آہ -پروفیسر ڈاکٹر محمد عالم خان ایک چراغ اور بجھا اور بڑی تاریکی ۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر اظہار احمد گلزار
(Dr.Izhar Ahmad Gulzar, Faisalabad/ Pakistan)
|
آہ -پروفیسر ڈاکٹر محمد عالم خان ایک چراغ اور بجھا اور بڑی تاریکی ۔۔۔۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر اظہار احمد گلزار |
|
آہ -پروفیسر ڈاکٹر محمد عالم خان ایک چراغ اور بجھا اور بڑی تاریکی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر : ڈاکٹر اظہار احمد گلزار
عالمی شہرت کے حامل نامور ادیب، دانش ور اور ممتاز افسانہ نگار ڈاکٹر محمّد عالم خان نے زندگی کی 78 بہاریں دیکھ کر 27 جنوری 2026 کو داعیِ اجل کو لبیک کہہ دیا ۔ اردو زبان و ادب کے اس آفتاب جہاں تاب کو فیصل آباد کے محلہ شریف پورہ کے ماں بیٹا کے نام سے مشہور شہر خموشاں میں سیکڑوں سوگواروں نے پھولوں کا کفن پہنا کر آنسوؤں ، آہوں اور سسکیوں کے جذبات حزیں کا نذرانہ پیش کر کے سپرد خاک کر دیا، جس کی ضیا پاشیوں سے مسلسل سات عشروں تک اذہان کی تطہیر و تنویر کا اہتمام ہوا اور سفاک ظلمتیں کافور ہوئیں۔ اس " ماں بیٹا " شہر خموشاں کی خاک نے اس عنبر فشاں پھول کو اپنے دامن میں سمو لیا جس کی عطر بیزی سے پوری علمی و ادبی دنیا مہک اٹھی تھی۔ رنگ ، خوشبو اور حسن و خوبی کے تمام استعارے اس کے دم سے تھے۔ ان کا وجود طلوع صبح بہاراں کی نوید تھا اور ان کی تعلیمات، ادبی خدمات اور تخلیقی کامرانیاں تاریک شب میں ستارۂ سحر کے مانند تھیں۔ اتنے بڑے مدبر کی وفات کی خبر سے پوری علمی دنیا پر سکتے کی کیفیت طاری ہو گئی۔
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے
پروفیسر ڈاکٹر محمّد عالم خان دنیائے سخن کا ایک معتبر نام ہے۔ نقد و تحقیق ہو ، افسانہ نگاری ہو یا نظم اور غزل ، ہر صنف سخن میں انہوں نے اپنے فن کا لوہا منوایا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد عالم خان کی علالت مزاج یا مرض الموت کی اطلاع اس سے پہلے کہیں سے نہیں ملی ۔خاموش زندگی! خاموش موت ۔۔۔26 جنوری کی رات کے کسی پہر ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی تھی ۔۔ صبح ان کے ملازم مختار احمد نے جب ان کے دروازے پر جا کر دستک دی تو ان کو بستر پر مردہ حالت میں پایا ۔۔وہ لاہور میں اپنے کوارٹر پر اکیلے رہتے تھے اور ان کی خدمت کے لیے ان کا ایک ملازم مختار احمد مامور تھا ۔۔۔دو بیٹے تھے اور دونوں ہی بیرونی ممالک میں سلسلہ ملازمت مقیم تھے ۔ایک بیٹے نے نماز جنازہ میں شرکت کی ۔ڈاکٹر محمد عالم خان کی خانگی زندگی کئی مسائل سے دوچار رہی ۔لیکن انہوں نے کبھی بھی اپنے دکھ کسی کے آگے عیاں نہ کیے ۔۔ ان کے سیکڑوں دوستوں اور قدردانوں کو اس سانحہ ارتحال کی خبر بروقت نہ ہوئی ۔افسوس! اتنا بڑا صاحب کمال ہم سے اٹھ جائے اور اس کی سناؤنی ہم تک نہ پہنچے۔کتنے بے خبر ہیں ہم لوگ ! زندہ قوموں کا یہ اشعار نہیں ہوتا کہ وہ اپنے اہل کمال سے غافل ہو جائیں ۔ایسی غفلت مجرمانہ ہوتی ہے شاید یہ ہماری غفلت ہی کی سزا ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر محمد عالم خان کو یوں ایکا ایکی ہم سے چھین لیا گیا ۔۔ رات گئے ان کی میت کو لاہور سے فیصل آباد لایا گیا ۔ عالم کی موت عالم کی موت ہوتی ہے ۔ مشہور مقولہ ہے "مَوتُ العَالِمِ مَوتُ العَالَم ‘‘ کہ ایک عالِم ربانی کی موت کو عَالَم کی موت قراردیاجاسکتا ہے ،عالِم ربانی کی موت سے ایسا خلا پیداہوتا ہے، جو آسانی سے پُر نہیں ہوتا، یعنی جب عالِم کا انتقال ہوتا ہے تو اسلام میں ایک رخنہ پڑ جاتا ہے جو آسانی سے پُر نہیں ہوتا، جیسے کہ شاعر نے کہا ہے : ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا مختصر یہ کہ ’’مَوتُ العَالِمِ مَوتُ العَالَم ‘‘ ترجمہ:’’حضرت ابو الدرداءؓ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عالِم کی موت ایسی مصیبت ہے ،جس کا ازالہ ممکن نہیں اور اسلام میں ایسا رخنہ ہے ، جسے بند نہیں کیاجاسکتا اور ایسا ستارہ ہے جو مٹ گیا اور ایک قبیلے کی موت ایک عالِم کی موت کی نسبت زیادہ آسان ہے ۔ ابھی ہم کو اس کا اندازہ نہیں ہو سکتا کہ ڈاکٹر محمد عالم خان کے رخصت ہو جانے سے ہمارا کتنا بڑا نقصان ہو گیا ہے ۔اب ان کی عدم موجودگی رہ رہ کر ہمیں ان کی یاد دلائے گی اور وقت کے ساتھ ان کی جدائی کا گھاؤ بڑھتا چلا جائے گا۔ڈاکٹر محمد عالم خان بہت ہی خاموش اور تنہائی پسند تھے اور خاموشی سے کام کرنے والوں میں شمار ہوتے تھے ۔یعنی اتنے خاموش کہ خود ان کے زمانے کے اکثر لوگ بھی ان کے علمی ادبی کارناموں سے واقف نہیں ہوئے ۔۔ فیصل آباد کے محلہ شریف پورہ میں " ماں بیٹا " کے نام سے منسوب شہر خاموشاں میں ان کی تدفین کے موقع پر ان کی منہ بولی بیٹی اور ہماری کلاس فیلو ڈاکٹر ذکیہ خورشید نے مجھے ایک طرف افسردہ کھڑے دیکھ کر مخاطب کیا کہ اظہار بھائی ! جس طرح ڈاکٹر محمد عالم خان ایک تنہائی پسند تھے اور گوشہ نشینی کو پسند کرتے تھے اسی طرح وقت آخر بھی انہوں نے اس ماں بیٹا قبرستان میں بھی اس شہر خاموشاں کے ایک کونے کو پسند کیا ۔ان کی مرقد کے سرہانے اور پاؤں کی جانب دو بیری کے قدیم درخت ان کے اوپر چھاؤں کیے ہوۓ سایا فگن ہیں۔ میں بھیگی آنکھوں اور ٹوٹے دل کے ساتھ ڈاکٹر زکیہ خورشید صاحبہ کے کسی سوال کا جواب نہ دے پایا ۔۔۔ ڈاکٹر محمد عالم خان اپنے شاگردان کے سچے خیر خواہ اور مخلص دوست تھے ۔۔۔نہ صرف کھرے دوست بلکہ ایک مشفق باپ کی طرح ہمیشہ اپنے شاگردان پر سایہ فگن رہتے تھے ۔۔۔۔ ہمارے ایک اور کلاس فیلو محمد عرفان رشید قادری نے ان کی تدفین کے موقع پر ان کی مرقد کے سرہانے مسلسل قرآنی سورہ مبارکہ کا ورد جاری رکھا ۔۔خود ڈاکٹر ذکیہ خورشید بھی مسلسل درود و سلام پڑھتی رہیں ۔۔۔ اردو زبان و ادب کی ثروت کی علامت ، نامور محقق ، مؤرخ ، مترجم ، ماہر لسانیات ، نقاد و دانشور اور عظیم استاد پروفیسر ڈاکٹر محمّد عالم خان اپنے ہزاروں محبین کو سوگوار کر گئے۔۔۔۔ معدودے چند لوگ ہوتے ہیں جو کمٹمنٹ جہد مسلسل اور عزم و ہمت کا استعارہ بن جاتے ہیں ایسے ہی ایک انتھک شخص کا نام ڈاکٹر محمّد عالم خان ہے جو اپنے شاگردان اور دوستوں پر "سائبان" بنے رہتے تھے ۔ بیرون شہر یا ملک سے کوئی شاعر ادیب لاہور میں وارد ہو اور وہ ان کے قابو نہ آ پائے ایسا ممکن نہیں۔ دوستوں سے اسے ملوانے ، اسے عزت دینے اور اس کے کام کی تحسین و ستائش میں یہ ون مین آرمی پیش پیش رہتی تھی۔ پھر ان کے خلوص بھرے حکم نامے کو پس و پیش کی نذر کرنا کسی کے بس میں نہیں رہتا ۔ وہ اپنے شاگردوں کے سچے خیر خواہ اور ہم درد اور دوستوں کے جانثار ساتھی بن کر دکھاتے تھے ۔۔ان کا وجود کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں تھا۔
ڈاکٹر قاسم یعقوب ان کے سانحہ ارتحال کے موقع پر رقم طراز ہیں ۔ "عالم خان نے اپنے شہر لائل پور کو کبھی نہیں بھلایا۔ وہ تواتر سے لائل پور کو یاد کرتے۔ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے ہر عید ، تہوار کا دن لائل پور میں گزارا۔ ڈاکٹر عالم خان جب گھنٹہ گھر کے آس پاس پائے جاتے تو ہم سمجھتے کہ کوئی خاص موقع ہے۔وہ ہر یادگار دن پر فورا اپنے آبائی گھر بھاگتے، لاہور کی بھری مجلسیں چھوڑ آتے اور ہمیں وقت دیتے۔ چنیوٹ بازار میں ان کی محفلیں اور جھنڈے ہوٹل پر ان کی گفتگوئیں کون بھلا پائے گا۔ ایسا شخص جسے زمانہ یاد رکھے گا۔ انھوں نے افسانے پر بہت جم کےکام کیا۔ ان کی یادگار کتاب ’’ اردو افسانے کے رومانی رجحانات‘‘ کچھ برس پہلے دوسری دفعہ مجلس ترقی ادب لاہور سے شائع ہوئی۔ افسانے کے علاوہ انھیں آپ بیتی پر کمال عبور حاصل تھا۔ شاید ہی کوئی آپ بیتی ہو جو انھوں نے نہ پڑھ رکھی تھی۔ ان کی زندگی زندہ ،متحرک اور ثروت مند جمالیات کی عکاس تھی۔ آپ دیکھئے ! وہ مرنے کے بعد بھی لائل پور کو نہیں بھولے اور پیپلز کالونی میں اپنے آبائی قبرستان میں سپرد خاک ہوئے۔ یہی وہ گھر اور محلہ تھا جہاں میں متعدد بار انھیں چھوڑنے رات گئے ان کے ساتھ روانہ ہوتا۔ آج وہ اکیلے رہ گئے۔ اُس طرف جہاں سب نے جانا ہے اور پھر کبھی نہیں لوٹنا"۔ اللہ تعالی ان کی بخشش فرمائے اور درجات کی بلندی سے نوازے ۔آمین
اردو ادب میں جدیدیت کے قافلہ سالاروں میں ایک نام ڈاکٹر محمد عالم خان کا بھی ہے جنہوں نے اپنی زندگی میں بہترین افسانہ نگاری اور تنقید و تحقیق سے اردو ادب کے دامن کو مالا مال کیا ۔ایسے ادیب جس نے تنہائی ، خاموشی ، خودداری اور انانیت کو زبان دی۔ان کے فن کی عظمت بیان کرنا میری بساط نہیں لیکن میری یہ ادنی سی کوشش ہے ۔۔ عالمی شہرت کے حامل اردو زبان و ادب کے نامور استاد ، مستند محقق،۔زیرک نقاد ، ممتاز دانشور اور یگانہء روزگار فاضل پروفیسر ڈاکٹر محمّد عالم خان علم و ادب کا آفتاب جہاں تاب جو 17/ اکتوبر 1948ء میں رانا امیر الدین خان کے گھر لائل پور فیصل آباد (پاکستان ) میں طلوع ہوا۔اور زندگی کی 78 بہاریں دیکھنے کے بعد 27 جنوری 2026 کو داعیِ اجل کو لبیک کہہ دیا ۔ اردو زبان و ادب کے اس آفتاب جہاں تاب کو فیصل آباد کے محلہ شریف پورہ کے ماں بیٹا کے نام سے مشہور شہر خموشاں میں سیکڑوں سوگواروں نے پھولوں کا کفن پہنا کر آنسوؤں ، آہوں اور سسکیوں کے جذبات حزیں کا نذرانہ پیش کر کے سپرد خاک کر دیا، جس کی ضیا پاشیوں سے مسلسل سات عشروں تک اذہان کی تطہیر و تنویر کا اہتمام ہوا اور سفاک ظلمتیں کافور ہوئیں۔ اس " ماں بیٹا " شہر خموشاں کی خاک نے اس عنبر فشاں پھول کو اپنے دامن میں سمو لیا جس کی عطر بیزی سے پوری علمی و ادبی دنیا مہک اٹھی تھی۔ رنگ ، خوشبو اور حسن و خوبی کے تمام استعارے اس کے دم سے تھے۔ ان کا وجود طلوع صبح بہاراں کی نوید تھا اور ان کی تعلیمات، ادبی خدمات اور تخلیقی کامرانیاں تاریک شب میں ستارۂ سحر کے مانند تھیں۔ اتنے بڑے مدبر کی دلوں کو مسخر کرنے والے اس عظیم استاد نے اردو تحقیق و تنقید کی ثروت میں جو اضافہ کیا وہ تاریخ ادب میں آب زر سے لکھا جائے گا۔ ڈاکٹر محمد عالم خان ایک کثیر الجہات ، فعال اور متحرک علمی و ادبی شخصیت کا نام ہے ۔انھوں نے اردو ادب کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی ہے ۔ بالخصوص افسانے میں بہت مقبولیت حاصل کی ۔ان کی شخصیت اور ادبی خدمات اس بات کی متقاضی ہے کہ ان کو ہدیہ تبریک پیش کیا جائے۔۔
