ساون پر ویسے تو بہت سے گیت گائے گئے ہیں۔ کوئی بھی گیت گانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ آپکے آنگن میں پانی کھڑا نہ ہو۔ آپکی گلی میں محلے والوں کا سامان نہ بہہ رہا ہو۔ آپ وائپر چلا چلا کر فرش نہ سُکھا رہے ہوں۔ آپ کو گھر سے باہر جاتے ہوئے صرف چھتری کی حاجت ہو نہ کہ کشتی کی۔ آپکا سرمایہ چاہے وہ کھڑی فصل مکان جانور بلڈنگ زرعی زمین یا آپکے پیارے سلامت ہوں۔ ساون کے حوالے سے جو پُرانی کہانیاں پڑھ رکھی ہیں اُن میں گھر آنگن میں بڑی بڑی کڑاھیاں چولہے پر چڑھا کر پکوان تلنے کا برستی بارش میں ذکر ملتا ہے۔ کڑاہی میں تلا جارہا ہے سموسہ کچوری پکوڑا پوری یا مالپورہ ۔۔۔۔ اپنی پسند کی چیز تصور کرلیں۔۔۔اور مزے سے کھا لیں۔ گیس تو چھٹی پر ہے اِسی لئے یا تو خیال سے کام چلائیں یا بازار سے لا کر کھائیں۔
اِسی طرح ایک یہ خبر اِس موسم میں ضرور مِلے گی کہ جی ۔۔۔ شہری سموسوں کی دُکان پر ٹوٹ پڑے۔ ساون کا موسم آتے ہی امِیر طبقہ تو یہ جیکٹ چڑھا جیپ پکڑ پہاڑی علاقوں کی طرف روانہ۔ کم مراعات یافتہ طبقہ کم سامان کے ساتھ لاری پکڑ ایسے علاقوں کی طرف روانہ۔ کیونکہ اِن دونوں افراد کے بقول mountains are calling اور پھر اِن کی چیخ و پکار سُننی پڑتی ہے جب سیلاب میں آیا پانی کا دھارا اِنکو محصور اور گھر سے دور رہنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
جوں جوں معاشرے میں طبقاتی فرق بڑھتا جارہا ہےمزید مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔۔۔صبر۔۔۔۔ امیر خود کو امیر ثابت کرنے کے لئے مزید مہنگی جہگوں پر جاتا اور تصویریں لگاتا نظر آئیگا۔ مون سون کے موسم کا لُطف شو آف کرنے سے ذیادہ بہترین موقع اور کونسا ہوگا۔ اب کم افورڈ کر پانے والا طبقہ بھی پوری کوشش کرے گا کہ وہ بھی کچھ کرکے بس کہیں تک چکر لگا آئے اور تصویریں اَپ لوڈ کر دے۔
ہر سال National Disaster Management Authority Pakistan یہ بیان ضرور شائع کرتی ہے کہ تیز ہوائوں کے جھکڑ گرد آلود ہوائیں دھواں دھار بارشیں اس سال دریاوں میں طغیانی کا سبب بنیں گی۔ بند ٹوٹ جائیں گے۔ ڈیموں میں پانی کی سطح بلند ہوگی۔ آس پاس کا علاقہ خالی کرایا جائیگا۔
میں نے یہ خبریں فعل مستقبل میں لکھ دی ہیں میڈیا فعل ماضی میں سُناتا ہے۔
ڈیڑھ دہائی قبل پاکستان پالیٹکس میں رٹا مارتے ہوئے جو اعداو شمار پڑھے تھے ۔۔۔ آج تک بھی ڈیمز کی تعداد اور حالات ویسے ہی ہیں جیسے تب پڑھے تھے۔ روای بے چارہ گرمیوں میں پیاسا اور سوکھا اور ساون میں پانی سے بپھرا ہوا ہوتا ہے۔
مگر پتہ ہے کیا حکمرانوں نے جو بھی کیا ہم خود بھی تو کم نہیں ہیں۔ کوڑا کرکٹ راوی میں مکان لیتے ہوئے بغیر تحقیق کے یہ کہیں پانی کے راستے میں تو نہیں سستا ہے لے لو زرخیز زمین پانی کو جزب کرتی ہیں مگر ہم نے مکان پلازے کھڑے کر کے پانی کا راستہ روکا درختوں کی کٹائی
خزانے سارے ہمارے ہیں کیا لگے غریب اگر ڈوبتے بے چارے ہیں سر سے اُتارو کیا لگتے ہمارے ہیں خود کچھ نہ کریں گے سب چھوڑے اللہ کے سہارے ہیں
|