثے فراہم کیے گئے تھے؟ یہ سوال کسی ایک شخص کے خلاف نہیں۔یہ سوال نظام کے بارے میں ہے۔اگر جواب صاف ہے تو شک ختم ہو جائے گا۔اگر ریکارڈ مکمل ہے تو شفافیت سامنے آ جائے گی۔اور اگر ریکارڈ میں کوئی تضاد ہے تواسے بھی دستاویزات کے ذریعے واضح کیا جا سکتا ہے۔

آخر میں معاملہ اتنا مشکل نہیں جتنا شاید نظر آتا ہے۔ ایک شہری نے پوچھا: **سرکاری موٹر سائیکلیں کہاں ہیں؟جواب ہونا چاہیے: **یہ رہی فہرست۔**پوچھا:**کتنا پٹرول خرچ ہوا؟**جواب:**یہ رہا فیول ریکارڈ۔**پوچھا:**کس نے استعمال کیا؟**جواب:**یہ رہی سرکاری ڈیوٹی اور موومنٹ تفصیل۔** پوچھا: **مینٹیننس کتنی ہوئی؟** جواب: **یہ رہا مینٹیننس ریکارڈ۔** پوچھا: **چھ موٹر سائیکلیں پشاور میں کہاں ہیں؟** جواب: **یہ رہا موجودہ اثاثہ ریکارڈ۔** بس۔ کہانی ختم۔

لیکن اگر ان سوالات کے جواب کے لیے **15 ماہ** درکار ہوں تو پھر عوام کے پاس ایک اضافی سوال ضرور بنتا ہے:**کیا موٹر سائیکلوں کا ریکارڈ بھی اتنی ہی رفتار سے سفر کر رہا ہے جتنی رفتار سے سرکاری موٹر سائیکلیں یہی وہ مقام ہے جہاں مزاح ختم اور احتساب شروع ہوتا ہے۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ **8 مئی 2025** کی RTI درخواست، شکایت نمبر **12677** اور پشاور میں موجود چھ موٹر سائیکلوں سے متعلق تمام متعلقہ دستاویزات سامنے لائیں۔عوام کو کسی سنسنی خیز الزام کی ضرورت نہیں۔انہیں صرف **ریکارڈ** چاہیے۔کیونکہ عوامی پیسے سے خریدی گئی موٹر سائیکل کا پہلا حق سڑک پر چلنے کا ہے، اور دوسرا حق **حساب دینے کا۔**

**#RTI #KhyberPakhtunkhwa #TourismPolice #KPCTA #Transparency #Accountability #PublicFunds #PublicAssets #RightToInformation #InvestigativeJournalism #Peshawar #Tourism #GovernmentAccountability #KPInformationCommission #TaxpayersMoney**



Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1046 Articles with 803596 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More