ڈاکٹر محمد عالم خان 17 اکتوبر 1948ء کو لائل پور (فیصل آباد) ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک سرکاری کوارٹر میں محمد عمر الدین خان کے گھر پیدا ہوئے ۔اپنے ایک انٹرویو میں وہ بیان کرتے ہیں "میری پیدائش لائل پور (فیصل آباد)میں 17 اکتوبر 1948ء کو ہوئی ۔یہاں میری پیدائش ہوئی وہ کوئی محلہ تو نہیں تھا شہر کے ساتھ ہی ریلوے کالونی تھی والد چونکہ ریلوے میں ملازم تھے انہیں ایک کوارٹر میسر تھا اسی کوارٹر میں میری پیدائش ہوئی۔" ڈاکٹر محمد عالم خان نے ایچی سن کالج لاہور میں ایک طویل عرصہ تدریسی خدمات سر انجام دیں ۔ریٹائرمنٹ کے بعد آپ لاہور (پنجاب) کی چند معروف وقیع یونی ورسٹیوں سے منسلک رہے ۔جن میں پنجاب یونیورسٹی ، علامہ اقبال یونیورسٹی ، لاہور گیریزن یونیورسٹی ، لیڈز یونیورسٹی ، ایجوکیشن یونیورسٹی اور لاہور لاہور گیریژن یونیورسٹی شامل ہیں۔آپ کے شاگردان کی ایک کثیر تعداد ملک کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ہے۔ڈاکٹر محمد عالم خان نے فروغ تعلیم کے سلسلے میں جو فقید المثال جدوجہد کی ،وہ تاریخ کے اوراق میں آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ڈاکٹر محمد عالم خان کو قدرت کاملہ کی طرف سے ذوق سلیم سے متمتع کیا ہے۔ کتابوں سے ان کی محبت ان کی ذوق سلیم کی مظہر ہے۔ان کی ذاتی کتب خانے میں ہزاروں کی تعداد میں نادر و نایاب کتب موجود ہیں۔پنجابی زبان کے صوفی شعراء کا کلام ڈاکٹر محمد عالم خان کو بہت پسند ہے۔پاکستان کی مختلف علاقائی زبانوں کے عظیم شعراء اور کلاسیکی شعراء کو انہوں نے بڑی دلچسپی سے مطالعہ کیا ہوا ہے۔ ڈاکٹر محمد عالم خان کا نام ان کے والد کے مرشد نے تجویز کیا تھا اس سلسلے میں ڈاکٹر عالم خان کا کہنا ہے ۔ "میرے والد چونکہ خود پڑھے لکھے نہیں تھے مگر انہیں ایک بزرگ سے بہت لگاؤ تھا وہ بزرگ اکثر ہمارے گھر آیا کرتے تھے۔ میری پیدائش کے دن بھی وہ وہاں ہی مقیم تھے اس لیے انہوں نے میرا نام تجویز کیا۔"
اسی سلسلے میں ڈاکٹر محمد عالم خان اپنے ایک انٹرویو میں مزید بیان کرتے ہیں کہ "سال میں دو تین بار شاہ صاحب ہمارے گھر آتے تھے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ وہ گجرانوالہ کے کسی گاؤں سے آتے تھے اور دو سے تین ماہ ہمارے ہاں ہی قیام کرتے اور پھر واپس چلے جاتے۔ تو میری والدہ ان کا اپنے گھر میں آنا پسند نہیں کرتی تھی مگر عقیدت والہانہ تھی ۔" ڈاکٹر محمد عالم خان کا تعلق راجپوت گھرانے سے ہے۔ ان کا خاندان 1947ء میں تقریبا چالیس گھرانوں کے ساتھ ہندوستان کے علاقے خانپور منڈیاں سے ہجرت کر کے گوجرانوالہ کے قریب ایک گاؤں اناؤ میں آ کر آباد ہوئے ۔یہاں اس خاندان کو گورنمنٹ کی طرف سے کچھ زمینیں آلاٹ ہوئیں ۔۔ڈاکٹر محمد عالم خان کے والد کا نام عمرالدین خان تھا ان کے چھ بھائی تھے ۔بھائیوں نے جائیداد کی تقسیم کی بات کی ۔ عمرالدین خان درویشان طبیعت کے حامل تھے اپنی بیوی اور اولاد کو ساتھ لے کر لائل پور (فیصل آباد) آ کر آباد ہونے کی کوشش میں لگ گئے۔جس کے نتیجے میں ریلوے میں انہیں ملازمت مل گئی اور پھر فیصل آباد ہی ان کی مستقل رہائش گاہ بن گیا ۔محمد عالم خان کے تین بھائی اور تین بہنیں تھیں ۔آپ اپنے سب بہن بھائیوں میں سے سب سے چھوٹے ہیں۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر محمد عالم خان اپنے ایک انٹرویو میں بیان کرتے ہیں کہ "میں اس وقت چھوٹا تھا مگر باقی میرے بہن بھائی بڑے اور شادی شدہ بھی اور کافی مرفہ الحال تھے ۔سب کے اپنے گھر تھے۔ میں اور میری چھوٹی بہن اپنے والدین کے ساتھ رہتے تھے اور ہم پڑھ رہے تھے۔ہماری ساری ذمہ داری اپنے والدین کے سپرد تھی ۔" ڈاکٹر محمد عالم خان اپنے خاندان کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ مجھے کچھ زیادہ یاد نہیں ہے کیونکہ میں نے ان کے ساتھ وقت نہیں گزارا ۔اس لیے کچھ زیادہ نہیں جانتا ہوں۔۔ محمد عالم خان کہتے ہیں کہ مجھے پہلے دن سے ہی خاندان میں کوئی دلچسپی نہ تھی اس لیے میں خاندانی مسائل سے دور دور رہتا تھا ۔ہاں ایک بات عیاں ہے کہ ان کا خاندان ایک متوسط اور خوشحال گھرانہ تھا ، جس میں میری پیدائش ہوئی۔" محمد عالم خان کے والد صاحب سادہ لوح اور با رعب شخص تھے ۔ان کے والد تصوف پسند انسان تھے، کیونکہ وہ شروع سے ہی درویش طبیعت کے مالک تھے ۔ان کے والد صاحب کا رہن سہن درویشوں جیسا تھا ۔محمد عالم خان جب ذرا بڑے ہوئے تو ان کے والد نے بوجہ خرابی صحت ریلوے سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی ۔اور ساتھ ہی وہ آبادی جو کہ کواٹروں میں رہتی تھی اٹھا دی گئی اور لوگوں کو مختلف مقامات پر اس کے متبادل گھر دے دیے گئے جو گھر انہیں ملا ، وہ پیپلز کالونی نمبر دو میں تھا تو وہاں مقامی سکول میں انہوں نے پرائمری تک تعلیم حاصل کی ۔پرائمری کے بعد کی تعلیم کے لیے مسلم ہائی سکول طارق آباد میں داخلہ دلوایا گیا اور میٹرک تک کی تعلیم وہاں سے حاصل کی ۔سکول میں ان کی سرگرمیاں بدلتی گئیں اور آہستہ آہستہ ادب سے لگاؤ ہونے لگا ۔بالاخر سکول کی بزم ادب کے سیکرٹری مقرر ہوئے۔اور اسی وجہ سے سکول میں نمایاں ہونے لگے۔ فن تقریر کچھ قدرت کی طرف سے تھا۔ باقی ماندہ انہوں نے اپنی ذاتی کاوش سے بہتر کیا ۔میٹرک کرنے کے بعد انٹرمیڈیٹ تعلیم گورنمنٹ کالج سمن آباد سے حاصل کی ۔کالج میں ادبی سرگرمیاں جاری رہیں ۔کالج کے الیکشن میں جوائنٹ سیکرٹری منتخب ہوئے ۔بی اے کی تعلیم کے لیے گورنمنٹ ڈگری کالج دھوبی گارڈ میں داخلہ لیا اور ادب کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی دلچسپی لینے لگے اور کالج کی ایک سیاسی تنظیم این ایس ایف (نیشنل سٹوڈنٹ فیڈریشن)جو کہ بائیں بازو کا سیاسی ورکر ہوتا تھا۔۔
