چین میں انسداد آلودگی کے حوصلہ افزا اشاریے

چین میں انسداد آلودگی کے حوصلہ افزا اشاریے
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

چین میں ماحولیاتی تحفظ اور آلودگی کے کنٹرول کو قومی ترقیاتی پالیسی کا ایک اہم جزو قرار دیا جا رہا ہے۔ صنعتی سرگرمیوں، شہری آبادی میں اضافے اور توانائی کی ضروریات کے باعث پیدا ہونے والے ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے گزشتہ برسوں میں مختلف سطحوں پر اقدامات کیے گئے ہیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 14ویں پانچ سالہ منصوبے (2021-2025) کے دوران ماحولیاتی نظم و نسق کے شعبے میں وسیع پیمانے پر منصوبوں پر عمل درآمد کیا گیا، جس کے نتیجے میں بڑے آلودگی پھیلانے والے عناصر کے اخراج میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

چینی حکومت کے مطابق اس عرصے میں ملک بھر میں 24 ہزار ماحولیاتی اور ماحولیاتی ٹریٹمنٹ سے متعلق منصوبے نافذ کیے گئے۔چینی وزارتِ ماحولیات کے مطابق نائٹروجن آکسائیڈز، غیر مستحکم نامیاتی مرکبات ، کیمیائی آکسیجن کی طلب اور امونیا نائٹروجن جیسے اہم آلودگی پھیلانے والے مادّوں میں کمی صنعتی اصلاحات اور شہری و دیہی علاقوں میں گندے پانی کے بہتر انتظام کے باعث ممکن ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق فرسودہ پیداواری صلاحیت کے خاتمے کے اقدامات کے نتیجے میں 2021 سے 2025 کے دوران نائٹروجن آکسائیڈز کے اخراج میں تقریباً دو لاکھ دس ہزار ٹن جبکہ غیر مستحکم نامیاتی مرکبات کے اخراج میں تقریباً دو لاکھ بیس ہزار ٹن کمی ریکارڈ کی گئی۔ ان اقدامات کا مقصد بعض صنعتوں میں ماحولیاتی دباؤ کو کم کرنا اور پیداواری نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا تھا۔

اسی مدت میں صنعتی شعبے میں سبز منتقلی کے عمل کو بھی آگے بڑھایا گیا۔ وزارت کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 94 کروڑ ٹن خام فولاد، 47 کروڑ ٹن سیمنٹ کلنکر، 36 کروڑ ٹن کوکنگ صلاحیت اور 170 گیگاواٹ کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں میں انتہائی کم اخراج کی ٹیکنالوجی سے متعلق اپ گریڈیشن مکمل کی گئی۔ ان اقدامات کے ذریعے صنعتی آلودگی کے اخراج کو کم کرنے اور توانائی کے استعمال کو نسبتاً ماحول دوست بنانے کی کوشش کی گئی۔

شہری سیوریج ٹریٹمنٹ منصوبوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ ان کے ذریعے 2021 سے 2025 کے دوران کیمیائی آکسیجن کی طلب میں تقریباً 32 لاکھ ٹن اور امونیا نائٹروجن میں تین لاکھ پچاس ہزار ٹن کمی واقع ہوئی۔ اسی دوران دیہی علاقوں میں گھریلو گندے پانی کے علاج کی قومی شرح بڑھ کر 55 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2020 کے اختتام پر موجود شرح کے مقابلے میں دوگنی ہے۔ حکام کے مطابق یہ پیش رفت دیہی ماحولیاتی بہتری کے اقدامات کا نتیجہ ہے۔

خطرناک فضلے کے انتظام کے شعبے میں بھی گنجائش میں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق چین میں خطرناک فضلے کو ٹھکانے لگانے کی سالانہ صلاحیت تقریباً 22 کروڑ ٹن تک پہنچ چکی ہے، جو 2020 کے مقابلے میں 60 فیصد زیادہ ہے۔ اس اضافے سے صنعتی اور دیگر خطرناک فضلے کے محفوظ انتظام میں بہتری آئی ہے۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ 2025 کے دوران ملک میں فضائی معیار اور سطحی پانی کے معیار میں مسلسل بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔فضائی معیار کے حوالے سے ملک بھر کے 339 ضلعی سطح اور اس سے بالا شہروں میں پی ایم ٹو پوائنٹ فائیو کی اوسط مقدار 28 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہی، جو سالانہ بنیادوں پر 4.4 فیصد کمی ظاہر کرتی ہے۔ پی ایم ٹین کی اوسط مقدار 48 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی، جس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 2.0 فیصد کمی آئی۔ غیر معمولی گرد و غبار کے طوفانوں کے دنوں کو نکال کر اچھی فضائی کیفیت والے دنوں کا تناسب قومی سطح پر اوسطاً 89.3 فیصد رہا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 1.9 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔ شدید یا اس سے زیادہ آلودگی والے دنوں کا تناسب 0.9 فیصد رہا، جو گزشتہ سال کے برابر ہے۔

سطحی پانی کے معیار میں بھی مسلسل بہتری دیکھی گئی۔ ملک بھر میں سطحی پانی کی نگرانی کے لیے قائم 3 ہزار 641 قومی مانیٹرنگ مقامات میں سے 91.4 فیصد پر پانی کا معیار بہتر ریکارڈ کیا گیا، جو سالانہ بنیادوں پر 1.0 فیصد پوائنٹ اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح 209 اہم جھیلوں اور آبی ذخائر کے مانیٹرنگ ڈیٹا کے مطابق 78.5 فیصد مقامات پر پانی کا معیار مقررہ معیارات پر پورا اترا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 1.4 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہے۔

چینی وزارتِ ماحولیات کے مطابق آئندہ 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے دوران بھی ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات کو جاری رکھا جائے گا۔ اس مرحلے میں اعلیٰ معیار کے ماحولیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے ذریعے آلودگی میں مزید کمی اور ماحولیاتی نظم و نسق کو مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے گی۔

اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ 14ویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران چین میں ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں نمایاں نتائج سامنے آئے ہیں۔ صنعتی اصلاحات، سیوریج ٹریٹمنٹ میں بہتری اور خطرناک فضلے کے انتظام سے متعلق اقدامات نے ماحولیاتی معیار کو بہتر بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ آئندہ ترقیاتی منصوبوں میں ان اقدامات کے تسلسل کو برقرار رکھنے کو ماحولیاتی بہتری کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1094357 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More