اخبارات بند کرنا حل نہیں، حساب دینا ہوگا
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
پشاور ہائیکورٹ کی حالیہ سماعت نے خیبر پختونخوا کی اخباری صنعت کا وہ رخ بے نقاب کر دیا ہے جس پر برسوں سے خاموشی طاری تھی۔ عدالت میں معاملہ بظاہر سرکاری اشتہارات کے بقایاجات کا تھا، لیکن سماعت کے دوران سامنے آنے والے حقائق نے پوری بحث کا رخ بدل دیا۔ عدالت نے واضح سوال اٹھایا کہ اگر حکومت نے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کر رکھی ہے تو پھر ایسے اخبارات کیوں موجود ہیں جہاں صحافیوں کو پانچ، آٹھ یا دس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جا رہی ہے؟ بعض صحافی تو کئی کئی ماہ کی تنخواہوں سے بھی محروم ہیں۔
یہ سوال صرف عدالت کا نہیں بلکہ پورے معاشرے، میڈیا انڈسٹری اور ان تمام افراد کا ہے جو آزادی صحافت کی بات کرتے ہیں۔
عدالت کے ریمارکس سامنے آنے کے چند ہی گھنٹوں بعد بعض اخباری مالکان کی جانب سے اخبارات بند کرنے کی خبریں سامنے آئیں۔ کہیں اخبار بند کرنے کا اعلان کیا گیا، کہیں ملازمین کو غیر یقینی صورتحال میں چھوڑ دیا گیا اور کہیں یہ تاثر دیا گیا کہ اگر حکومت نے بقایاجات ادا نہ کیے تو اخبارات چلانا ممکن نہیں۔
یہ طرز عمل کئی بنیادی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
اگر واقعی حکومت پر کروڑوں روپے کے واجبات ہیں تو ان کی وصولی کے لیے عدالتیں، قانون اور آئینی راستے موجود ہیں۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے اخبار بند کر دیا جائے؟ کیا اس سے پہلے ان صحافیوں، سب ایڈیٹروں، رپورٹرز، فوٹو جرنلسٹس، کمپوزرز، ڈیزائنرز، پرنٹنگ پریس کے مزدوروں، سرکولیشن اسٹاف اور دیگر ملازمین کے تمام بقایاجات ادا کیے گئے جنہوں نے برسوں ان اداروں کو زندہ رکھا؟
اگر جواب نفی میں ہے تو پھر یہ صرف ایک کاروباری فیصلہ نہیں بلکہ مزدوروں کے بنیادی حقوق سے دستبرداری ہے۔
پشاور ہائیکورٹ نے کوئی غیر معمولی حکم نہیں دیا بلکہ صرف یہ کہا کہ قانون پر عمل ہونا چاہیے۔ کم از کم اجرت ادا کی جائے، بقایاجات کلیئر کیے جائیں اور ملازمین کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ اگر کسی صنعت کو صرف اس بنیاد پر چلایا جا رہا ہو کہ مزدور کو اس کا قانونی حق نہ دیا جائے تو پھر اس کاروباری ماڈل پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
اخباری صنعت کو بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ اخبار صرف ایک کاروبار نہیں بلکہ جمہوریت، احتساب اور عوامی آگاہی کا بنیادی ستون ہیں۔ اگر اخبارات بند ہوں گے تو صرف مالکان کا نقصان نہیں ہوگا بلکہ ہزاروں صحافی، پریس ورکرز، پریس کلب، سرکولیشن نیٹ ورک، انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ، پریس انفارمیشن کے نظام اور پوری صحافتی زنجیر متاثر ہوگی۔
لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اخبارات کی بقا مزدوروں کے استحصال کی قیمت پر ہو۔ پانچ، آٹھ یا دس ہزار روپے ماہانہ لینے والا صحافی آزاد صحافت نہیں بلکہ مجبوری کی صحافت کرتا ہے۔ جو شخص اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے پریشان ہو، وہ طاقتور طبقات کے خلاف کس حد تک آزادانہ قلم اٹھا سکتا ہے؟
یہاں ایک اور پہلو بھی انتہائی اہم ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
بعض اخباری مالکان صرف اخبارات تک محدود نہیں رہے۔ ان میں سے کئی مختلف غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) سے بھی وابستہ ہیں، بعض سرکاری ترقیاتی منصوبوں میں شریک رہے ہیں، جبکہ بعض مختلف ادوار میں وفاقی یا صوبائی وزراء کے مشیر بھی رہ چکے ہیں۔ بعض دیگر کاروباری سرگرمیوں سے بھی وابستہ ہیں۔ اس لیے یہ تاثر دینا کہ ان کی آمدنی صرف اخبار سے وابستہ ہے، مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔
اسی لیے ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے صرف سرکاری اشتہارات کے بقایاجات تک خود کو محدود نہ رکھیں بلکہ ان اخباری مالکان کے مجموعی مالی معاملات، کاروباری مفادات، اثاثوں اور آمدنی کے تمام ذرائع کا بھی جائزہ لیں۔ یہ دیکھا جائے کہ گزشتہ برسوں میں سرکاری اشتہارات، این جی اوز، سرکاری منصوبوں، مشاورتی ذمہ داریوں اور دیگر ذرائع سے کتنی آمدنی حاصل ہوئی اور اس کے مقابلے میں صحافیوں اور دیگر ملازمین پر کتنا خرچ کیا گیا۔