دوران تعلیم انقلابی لوگوں سے رابطے تیز ہوتے گئے بی اے ڈگری کلاس تھی یعنی جوانی میں قدم رکھ چکے تھے اس لیے اب شہر آنے جانے لگ گئے تھے۔ شہر میں نئے نئے لوگوں سے ملاقاتیں ہونے لگیں ۔رات گئے گھر واپس آتے تھے اور اکثر رات کو دیر سے آنے کی وجہ سے گھر کا دروازہ ہی نہیں کھلتا تھا اور رات باہر ہی گزارنی پڑ جاتی ۔۔ محمد عالم خان کی خاموش طبیعت کی وجہ سے ان کے محلے دار ان کو نہیں جانتے تھے ۔سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے باعث خاص طور پر بائیں بازو کی جماعت سے تعلق ہونے کی وجہ سے انہیں چند ایک دفعہ قید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ پہلی دفعہ جب پولیس نے ان کے گھر چھاپہ مارا تو اہل خانہ حیران تھے کہ یہ کیا معاملہ ہے لیکن اہل خانہ کو بھی بعد میں معلوم ہوا کہ محمد عالم خان سیاسی سرگرمیوں میں مبتلا ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ گھر یا محلے میں بہت کم لوگ مجھے جانتے تھے اور زیادہ تر وقت میرا وقت شہر میں گزرتا تھا جس کی وجہ سے مجھے محلے میں لوگ نہیں جانتے تھے لوگوں کو میری پہچان تب ہوئی جب دو تین دفعہ مجھے گھر سے آ کر گرفتار کیا گیا۔۔
بی اے کا امتحان پاس کرنے کے بعد عالم خان صاحب کا ارادہ انگریزی ادویات میں ایم اے کرنے کا تھا لیکن ساتھ ہی ذہنی کشمکش کا شکار تھے کہ ایم اے انگریزی میں کیا جائے یا اردو میں ۔۔یہ مرحلہ اپنے ایک استاد سے دو چار سوالات کے ذریعے حل کیا اور ان کے مشورے پر انگریزی کی بجائے اردو ادبیات میں ایم اے کرنے کا فیصلہ کیا اور اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور میں داخلہ لے لیا مگر سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے امتحان پرائیویٹ دیا اور پاس کیا۔ ایم اے اردو ادبیات کے بعد محمد عالم خان نے معاشی مسائل کی وجہ سے مختلف کام کیے۔ مختلف اخبارات ورسائل ، ٹی وی اور ریڈیو سے منسلک رہے۔" نوائے وقت" میں ایک سال تک کامیاب صحافت کی لیکن جو میری زندگی کا مقصد تھا وہ اپنے آپ کو ٹیچنگ سے وابستہ کرنا تھا تو چھوٹے موٹے سکولز اور کالجز میں نوکری کرتا رہا ۔مگر قدم کہیں بھی نہ جم سکے ۔بالاخر ایچی سن کالج مستقل طور پر جوائن کر لیا ۔اس طرح معاشی مسئلہ مکمل طور پر حل ہو گیا ۔جب معاشیات کی فکر نہ رہی تو انہوں نے اپنے درینہ خواب یعنی پی۔ایچ ڈی کرنے کا ارادہ کر لیا ۔یہ زمانہ ان کے لیے بہت کٹھن ثابت ہوا ایک طرف ایچی سن جیسا سخت نظم و ضبط والا تعلیمی ادارہ اور دوسری طرف پی۔ایچ ڈی تھی لہذا دونوں ایک ساتھ چلانا بہت مشکل کام تھا ۔۔اس سلسلے میں ڈاکٹر محمد عالم خان کہتے ہیں ۔
"یوں تو پی ۔ایچ ڈی بذات خود ایک مشکل مرحلہ ہے لیکن جب ایچی سن کالج جیسے ادارے میں ملازمت بھی ہو تو خوفناک صورتحال ہو جاتی ہے ۔پی ۔ایچ ڈی کرنا میرے لیے کسی طرح بھی آسان نہ تھا کیونکہ کالج دن میں تین دفعہ جانا پڑتا تھا ۔مجھے کالج سے پہلا وقفہ چار بجے ملتا تھا اور چار بجے ہی لائبریری کے بند ہونے کا وقت ہوتا تھا ۔میں تیزی سے موٹر سائیکل پر کسی بھی طرح لائبریری پہنچتا اور لائبریرین کی منت سماجت کر کے تھوڑا وقت مانگتا اور کتابوں پر نشان لگا کر لائبریری کے ایک ملازم کو پیسے دیتا اور اگلے دن وہ مجھے ان نشان زدہ اوراق کی فوٹو کاپی مہیا کرتا اور فورا واپس ایچی سن پہنچتا۔"
محمد عالم خان نے باوجود ہزار مشکل "اردو افسانے میں رومانی رجحانات" کے عنوان سے تحقیقی مقالہ لکھ کر پنجاب یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔۔ محمد عالم خان کے مشاغل وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہے ، بچپن میں ان کا محبوب ترین مشغلہ خانہ بدوشوں کی جھگیوں میں جا کر بیٹھنا تھا، پھر بعد میں پرائمری میٹرک اور کالج میں ان کے مشاغل بتدریج بدلتے رہے ۔ان کے خاص مشاغل میں سے چند یہ ہیں۔ محفل بازی محمد عالم خان کے ہاں ایک ایسا مشغلہ ہے اور یہ مشغلہ ایسا ہے کہ روز اول سے آج تک جوں کا توں ہے ۔ان کی زندگی میں دوستوں اور ان کی باتوں کے سوا کچھ اور نہیں ہے ۔جوانی میں تو خیر آدھی رات تک دوستوں کی محافل سے جاتے تھے۔ قہوہ خانے، تھڑے ، ہوٹل اور گھر ان کی محفل کے ٹھکانے ہیں ۔ اور وہ پیپلز پارٹی کے خیر خواہ ہوتے ہوئے بھی انقلاب کی باتیں کیا کرتے تھے ۔بالکل ستار چوہدری کی طرح جو تھا تو ہمارا ہم رکاب اور بدر چوہدری کا سیاسی رقیب مگر پکی دوستی وزیر مملکت میاں عطا اللہ سے تھی ۔ورنہ وہ کبھی انجینیئر نہ بنتا ۔جیل کے اس قیام میں ستار چوہدری بھی ان کا ہمسایہ تھا ۔ایک اور قیدی بھی تھا اسی بیرک میں ۔۔غلام حسین نیرو کی محمّد عالم خان سے بڑی گہری دوستی تھی ۔اس کی ملاقاتی دو چیزیں بڑی بروقت اسے پہنچایا کرتے تھے ایک گھر کا پکا ہوا کھانا اور دوسرا اخبار ۔۔۔ڈاکٹر عالم خان کہتے ہیں کہ میں اس کا کھانا اور اخبار دونوں چیزیں بڑی رغبت سے کھایا کرتا تھا ۔لیکن اخبار کبھی عالم خان کو ہضم نہیں ہوتا تھا ۔لہذا اخبار وہ قہہ کی طرح غلام حسین نیرو کے دامن میں اگل دیتا کہ دوسرے سے ان پڑھ تھا ۔
ڈاکٹر محمد عالم خان کہتے ہیں کہ میں اکثر خاندانی لوگوں کو نہیں ملتا تھا مگر جب میں ایچی سن کالج لاہور میں پڑھاتا تھا تو خاندان کی مالی امداد ضرور کرتا تھا ۔ریٹائرمنٹ کے بعد اب بھی جب جاتا ہوں تو مجھ سے جو ہو سکے ، ان کی ضرور حوصلہ افزائی کر کے آتا ہوں ۔مگر جب بھی کبھی مجھے ماضی وہ زمانہ یاد آتا ہے تو میں رو لیتا ہوں ، کیونکہ وہ بہت مشکل اور سخت وقت تھا مگر مجھے یہ نہیں پتہ تھا کہ اس کے پیچھے میری ایک ہسٹری بن رہی ہے۔ آج اللہ تعالی کا شکر ہے کہ میں اپنی زندگی سے مطمئن ہوں ۔"
