حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ: وہ عظیم مجاہد جن کی قسم اللہ پوری کرتا تھا آج ہماری ملاقات ایک ایسے شہسوار سے ہے جنہوں نے تاریخ کے صفحات پر عظمت کے انمٹ نقوش چھوڑے اور عہدِ نبوت کے مبارک دور میں میدانِ جنگ میں اپنی بہادری کی دھاک بٹھائی۔ یہ جلیل القدر صحابی حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں، جو رسول اللہ ﷺ کے خادمِ خاص حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں۔ آپ جرات، جواں مردی اور بہادری کا استعارہ تھے، جن کا مقصدِ زندگی کلمہ حق کی سربلندی اور راہِ خدا میں شہادت کا حصول تھا، چاہے راستہ کتنا ہی کٹھن کیوں نہ ہو۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ کی بے باک شجاعت کے پیشِ نظر (ایک خط میں) لکھا تھا: "براء بن مالک کو مسلمانوں کے کسی لشکر کا امیر مقرر نہ کرنا، کیونکہ وہ اپنی حد سے بڑھی ہوئی بہادری کی وجہ سے لشکر کو موت کے منہ (انتہائی خطرناک حالات) میں لے جا سکتے ہیں۔"
حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ نے تنِ تنہا ایک سو مشرکین کو مبارزت (ون ٹو ون مقابلے) میں قتل کیا۔ آپ کی پوری زندگی جہاد اور پیہم جدوجہد سے عبارت تھی۔ آپ کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پہلا غزوہ غزوہ اُحد تھا، اور آپ صلح حدیبیہ کے موقع پر بھی موجود تھے جہاں آپ نے بیعتِ رضوان کا شرف حاصل کیا۔ اس کے بعد آپ نے فتح مکہ اور غزوہ حنین سمیت کئی معرکوں میں حصہ لیا۔
نبی کریم ﷺ نے آپ کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا: "بہت سے پراگندہ حال، گرد آلود اور پرانے کپڑوں والے ایسے ہیں جن کی (دنیا میں) کوئی اہمیت نہیں سمجھی جاتی، لیکن اگر وہ اللہ کے بھروسے پر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم کو ضرور پورا فرماتا ہے، براء بن مالک بھی انہی میں سے ایک ہیں۔"
حدیقۃ الموت (موت کا باغ) اور بے مثال قربانی نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد جب فتنہ ارتداد اٹھا، تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور مسلمانوں نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ جنگِ یمامہ کے موقع پر جب مسیلمہ کذاب کے ساتھی ایک قلعہ نما باغ میں محصور ہو گئے جسے "حدیقۃ الموت" کہا جاتا تھا، تو مسلمانوں کے لیے اسے فتح کرنا مشکل ہو گیا۔ اس وقت حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ ایک ڈھال پر بیٹھ گئے اور اپنے ساتھیوں سے کہا: "مجھے اپنے نیزوں پر اٹھاؤ اور دیوار کے پار دشمنوں کے درمیان پھینک دو۔"
چنانچہ انہیں نیزوں کے سہارے دیوار کے اندر پھینک دیا گیا۔ آپ اکیلے ہی دشمنوں پر ٹوٹ پڑے اور لڑتے لڑتے قلعے کا دروازہ کھول دیا۔ اس دن آپ کے جسم پر 80 سے زائد زخم آئے، یہاں تک کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک ماہ تک آپ کے زخموں کا علاج کرتے رہے۔ بھائی کی جان بچانا اور شہادت
ایران کے شہر تستر کی فتح کے موقع پر آپ نے اپنے بھائی حضرت انس رضی اللہ عنہ کی جان بچائی۔ فارسیوں نے قلعے کی دیواروں سے آگ میں تپی ہوئی لوہے کی زنجیریں اور آنکڑے نیچے پھینکے، جن میں سے ایک حضرت انس رضی اللہ عنہ کے بدن میں پیوست ہو گیا۔ جب حضرت براء نے یہ دیکھا تو فوراً قلعے کی دیوار کی طرف لپکے اور تپتی ہوئی زنجیر کو اپنے ہاتھوں سے پکڑ لیا۔ آپ کے ہاتھ جل رہے تھے لیکن آپ نے پروا نہ کی یہاں تک کہ اپنے بھائی کو چھڑا لیا۔ جب آپ نے ہاتھ ہٹایا تو گوشت جل چکا تھا اور صرف ہڈیاں باقی رہ گئی تھیں۔ جب معرکہ شدید ہوا تو بعض مسلمانوں نے حضرت براء سے کہا: "آپ اللہ کے نام پر قسم کھائیں (تاکہ فتح نصیب ہو)۔" تب آپ نے اللہ کے حضور دعا کی: "اے اللہ! میں تیری قسم کھا کر عرض کرتا ہوں کہ تو ہمیں دشمن پر غلبہ عطا فرما اور مجھے اپنے نبی ﷺ سے ملحق فرما دے (یعنی شہادت عطا کر)۔"
نتیجتاً مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔ اللہ تعالیٰ حضرت براء بن مالک اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو۔ |