یہ مطالبہ کسی فرد کو پہلے سے مجرم قرار دینے کے لیے نہیں بلکہ شفاف احتساب کے لیے ہے۔ اگر واقعی مالی بحران ہے تو ریکارڈ خود اس کی تصدیق کرے گا۔ لیکن اگر وسائل موجود ہونے کے باوجود صحافیوں کو پانچ، آٹھ یا دس ہزار روپے پر رکھا گیا، کئی کئی ماہ کی تنخواہیں روکی گئیں اور اب عدالت کے حکم کے بعد اخبارات بند کرنے کی دھمکی کو دباؤ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تو پھر اس معاملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ برسوں تک بہت سے صحافی مجبوری میں خاموش رہے۔ کسی کو پانچ ہزار، کسی کو آٹھ ہزار، کسی کو دس ہزار روپے دے کر پورے مہینے کی محنت لی جاتی رہی۔ کئی اداروں میں تنخواہیں مہینوں روکی گئیں اور آواز اٹھانے والوں کو نوکری سے فارغ کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
یہ صرف معاشی استحصال نہیں بلکہ پیشہ ورانہ ناانصافی بھی ہے۔
اگر ایک ادارہ لاکھوں یا کروڑوں روپے کے اشتہارات حاصل کرے لیکن اپنے رپورٹر کو قانونی کم از کم تنخواہ بھی نہ دے سکے تو سوال صرف حکومت سے نہیں بلکہ اس ادارے کی انتظامیہ سے بھی ہوگا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ سرکاری اشتہارات کے جائز بقایاجات بروقت ادا کرے۔ لیکن یہ بھی اتنا ہی درست ہے کہ ملازمین کی تنخواہوں کو حکومت پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا۔
پشاور ہائیکورٹ نے ایک متوازن راستہ دکھایا ہے۔
پہلے مزدور کا حق ادا کریں، پھر حکومت سے اپنا حق وصول کریں۔
یہی قانون ہے، یہی انصاف ہے۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، محکمہ اطلاعات، لیبر ڈیپارٹمنٹ، ایف بی آر، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور دیگر متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر ایک جامع آڈٹ کریں۔ معلوم کیا جائے کہ کون سے اخبارات کم از کم اجرت ادا کر رہے ہیں، کون نہیں کر رہے، کن اداروں نے لیبر قوانین پر عمل کیا اور کنہوں نے نہیں کیا۔
اسی طرح صحافیوں اور دیگر ملازمین کی تنخواہیں بینک اکاؤنٹس کے ذریعے لازمی ادا کی جائیں تاکہ اصل ادائیگیوں کا مکمل ریکارڈ موجود ہو اور کسی قسم کی غلط بیانی یا جعل سازی کی گنجائش نہ رہے۔
یہ بھی وقت آ گیا ہے کہ سرکاری اشتہارات کو لیبر قوانین سے مشروط کیا جائے۔ جو ادارہ کم از کم اجرت، ای او بی آئی، سوشل سکیورٹی اور دیگر قانونی تقاضے پورے نہ کرے، اسے سرکاری اشتہارات دینے پر بھی نظرثانی ہونی چاہیے۔
صحافت یقیناً ایک مقدس پیشہ ہے، لیکن اخبار ایک کاروباری ادارہ بھی ہے۔ جب کاروبار منافع کماتا ہے تو اس کا فائدہ صرف مالک تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس رپورٹر، فوٹو جرنلسٹ، سب ایڈیٹر، کمپوزر، ڈیزائنر، پریس ورکر اور سرکولیشن ملازم تک بھی پہنچنا چاہیے جس نے اپنی محنت سے اس ادارے کو کھڑا رکھا۔
اخبارات بند نہیں ہونے چاہئیں، کیونکہ مضبوط اخباری صنعت ہی مضبوط جمہوریت، مضبوط صحافت اور مضبوط ریاست کی ضمانت ہے۔ لیکن اخبارات کی بقا کا مطلب مزدوروں کا استحصال نہیں ہو سکتا۔
اگر کوئی مالک واقعی مالی مشکلات کا شکار ہے تو حکومت اور صحافتی تنظیموں کو اس کی مدد کرنی چاہیے۔ لیکن اگر کوئی شخص برسوں تک کم تنخواہوں پر ادارہ چلاتا رہے اور عدالت کے قانون پر عمل درآمد کے مطالبے کے بعد اچانک اخبار بند کرنے کی دھمکی دے تو اس رویے پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔
آج ضرورت جذباتی نعروں کی نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی، شفافیت، احتساب اور مزدور کے حق کی ہے۔
اخبارات ضرور بچنے چاہئیں، مگر سب سے پہلے وہ صحافی بچنا چاہیے جس کے قلم سے اخبار زندہ رہتا ہے۔ اگر صحافی محفوظ ہوگا تو صحافت محفوظ ہوگی، اور اگر صحافت محفوظ ہوگی تو جمہوریت بھی مضبوط ہوگی۔
#PeshawarHighCourt #JournalistsRights #MinimumWage #MediaIndustry #PressFreedom #LabourRights #PakistanMedia #RuleOfLaw #WageJustice #MediaReform #KhyberPakhtunkhwa #FreedomOfPress #Transparency #MediaAccountability #WorkersRights |