ڈاکٹر محمد عالم خان کا بچپن بھی عام بچوں کی طرح کھیل کود میں گزرا ۔ایک بات جو عام بچوں سے ذرا ہٹ کر تھی وہ یہ کہ وہ گھر کے افراد کے ساتھ گھل مل کر رہنے سے گھبراتے تھے۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ سب بہن بھائیوں میں چھوٹے تھے اور اس وجہ سے وہ گھر کے قریب خانہ بدوشوں کی جھگیوں میں جا کر بیٹھ جایا کرتے تھے اور گھر والے انہیں تلاش کرتے رہتے تھے۔خانہ بدوشوں کے بچوں کے ساتھ کھیلتے رہتے تھے جس کی وجہ سے ان کے ساتھ جڑ چکے تھے اپنی بچپن کی یادوں کے حوالے سے ایک واقعہ بیان کرتے ہیں ۔ "ہمارے گھر کے نزدیک ہی خانہ بدوشوں کی جھگیاں تھیں۔ میں صبح سویرے گھر سے نکل کر ان جھگیوں کی طرف چل پڑتا اور خانہ بدوشوں کے بچوں کے ساتھ کھیلتا رہتا ، ایک دفعہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب وہ وہاں سے مستقل طور پر جانے لگے تو ایک چھوٹی سی لڑکی جو کہ میری ہم عمر ہی تھی۔ اس نے سرحدی لباس پہنا ہوا تھا، ماتھے پر پیتل کا زیور پہنا ہوا تھا جب وہ رخصت ہونے لگی تو میں بہت رویا تھا اور بہت دور تک اس قافلے کے ساتھ ساتھ دوڑتا رہا ۔"
ان کے گھر کے پاس ایک تالاب تھا جو کہ ریلوے کی گاڑیوں کے انجن ٹھنڈا کرنے کے کام آتا تھا ۔محمد عالم خان گھنٹوں اس تالاب کے کنارے بیٹھے رہتے تھے اور جب کوئی انجن اس پانی میں لا کر کھڑا کیا جاتا تو پانی سے بھاپ اٹھتی تھی اور محمّد عالم خان اپنے دوستوں کے ساتھ اس بھاپ کے آگے جا کر کھڑے ہو جایا کرتے اور اس دن وہ بہت خوشی محسوس کرتے تھے ۔محمد عالم خان کی خواہشات پہلے کچھ اور طرز کی تھیں مگر آہستہ آہستہ وہ خواہشات بدل گئیں ۔اس سلسلے میں وہ اپنے بچپن کا ایک واقعہ اس طرح بتاتے ہیں۔ محمد عالم خان کے گھر کے سامنے ایک کوٹھی تھی جس کی کوئی چار دیواری نہ تھی۔ اس کی حدود کیلے کے درختوں نے متعین کر رکھی تھی ۔جس کی وجہ سے اسے "کیلوں والی کوٹھی" کہتے تھے۔محمد عالم خان سڑک پار کر کے اس کوٹھی میں جا کر منظور احمد منظور کو دیکھا کرتے تھے جو اس وقت لائل پور (فیصل آباد) کی بلدیہ کے ایڈمنسٹریٹر تھے اور بہت اچھے شاعر بھی تھے ۔اس وقت ان کی زندگی محمد عالم خان کے لیے آئیڈیل کی سی حیثیت رکھتی تھی ۔محمد عالم خان ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ "میں سڑک پار کر کے کیلوں والی کوٹھی چلا جایا کرتا تھا جو کہ منظور احمد منظور کا گھر تھا ۔منظور صاحب روزانہ صبح پرکشش لباس پہنے دائیں ہاتھ میں چھوٹا سا سفری بیگ لیے اور بائیں ہاتھ میں ایک چھڑی پکڑے گھر سے باہر نکلتے اور آ کر مورس نما گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ جایا کرتے تھے ۔اور اپنا بیگ بھی کسی کو نہیں پکڑاتے تھے ۔مجھے ان کی زندگی پر رشک آتا تھا تو ان کو دیکھ کر مجھ میں دو خواہشات ابھرتی تھیں ۔اول یہ کہ ایسا گھر میرے پاس بھی ہو اور دوم ایسی ہی گاڑی بھی ہو ۔۔۔۔۔۔بعد میں عمر کے ایک حصے میں جا کر ویسی گاڑی تو میں نے لے لی مگر ویسا گھر نہ لے سکا۔" لاہور میں اچھا سا گھر بنانے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ میں نے لاہور میں کبھی گھر بنانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی کیونکہ پہلے سے میرے پاس دو گھر موجود ہیں ۔حالانکہ محمد عالم خان کا یہ بچپن سے خواب تھا مگر آہستہ آہستہ نظریہ بدل گیا ۔محمد عالم خان کہتے ہیں کہ اب میں کسی گھر کی خواہش نہیں رکھتا ۔ان کی درویشانہ طرز حیات ہے کہ کوئی بھی مہمان آتا ہے تو ان کا کھانا ساتھ فاطمہ میموریل ہسپتال کے عالی شان میس سے آتا ہے اور آپ خود وہ سوکھی روٹیاں کھاتے یا پھر کلب میں عالی شان کھانا ،اس کو آپ کیا سمجھیں گے ؟ یہ واقعی ایک درویش انسان کا ہے جن کی مثال بہت کم ملتی ہے ۔ آج ڈاکٹر محمد عالم خان کو لوگ عام انسان سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ عام انسان نہیں ہیں وہ خاص اور واقعی نایاب شخص ہیں ۔۔ ڈاکٹر محمد عالم خان کی سب سے بڑی خوبی اور سب سے بڑی خامی ادب سے ان کی کمٹمنٹ ہے ۔کسی شخص کی ادب سے کمٹمنٹ کو اکثر متفقہ طور سے خوبی قرار دیا جاتا ہے لیکن ادب کی ربع صدی کا سفر ہمارے سامنے ہے۔ہماری آنکھوں نے جو مناظر دیکھے ہیں وہ لائق تحسین وصد آفرین ہیں ۔ ڈاکٹر محمد عالم خان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ گھر سے آدرش کی جو گٹھڑی اٹھا کر چلے تھے اسے اپنے آپ سے جدا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔۔وہ دھوپ کے سفر کی اذیتوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ محمد عالم خان اپنے ہم سفروں کو دیکھتے ہیں جو لمحہ بہ لمحہ پناہ گاہوں کو بدلتے رہتے ہیں مگر وہ اپنے جذبوں ، سوچوں اور اصولوں کے ساتھ محو سفر ہیں ۔۔محمد عالم خان نے زندگی کے لیے ، ادب کے لیے اور سیاست کے لیے طویل جدوجہد کی ہے جو ان کی شب و روز کا سفر نامہ ہے ۔۔ زندگی کے بعض مرحلوں پر محمد عالم خان کی شکست فتح سے زیادہ بلند مرتبہ ہے وہ سمجھوتوں سے پل نہیں بناتے بلکہ اپنے سمندر کے سفر کے لیے اپنی کشتی خود بناتے ہیں ۔وہ زندگی کی تلخ حقیقتوں کو قبول کرنا جانتے ہیں اس لیے وہ خسروان وقت کے قریب سے بے نیازانہ گزر جاتے ہیں۔۔