ایک درویش صفت انسان ' راؤ ارشد ضیاء خان دار فنا سے دار بقا کی طرف سدھار گئے ۔
(Dr.Izhar Ahmad Gulzar, Faisalabad/ Pakistan)
|
ایک درویش صفت انسان ' راؤ ارشد ضیاء خان دار فنا سے دار بقا کی طرف سدھار گئے ۔ |
|
ایک درویش صفت انسان ' راؤ ارشد ضیاء خان دار فنا سے دار بقا کی طرف سدھار گئے ۔
چک چوہلہ سے متعلق ممتاز سماجی شخصیت رانا ارشد ضیاء خان نے نئے سال 2026 شروع ہوتے ہی جنوری کے دوسرے ہفتے 11 جنوری 2026 کو اپنی اہلیہ محترمہ کے انتقال کے ٹھیک دو سال پانچ دن بعد داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ وہ گردوں کے عارضہ میں مبتلا ہو گئے تھے اور ساتھ ہی عارضہ قلب بھی بن گیا۔ اور فیصل آباد کے ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ سماجی خدمات کے حوالے سے ایک درخشندہ ستارہ جو چک چوہلہ ملحق بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فیصل آباد سے طلوع ہوا وہ 11 جنوری 2026 میں غروب ہو گیا۔محلہ گرو نانک پورہ سے ان کا جسد خاکی جنگ روڈ قبرستان لے جایا گیا ۔ اور فیصل آباد کے جھنگ روڈ والے شہر خموشاں کی زمین نے سیاسی اور سماجی شخصیت کے حوالے سے اس آسمان کو ہمیشہ کے لیے اپنے دامن میں چھُپا لیا۔ ان کو ان کی اہلیہ کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔۔اُن کے پس ماندگان میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔ چک چوہلہ 230 ر ب براہ جھنگ روڈ میں انہوں نے اپنی زندگی کا ایک عرصہ بسر کیا ۔ پھر آپ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے فیصل آباد شہر کے محلہ گرو نانک پورہ میں شفٹ ہو گئے۔ ان کے والد گرامی چودھری ضیاء الحق خان مرحوم گاؤں کے ایک مایا ناز سیاسی اور سماجی شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے ہیں ۔جو کہ اپنے زمیندارہ کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ کے شعبہ سے وابستہ رہے ۔۔ایک طویل عرصہ پر ان کے والد گرامی اور ان سب بھائیوں کی ٹرانسپورٹ کمپنی میں ذاتی بسیں تھیں جو لوکل سطح پر فیصل آباد سے پینسرہ اور بلو موڑ تک جاتی تھیں ۔۔۔ ان تینوں بھائیوں چودھری اختر ضیاء خان، چودھری امجد ضیاء خان اور چودھری ارشد ضیاء خان نے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو ایک نئی سمت اور وقار بخشا ۔۔۔تینوں بھائی اپنی نیک نامی ، محبت و اخلاص ، ہمدردی اور بھائی چارے کی وجہ سے قرب و جوار میں اپنی منفرد پہچان رکھتے تھے ۔۔۔۔۔دوسروں کو عزت دینے اور محبت بانٹنے میں کمال شخصیات تھیں ۔۔۔۔۔ یقین نہیں آتا کہ یہ تینوں بھائی ہم سے بچھڑ چکے ہیں ۔۔۔چودھری اختر ضیاء خان ہوں ، چودھری امجد ضیاء خان ہوں یا راؤ ارشد ضیاء خان ۔۔۔ان کے مزاج آشنا لوگ جانتے ہیں کہ یہ کس قدر لوگوں کو عزت و وقار دینے میں پیش پیش نظر آتے تھے ۔۔۔۔ چودھری ارشد ضیا خان مرحوم نے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی ۔۔اپنے بچوں کو ان کی خواہش کے مطابق پڑھایا ، بیٹیوں کو بھی اعلی مدارج تک تعلیم دلوائی اور اسی طرح دونوں بیٹوں کو بھی ہائر ایجوکیشن تک تعلیم دلوانے میں کلیدی کردار ادا کیا ۔۔چودھری ارشد ضیاء خان کی زندگی کا ایک ہی مطمع نظر تھا کہ اپنے بچوں کو اعلی تعلیم سے آراستہ کرنا ہے ۔۔۔۔اس طرح وہ اپنے مشن میں کامیاب و کامران ٹھہرے ۔۔اسی طرح ان کی بیگم' ہماری بہن محترمہ طاہرہ ارشد مرحومہ مغفورہ بھی اپنے خاوند کے ساتھ مل کر اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت اور شاندار مستقبل کے لیے انہوں نے اپنی زندگیاں وقف کر دیں ۔ انہیں اعلی مدارج تک تعلیم دلوائی اور شان و شوکت سے ان کی شادیاں کیں ۔۔۔۔ محترم بھائی ارشد ضیا خان ایک شریف النفس ، منکسر المزاج ، نیک طینت اور پیار و محبت بانٹنے والے ایک زندہ دل انسان تھے ۔۔۔ وہ عوامی شاعر جناب نور محمد نور کپور تھلوی کے داماد ، ممتاز صنعت کار اور سماجی شخصیت رانا افتخار احمد اور کیپٹن محمد اکرم اور میجر ڈاکٹر محمد اسلم کی بہنوئی تھے ۔۔۔۔۔۔ ۔اور میری تایا زاد بہن کے خاوند یعنی ہمارے بہنوئی تھے ان کے جانے کا بوجھ اس قدر دل پر پڑا ہے کہ لفظ لکھتے ہوئے بھی دشواری محسوس ہو رہی ہے ۔۔۔۔وہ اگرچہ ہمارے بہنوئی تھے لیکن ہمیشہ انہوں نے اچھے دوستوں اور چھوٹے بھائیوں کی طرح ہماری رہنمائی کی ۔۔اچھے مشوروں سے نوازا ، ہمیشہ آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ بڑھایا ۔۔سوشل میڈیا پر میری تحریریں پڑھ کر بڑے خوش ہوتے ہیں اور ہمیشہ میرا حوصلہ بڑھاتے ۔۔۔۔آج ان کو مرحوم لکھتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے ۔۔
تم پھر نہ آ سکو گے بتانا تو تھا مجھے تم دور جا کے بس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا
اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی بھائی ارشد ضیاء صاحب کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے، درجات کی بلندی سے نوازے اور ان کی اگلی منازل آسان کرے اور ان کی اور ان کی اہلیہ محترمہ کی قبور پر اپنی کروڑوں رحمتوں کا نزول نازل کرے ہمیشہ رحمتوں کرم نوازیوں کا نزول جاری رکھے ۔۔آمین ۔۔ثم آمین ۔۔۔۔یا رب العالمین بجا یا سید المرسلین 😢😭😢🙏💔
دعاگو ! ڈاکٹر اظہار احمد گلزار
12/01/2026 |
|