چین کی بزرگوں کی نگہداشت کے لیے موئثر پالیسیاں

چین کی بزرگوں کی نگہداشت کے لیے موئثر پالیسیاں
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

چین میں تیزی سے بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کے پیشِ نظر بزرگوں کی نگہداشت ایک اہم سماجی اور پالیسی چیلنج کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ نگہداشت کے اداروں کی محدود دستیابی اور بلند آپریٹنگ لاگت نے اس شعبے کی ترقی کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں سستی اور قابلِ رسائی سہولیات کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی تناظر میں چینی حکومت نے ایک نیا پالیسی پیکیج متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد زمین کے استعمال سے متعلق اخراجات میں کمی، موجودہ عمارتوں کے مؤثر استعمال اور بزرگوں کی نگہداشت کی خدمات کی فراہمی کو وسعت دینا ہے۔

چین کی وزارتِ قدرتی وسائل، وزارتِ شہری امور اور قومی صحت کمیشن نے مشترکہ طور پر 18 نکاتی پالیسی منصوبہ جاری کیا۔ اس منصوبے کا بنیادی ہدف بزرگوں کی نگہداشت کے شعبے میں درپیش بلند لاگت اور محدود رسد جیسے مسائل کا حل نکالنا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 کے اختتام تک چین میں 60 برس یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد تقریباً 31 کروڑ تک پہنچ چکی تھی، جو مجموعی آبادی کا 22 فیصد بنتی ہے۔ اس آبادیاتی حقیقت نے حکومت کو مزید جامع اور عملی اقدامات پر مجبور کیا ہے۔

نئی پالیسی تین مرکزی پہلوؤں پر مشتمل ہے: لاگت میں کمی، موجودہ زمین اور عمارتوں کے بہتر استعمال کو فروغ دینا، اور پالیسی کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانا۔ مالی دباؤ کم کرنے کے لیے مقامی حکومتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ غیر منافع بخش بزرگ نگہداشت اداروں کے لیے زمین براہِ راست الاٹ کی جائے اور انہیں زمین کی منتقلی فیس سے مستثنیٰ رکھا جائے۔ منافع بخش منصوبوں کے لیے بھی زمین کے استعمال میں لچک پیدا کی گئی ہے، جن میں طویل المدتی لیز اور ’’پہلے لیز، بعد ازاں منتقلی‘‘ جیسے انتظامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی حکام کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ زمین کی قیمت دو برس کے اندر اقساط میں وصول کی جا سکے۔

پالیسی کا ایک اہم جزو شہروں اور دیہی علاقوں میں غیر استعمال شدہ یا کم استعمال ہونے والی جگہوں کو بزرگوں کی نگہداشت کی سہولیات میں تبدیل کرنا ہے۔ شہری علاقوں میں پرانے رہائشی منصوبوں کے اندر چھوٹے یا غیر فعال پلاٹس کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ ایسی عمارتیں جو بزرگ نگہداشت کے لیے تبدیل کی جائیں، وہ پانچ سال تک اپنی اصل زمین کے استعمال کی حیثیت برقرار رکھ سکیں گی، اور اس دوران کسی اضافی فیس کا اطلاق نہیں ہو گا۔ دیہی علاقوں میں ترجیح غیر فعال اجتماعی زمین کو دی جائے گی، جبکہ اجتماعی منافع بخش تعمیراتی زمین کو لیز یا منتقلی کے ذریعے نگہداشت کے منصوبوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔

حکام کے مطابق یہ اقدامات 2019 میں جاری کردہ زمین کے استعمال سے متعلق پالیسی کی بنیاد پر ترتیب دیے گئے ہیں، تاہم موجودہ منصوبہ ایک زیادہ جامع اور اپ گریڈ شدہ حکمتِ عملی کی نمائندگی کرتا ہے۔ آئندہ مرحلے میں توجہ مقامی حکومتوں کی رہنمائی، بین الاداراتی ہم آہنگی اور قومی سطح پر پالیسی کے اثرات کی نگرانی پر مرکوز رہے گی۔

تینوں وزارتوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جامع اور عام فہم بزرگ نگہداشت کی خدمات کو وسعت دی جائے گی۔ نئی شہری آبادیوں اور رہائشی منصوبوں میں منصوبہ بندی کے معیارات کے مطابق نگہداشت کی سہولیات کی تعمیر کو لازمی قرار دیا گیا ہے، تاکہ رہائشی علاقوں کے ساتھ ہی بزرگوں کے لیے بنیادی سہولیات بھی دستیاب ہوں۔

پالیسی کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے ایک مربوط اور کثیر شعبہ جاتی نگرانی کا نظام قائم کیا جائے گا۔ بزرگوں کی نگہداشت کے لیے مختص زمین کو قومی سطح کے یونیفائڈ منصوبہ بندی ڈیٹا بیس میں شامل کیا جائے گا، جہاں اس کی مسلسل نگرانی ممکن ہو گی۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ زمین کے غیر مجاز استعمال یا اس کی حیثیت میں غیر قانونی تبدیلی کی سختی سے ممانعت ہو گی۔

مجموعی طور پر زمین کے استعمال سے متعلق یہ نیا پالیسی پیکیج چین میں بزرگوں کی نگہداشت کے شعبے کے لیے ایک اہم اور بروقت اقدام ہے۔ لاگت میں کمی، موجودہ وسائل کے مؤثر استعمال اور مضبوط نگرانی کے نظام کے ذریعے حکومت ایک ایسے ماڈل کی تشکیل کی کوشش کر رہی ہے جو بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کی ضروریات کو پورا کر سکے۔ اگر ان اقدامات پر مؤثر عمل درآمد جاری رہا تو یہ پالیسی نہ صرف بزرگوں کے لیے سستی اور معیاری نگہداشت کی فراہمی میں مدد دے گی بلکہ سماجی استحکام اور فلاحی نظام کو بھی مزید مضبوط بنائے گی۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1902 Articles with 1109110 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More