محمد عالم خان کی زندگی کے بہت ہی قیمتی وسائل ادب اور سیاست کے لیے صرف ہوئے ہیں ۔وہ دونوں صلاحیتوں کو زندگی کی برتر قدروں کی پرورش کے لیے بیک وقت ضروری سمجھتے ہیں درحقیقت وہ ادب ، زندگی اور سیاست کی زاویوں سے تکون بنا کر زمین کو زرنگار دیکھنا چاہتے ہیں ۔محمد عالم خان کے نزدیک انسان اور عظمت انسان زندگی پر قربان ہو چکی ہے ۔۔ ڈاکٹر محمد عالم خان دوسروں کے لیے آسانیاں تلاش کرتے کرتے بعض اوقات خود کو مشکلوں میں ڈال دیتے ۔ ان کی زندگی اسی کشمکش میں گزری، کبھی سوز و ساز رومی اور کبھی پیچ و تاب رازی ۔اس کے باوجود ان کے چہرے پر کبھی گرد ملال کسی نے نہ دیکھی۔ محمد عالم خان تعلیم سے فراغت پا کر تلاش روزگار کے لیے 1970ء میں لاہور آیا تو اس نے دیکھتے ہی دیکھتے لاہور کو فتح کر لیا۔ اپنے عزم مصمم سے ۔۔۔ اپنی فنی ریاضت سے ۔۔۔ باطن کے اجلے پن اور من کی سندرتا سے۔۔۔۔ اپنی خلوص اور محبت سے اور اپنی عوام دوستی کی کمٹمنٹ سے ۔۔۔۔۔۔۔ محمد عالم خان اپنے گھر سے اس ٹرنک میں سامان کے علاوہ جو حوصلہ لے کر چلے تھے جس نے لاہور کے کاروباری رویوں اور دن رات کی دوڑ دھوپ میں ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔۔ لاہور میں آ کر سب سے پہلا مرحلہ تو ٹھکانے کا تھا ۔یہ مرحلہ اتنا آسان نہیں تھا لہذا ان کے ارادے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان جیسا انسان اپنے ہی نظریاتی مخالفوں کے ساتھ رہنے پر مجبور ہو گئے ۔ان کے لیے یہ ایک بڑا کربناک مرحلہ تھا ۔اس کے ساتھ ساتھ وہ تلاش معاش کے لیے ادھر ادھر پاؤں مارتے رہے اور اس مسئلے سے نپٹنے کے لیے چھوٹی چھوٹی ملازمتیں بھی کرتے رہے۔ کبھی صحافت کرتے کبھی سکرپٹ لکھتے ، بچوں کی نظمیں تحریر کرتے، مضمون نویسی کرتے، انہوں نے الفاظ کو اپنا بنیادی ذریعہ معاش بنایا ،کبھی کبھار سارا سارا دن ہوٹلوں قہوہ خانوں میں بیٹھ کر اپنی زندگی پر نظر کرتے ۔۔۔
ڈاکٹر محمد عالم خان ایک نوحہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد عالم خان کی بے چین روح اسے کبھی چین سے نہیں بیٹھنے دیتی۔ اس نے غلام جسم کی حیثیت سے زندگی کا گہرا مشاہدہ کیا اور قیدی پنچھی کی حیثیت سے ہزاروں خواب دیکھے۔ وہ اپنے نازک ہاتھوں میں خوابوں کی پوٹلی اٹھائے دروازہ دروازہ دستک دیتا ہے لیکن اس کے سوالوں کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے حتی کہ اس کے اپنے پاس بھی نہیں ۔تب شدید سردی کی راتوں میں کربلا کا تہوار آتا ہے اور دھوبی گھاٹ کے کھلے میدان میں وہ آلاو بن جاتا ہے ایندھن کم پڑتا ہے تو وہ اپنا جسم ریزہ ریزہ کر کے الاؤ میں ڈالتا ہے کہ حدت کا احساس باقی رہے لیکن اندر کا خلا ہے کہ پر ہونے کا نام نہیں لیتا ۔۔اگلا پڑاؤ انجمن مسافران شب کا ہے وقت کتنا کرچی کرچی ہے اور محمد عالم خان کا جسم کتنا زخمی۔۔۔۔۔جس شہر میں وہ پیدا ہوا وہ شہر اسے پناہ دینے سے انکار کرتا ہے ۔۔ وہ لاہور آ کر لاہور میں مقیم ہو جاتا ہے۔ ہندوؤں کا پرانا محلہ ہے جس کی بالکونیوں سے آج بھی هندو عورتوں کی بھٹکی روحیں جھانکتی ہیں۔مگر محمد عالم خان اپنی دھن میں مگن رہتا ہے ۔شدید گرمی کے موسم میں رضائی اوڑھ کر سوتا ہے اور شام ڈھلتے ہی مال روڈ کا رخ کرتا ہے ۔اس نے لاہور پہنچ کر پہلا مضمون عطا القاسمی کے بارے میں لکھا تھا ۔۔
ڈاکٹر محمّد عالم خان کی افسانہ نگاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معاشرتی برائیوں میں بھوک سب سے بڑی برائی ہے جو انسان پر بے حسی طاری کر کے اسے خود غرض بنا دیتی ہے۔ وہ انسان کے کردار کو پسماندگی بخشتی ہے جیسے انسان روزی چھین لینے کے در پہ ہو جاتا ہے۔۔ ان افسانوں میں محمد عالم خان نے اپنی ذاتی زندگی کی مختلف پردوں اور رنگوں کو ایک مسلسل کہانی کی شکل میں بیان کرتے ہوئے اسے ایک مسلسل سفر سے تشبیہ دی ہے کہ دونوں کے درمیان کسی فرق کو قائم رکھنا ممکن نہیں ہے جسے عالم خان نے مختلف منازل کو مختلف مناظر کے سنگ پینٹ کیا ہے لیکن جوں جوں بچپن کے لمحے گزرتے ہیں اس کی شخصیت کے ریزہ ریزہ ہونے کا مرحلہ وجود پذیر ہوتا ہے ۔افسانہ نگار جہاں بطور کردار اپنی کہانی کو علامتی سطح پر بیان کر رہا ہے وہاں وہ اپنے ارد گرد بے شمار کہانیوں کو اپنی ذات سے جوڑتا ہوا محسوس ہوتا ہے کہ انسان ہی انسان ہے اور کہانی ہی انسان ۔۔ایک افسانے سے اقتباس ملاحظہ ہو ۔
"شاید ۔۔۔ساحل پر پڑا زخمی پرندہ زندگی پا کر پھر سے فضا پر چھانے لگے ،کھڑکی کے ڈبے کو منزل تک پہنچانے والا مل جائے اور طلائی پنجرے کا در کھل جائے،آزاد موسموں کے پرندے کھلی فضا میں سانس لے سکیں ، دھرتی محبت اور آزادی کی خوشبوؤں سے مہک اٹھے اور کہانی زندہ رہے ۔" افسانہ انسانوں کی کہانی پر مبنی ہوتا ہے اور ان اشخاص کے بغیر کہانی جنم نہیں لے سکتی۔ محمد عالم خان کی کردار نگاری ، عادات و اطوار کے بیان سے تقویت پاتی ہے، ان کی کہانیوں میں دلچسپی کے کئی پہلو نظر آتے ہیں ،ان کے موضوعات سماجیات کے معاشرتی پس منظر کے ساتھ کہانی کے انداز میں رقم ہوتے ہیں ۔ان گوشوں میں ہماری جذباتی ، نفسیاتی اور معاشرتی زندگی کے کئی رنگ ملتے ہیں ۔یہ افسانہ استعاراتی انداز میں ہمارے سامنے دو شہروں کو لے کر اتا ہے۔ اول شہر مسکن ہے یہاں کے باشندے دگرگوں حالات کے کارن دوسرے شہر جاتے ہیں ۔جس شہر کو وہ جائے پناہ سمجھ رہے تھے ،انہیں دیکھ کر حیرت اور دکھ ہوتا ہے ۔