*شبِ برات: ٹوٹے ہوئے دِلوں، غمزدہ لوگوں کے لیے ایک نرم مگر پُراثر دستک* از: آصف جلیل احمد۔ 9225747141
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جس مقصدِ عظیم کے تحت دنیا میں بھیجا، وہ بندگی ہے؛ خالص بندگی، شعوری اطاعت اور محبت پر مبنی وفاداری۔ مگر وقت کی گرد، دنیا کی چکاچوند اور مادی محبتوں کے شور میں ہم اپنا مقصدِ تخلیق کہیں پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ عبادتیں رسم بن گئیں، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت دلوں سے سرکنے لگی، اور سب سے بڑا المیہ یہ کہ ہمیں اس زیاں کا احساس تک نہیں رہا۔ احساس کے مرجانے کے بعد گمراہی کا راستہ خود بخود ہموار ہو جاتا ہے، اور انسان آہستہ آہستہ اپنی اصل سے کٹتا چلا جاتا ہے۔ ایسے میں اللہ رب العزت کا یہ خاص فضل ہے کہ وہ بندوں کو جھنجھوڑنے کے لیے کچھ مخصوص ایام اور راتیں عطا فرماتا ہے؛ تاکہ سوئی ہوئی فطرت بیدار ہو، زنگ آلود دل دھلیں اور بھولی ہوئی بندگی پھر سے یاد آ جائے۔ ہم دنیاوی سطح پر بھی کچھ دنوں کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں: یومِ مزدور، یومِ تعلیم، یومِ اردو، یومِ آئین وغیرہ یہ دن محض تقریبات نہیں بلکہ قربانیوں کی یاد، مقاصد کی تجدید اور کردار کی اصلاح کا پیغام ہوتے ہیں۔ بالکل اسی حکمت کے تحت اسلام میں بھی بعض دنوں اور راتوں کو فضیلت دی گئی ہے، تاکہ انسان اپنے رب، اپنے مقام اور اپنی ذمہ داری کو پہچان سکے۔ شبِ برات انہی بابرکت اور بیدار کن راتوں میں سے ایک ہے۔ یہ رات احساسِ زیاں کو زندہ کرنے، غفلت کی چادر کو چاک کرنے اور بندے کو اس کے رب کے سامنے لا کھڑا کرنے کے لیے آتی ہے۔ قرآن کا ازلی پیغام— “لعلکم یتذکرون، لعلکم یتفکرون” اسی رات میں دلوں پر زیادہ زور سے دستک دیتا محسوس ہوتا ہے۔ برأت کے معنی ہیں نجات، اور شبِ برات کا مفہوم ہے گناہوں سے نجات کی رات۔ یہ نجات محض تمناؤں سے نہیں، سچی توبہ سے ملتی ہے۔ یہ رات آہ و زاری کی ہے، آنسوؤں کی ہے، ٹوٹ کر رب کے سامنے جھک جانے کی ہے۔ یہ تجدیدِ عہد کی رات ہے، اللہ سے، اپنے ایمان سے، اور اپنی ذاتی اصلاح سے۔ یہ نفس کی سرکشی اور شیطانی خواہشات کے خلاف خاموش مگر فیصلہ کن جہاد کی رات ہے؛ استغفار کی رات، دل کے آئینے کو دھونے کی رات۔۔۔ مشہور مفسر ابو القاسم زمخشریؒ کے مطابق نصف شعبان کی رات کے چار نام ہیں:
👈🏻لیلۃ المبارکہ 👈🏻لیلۃ البراءۃ 👈🏻لیلۃ الصک 👈🏻لیلۃ الرحمۃ شبِ برات اور لیلۃ الصک اس لیے کہلاتی ہے کہ جس طرح کسی کے نام آزادی یا معافی کا پروانہ لکھ دیا جائے، اسی طرح اس رات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے بخشش کے پروانے تحریر فرماتا ہے۔ یہ بھی منقول ہے کہ اس رات میں پانچ عظیم خصوصیات پائی جاتی ہیں: 👈🏻امورِ حکمت کے فیصلے 👈🏻عبادت کی خاص فضیلت 👈🏻رحمتِ الٰہی کا نزول 👈🏻شفاعت کی تکمیل اور آبِ زمزم میں مزید ظاہری اضافہ وغیرہ لیکن ایک نہایت اہم حقیقت جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں، یہ ہے کہ *صرف نوافل، وظائف اور ظاہری عبادتوں میں مشغول رہ جانا شبِ برات کا مکمل حق ادا کرنا نہیں۔*
*جب تک دلوں کے کِینے نہ دُھلیں، رنجشیں ختم نہ ہوں، ناراضیاں دور نہ کی جائیں، اور ٹوٹے ہوئے رشتے نہ جوڑ لیے جائیں، تب تک اس رات کی روح ہم سے دور ہی رہتی ہے۔* یہ اللہ کا بے پایاں کرم ہے کہ اس نے سال بھر میں ہمیں ایسے مواقع عطا فرمائے جو ہمیں ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں، بچھڑوں کو ملاتے ہیں، ناراض دلوں کو منانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اسلام کی ہر بڑی تقریب چاہے وہ رمضان ہو، عید ہو یا حج اخوت، محبت، ہمدردی اور اجتماعیت کا درس دیتی ہے۔ شبِ برات بھی اسی سلسلے کی ایک روشن کڑی ہے۔ اس رات کا سب سے بڑا فلسفہ یہی ہے کہ انسان اللہ سے بھی جڑ جائے اور بندوں سے بھی۔ جو رشتے ٹوٹ گئے ہیں، انہیں جوڑا جائے۔ جن دلوں میں شکوے ہیں، انہیں صاف کیا جائے۔ اور جن لوگوں کو ہم نے دکھ دیا ہے، ان سے آج ہی معافی مانگ کر انہیں راضی کیا جائے۔ |