کہ چاروں اطراف گوری چمڑی والے با وردی فوجی کھڑے ہیں ۔اس افسانے میں وقت کی اکائی شہر اور ڈکشن جس امر کو سامنے لائے وہ موجودہ عہد میں نئی ملوکیت کی جانب اشارہ ہے افسانے کے ذیل اقتباس میں ملک و قوم سے محبت کی آنچ اور معاشرتی برائیوں کے ذمہ دار افراد کے اصل چہرے سے نقاب اٹھتا محسوس ہوتا ہے ۔ "اور یہ خبروں کی دکان لگی ہے ، ملک کے راز سکینڈل ، قتل اور ڈکیٹی سب کے سب اپنے کام میں ۔۔۔۔اپنے باؤں میں ہمارے لفظ تمہارے کام آ سکتے ہیں۔ ذرا آزما کر دیکھ ،غنڈوں سے ہمدردی کرنا قاتل کو صاف بری کرنا، کتنا مشکل فن ہے۔لیکن ایک پاپی پیٹ کی خاطر ہر مال بکاؤ کی دکان سجائے بیٹھے ہیں ۔مجبوریوں کا بازار لائے مجرم صف باندھے کھڑے ہیں۔ اہل ضرورت خود چل کر آتے ہیں۔ جھک کر ملتے ہیں اور جھک جانے میں کتنی راحت ہے۔"
ڈاکٹر محمد عالم خان کا کہانی بننے کا فن ان کا اپنا ہے ۔وہ ماحول اور کرداروں کو کسی اچھے شاعر کی کے لہجے میں لفظوں کے قالب میں ڈالتا ہے۔اور زینہ زینہ کہانی کو بیان کرتا ہے۔ ان کے تمام کردار اپنی جگہ پر قائم اپنا فریضہ انجام دیتے نظر اتے ہیں۔محمد عالم خان کے افسانوں کی نمایاں خصوصیات یہ ہے کہ جب وہ کسی کردار کو پیش کرتے ہیں تو اس کی نفسیات سے مکمل طور پر اگاہ ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں کے کردار کسی جگہ اجنبی محسوس نہیں ہوتے۔ "طویل ترین کہانی" علامتی سطح پر معیشت کے اعتبار سے ایک ایسے پسماندہ ملک کی روداد بیان کرتا ہے یہاں ہر طرف افراط زر کا بھیانک کھیل جاری ہے۔
چند نئے ادبی مسائل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چند نئے ادبی مسائل ڈاکٹر محمد عالم خان کی تنقیدی مضامین کی تصنیف ہے جس کو پاکستان بکس لٹریری اینڈ ساؤنڈ نے 1991ء میں لاہور سے شائع کیا ہے ۔اس مجموعہ کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ علمی مضامین پر مشتمل ہےجب کہ دوسرے حصے میں نظریاتی تنقید پر مشتمل تنقیدی مضامین شامل ہیں ۔۔ان مضامین میں ایک اور قابل تعریف پہلو یہ ہے کہ دو سو صفحات کے اس مجموعے میں شاید ہی کسی شاعر ، افسانہ نگار ، ناول نگار یا نقاد کا نام آیا ہو۔سبب یہ ہے کہ افراد کے بجائے رجحانات کی بات کی گئی ہے ۔ان کی تنقید کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہمارا ادیب حقیقت پسندانہ اور مزاحمتی ادب تخلیق کرنے سے قاصر ہے اور ایسا نہ کر کے وہ اپنی قومی اور سماجی ذمہ داری سے صحیح طور پر عہدہ برا نہ ہو سکا ۔۔۔ان کے نزدیک ادیب انسان کے روپ میں بحث کی ایسی قوت ہے جو قوم میں عاجزی کا ایسا بیج بوتا ہے کہ جس کی خوشبو سے انسانوں میں اخلاقی خوبیاں ایمانداری، عفو و درگزر ، برداشت اور رحم جیسے عناصر پروان چڑھتے ہیں۔۔۔ اس مجموعے میں شاعری ، افسانہ ، ڈرامہ، تنقید ، طنز و مزاح ، سفر نامہ انشائیہ ، ترجمہ ، سوانح ، خاکہ ، دیباچہ ،تبصرہ ، فلیپ اور پھر سماجی صورتحال ،عصری شعور، فکری ساخت ، مزاحمتی رویہ اور قومی وحدت کے بے شمار مسائل زیر بحث لائے گئے ہیں ۔۔ ان کے نزدیک تقسیم ہند کے بعد نقل مکانی اور ہجرت کے باعث فرد مکمل طور پر بکھر چکا تھا اور شکست و ریخت کا شکار تھا جسے ایسے ادب کی ضرورت تھی جو اسے اکائی کی صورت یکجا کرتا مگر افسانہ نگاروں نے اس نفسیاتی الجھن کے ماحول میں بھی بکھرتی ہوئی کہانیوں کو موضوع بنایا اور اپنے افسانوں سے معاشرے کی تشکیل میں ناکام ہوئے ۔اور بکھرا ہوا فرد اور بکھر گیا ۔گو انہوں نے ان موضوعات کو بطور ہمدردی اپنایا مگر وہ خود نہیں جانتے تھے کہ اس قافلے کا مسکن کیا ہوگا۔
اب جب کہ زندگی معاشرتی زندگی تباہی کے کنارے پر آ گئی ہے ۔ہماری رائے میں ٹھوس اور حقیقت پسندانہ اسلوب میں زندگی کے ٹھوس حقائق کی پیشکش ضروری ہو گئی ہے ۔یعنی ضرورت اب اس بات کی ہے کہ فنکار کا فن زندگی اعلی زندگی کی تائید میں صرف ہو۔اس لیے کہ اگر پوری زندگی بربریت کا شکار ہو گئی تو پھر فن کے کیا معنی باقی رہ جائیں گے ۔ ڈاکٹر محمد عالم خان نے اپنی کتاب میں جو "چند نئے ادبی مسائل" کے نام سے موسوم ہے ۔ادیبوں سے یہی شکایت کی ہے کہ وہ لکھتے وقت معاشرتی حقائق کو پیش نظر نہیں رکھتے ۔انہوں نے خود کو زیادہ تر نظریاتی مباحث تک محدود کر رکھا ہے ۔لہذا ان کے مضامین بھی اس طرح کے تجربہ کا شکار ہو گئے ہیں ۔ڈاکٹر محمد عالم خان کے تصور سے ہمیں اتفاق ہے ۔کہ آج کے ادب کو زیادہ حقیر شے بنا کر رکھ سکتی ہے ۔اس سلسلہ میں وہ اپنے ایک مضمون میں ادیب کے بارے میں لکھتے ہیں
"اس نے زندگی میں کوئی بڑا روگ نہیں پالا ۔۔۔۔نہ عشق بتاں کا ۔۔نہ جام مینہ کا ۔۔۔اور نہ ہی شکم پروری کا ۔۔۔اور نہ زر اندوزی کا ۔۔۔۔لے دے کر اگر اسے کسی چیز سے رغبت ہے تو وہ سیاحت ہے جسے وہ مسافرت کا نام بھی دیتا ہے اور جو اس کے فطری رجحان اور سائیکی سے ہم آہنگ بھی ہے " اسی فطری رجحان نے اسے ملک کی رنگا رنگ تہذیبوں اور ثقافتوں سے روشناس کرایا ہے اور دھرتی کے دور دراز علاقوں میں بسنے والے مختلف الخیال لوگوں کے دکھ درد کو سمجھنے اور ان کی مسرتوں میں شریک ہونے کا موقع فراہم کیا ہے ۔انہی گرد و غبار میں اٹے میلے کچیلے لوگوں میں اسے خلوص کی دولت بھی ملی ہے اور پیار کی نعمت بھی ۔۔اور انہی کے درمیان کھیتوں اور کھلیانوں میں بیٹھ کر اس کی فلسفائی انسانیت کو تر و تازگی ملی ہے اور انسانیت پر اس کا ایمان اور زیادہ پختہ ہوا ہے ۔۔ اسی مسافرت کے دوران دھرتی کے بیٹوں سادہ نوع کسانوں کے ذریعے بعض عصری دانائیوں اور ازلی صداقتوں تک اس کی رسائی ممکن ہوئی ہے اور اسے زندگی کا حقیقی شعور بھی ملا ہے اور عرفان ذات بھی ۔۔جو کسی زاہد شب بیدار یا کسی دنیادار عابد کو عمر بھر کی عبادت کے بعد بھی حاصل نہیں ہو سکتا ہے۔۔" ڈاکٹر محمّد عالم خان ایک شان استغنا ،خودداری اور قناعت کے ساتھ اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عالم خان ایسے انسان ہیں جو ہمیشہ تعمیر پر توجہ دیتے ہیں ۔کسی کی تخریب ،عیب جوئی یا غیبت سے انھوں نے کبھی کوئی تعلق نہ رکھا ۔ وہ ستائش اور صلےکی تمنا ، غربت و افلاس ،مجبوری و محرومی اور بے سروسامانی کے پاٹوں میں پسنے والی انسانیت کے تکلیف دہ مسائل کوخوب سمجھتے ہیں کیونکہ وہ خود ان تجربات کا حصہ رہ چکے ہیں ۔دنیا کے دیئے گئے تجربات و حوادث سے انھوں نے بہت کچھ سیکھا اور اس کی روشنی میں اپنا مستقبل کا لائحہ عمل منتخب کیا ۔اہل درد سے انھوں نے جو پیمان وفا باندھا ، تمام عمر اسے استوار رکھے ہوۓ ہیں اور اسی کو علاج گردش لیل و نہار سمجھتے ہوئے اس پر کاربند رہے ۔آج کے دور کو وہ ایک دور بیگانگی سے تعبیر کرتے ہیں ۔ان کا خیال ہے کہ ہوس نے نوع انساں کو انتشار اور پراگندگی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے ۔سب سے بڑا المیہ یہ ہوا ہے کہ انسان کی عدم شناخت اور فرد کی بے چہرگی کا مسئلہ روز بہ روز شدت اختیار کرتا چلا جا رہا ہے ۔انسان کی اس بوالعجبی کا احساس مفقود ہے ۔انسان شناسی میں جو مہارت ڈاکٹر محمّد عالم خان کو حاصل ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔انسانی ہمدردی ان کے رگ و پے میں سرایت کر چکی ہے ۔ان کی کتاب زیست کے متعدد اوراق ابھی ناخواندہ ہیں ۔وہ ایک صاحب باطن ولی ہیں ۔انھوں نے معاشرتی زندگی میں پائی جانے والی بے اعتدالیوں کے خلاف انتھک جدوجہد کی اور بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے ذاتی اثر و رسوخ استعمال کیا ۔ سرکاری اہل کاروں اور معززین علاقہ سے ان کا رابطہ رہتا ہے ۔ وہ یتیموں ،بیوائوں اور فاقہ کش غریبوں کی اس زندگی جو کہ ایک جبر مسلسل بن چکی ہے ، اس میں بہتری لانے کے آرزو مند ہیں ۔ان کا خیال ہے کہ فقیروں کے حالات تو جوں کے توں ہیں جب کے بے ضمیروں کے وارے نیارے ہیں ۔اہل وفا کی صورت حال دیکھ کر وہ تڑپ اٹھتے ہیں اور اسے نیرنگیء سیاست دوراں قرار دیتے ہیں کہ جاہ و منصب پر ان لوگوں نے غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے جو کبھی شریک سفر ہی نہ تھے۔ایک زیرک معلم اور حساس ادیب کی حیثیت سے انھوں نے زندگی کی اقدار عالیہ کے تحفظ کی خاطر حریت فکر کا علم بلند رکھا ۔نوجوان نسل میں مثبت شعور و آگہی پروان چڑھانے کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جاۓ گا ۔وہ ایک مصلح ہیں، ان کے بار احسان سے معاشرے کے تمام افراد کی گردن ہمیشہ خم رہے گی ۔ نئی نسل کی تعلیم و تربیت پر ان کا کہنا ہے کہ نئی نسل کی تعلیم و تربیت پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ نئی نسل ہی روشنی کا سفر جاری رکھے گی۔ ان کی صلاحیتوں پر انہیں کامل یقین ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی امیدوں کا یہ چمن جس کو انھوں نے اپنے خون جگر سے سینچا ہے۔ سدا پھلا پھولا رہے۔ ڈاکٹر محمّد عالم خان زندگی بھر نہایت تحمل اور سنجیدگی سے پرورش لوح و قلم میں مصروف رہے ۔ وہ پرورش لوح و قلم میں انہماک کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ ذہین اور متحمل مزاج نقاد کو اپنے خلاف سادیت پسندی پر مبنی ایسے بغض و عناد، بے معنی حرف گیری، سبک نکتہ چینی اور بے وقعت الزام تراشی کو کبھی لائق اعتنا نہیں سمجھنا چاہیے۔ ڈاکٹر محمّد عالم خان نے واضح کیا کہ اَدب کے نقاد کو بے باک صداقت کو شعار بنانے والا بہترین مدبر، لچک دار سوچ سے متمتع بہترین اعتدال پسند، قابل فہم اور متنوع تصورات کو پروان چڑھانے والا ذہین دانش ور، تناقضات کو ختم کرنے والا دیانت دار مصلح، وسیع المطالعہ محقق اور منصف مزاج مورخ ہونا چاہیے۔ اپنے طرزِ عمل سے اُنھوں نے واضح کیا کہ ایک جری اور معاملہ فہم نقاد کا تبحر علمی واضح طور پر غلط سمت میں لے جانے والے فرسودہ خیالات پر مبنی جہالت اور جعل سازی کو خس و خاشاک کے مانند بہا لے جاتا ہے۔ لائق صد رشک و تحسین اسلوب کے فروغ کے لیے کام کرنے والے ایک نقاد اور تخلیق کار کی حیثیت سے ڈاکٹر محمّد عالم خان نے قارئینِ ادب کے ذوق سلیم کی نمو اور فکر و خیال کو مہمیز کرنے کے لیے جو بے مثال جدوجہد کی اور صبر و تحمل کی جو مثال قائم کی اس کی بنا پر تاریخ ہردور میں اُن کے نام کی تعظیم کرے گی۔۔دنیا میں خیر اور فلاح کا نظام ایسے ہی نیک انسانوں کے وجود کا مرہون منت ہے ۔ ڈاکٹر محمّد عالم خان زندگی بھر نہایت تحمل اور سنجیدگی سے پرورش لوح و قلم میں مصروف ہیں ۔ ڈاکٹر محمّد عالم خان نے قارئینِ ادب کے ذوق سلیم کی نمو اور فکر و خیال کو مہمیز کرنے کے لیے جو بے مثال جدوجہد کی اور صبر و تحمل کی جو مثال قائم کی اس کی بنا پر تاریخ ہردور میں اُن کے نام کی تعظیم کرے گی۔۔
ڈاکٹر عالم خان ہیں صاحب التفات انسان دوستی کا مرقع ہے ان کی ذات ہر خاص، عام پر کرتے ہیں وہ عنایات خدمت خلق کرنا ہے ان کی روایات ۔۔۔۔۔۔( شاعر ۔۔ناصر نظامی )۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|