بسنت

بسنت
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بسنت برصغیر کی چند قدیم تہذیبی روایات میں سے ایک ہے جس کی جڑیں صدیوں پرانی تاریخ، زرعی زندگی، انسانی جذبات اور موسموں کی تبدیلی کے مظاہر سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ یہ تہوار محض پتنگ اُڑانے کا نام نہیں، بلکہ زندگی کے دوبارہ جاگنے، بہار کی آمد اور سردیوں کی اداسی کے خاتمے کی علامت ہے۔ لفظ "بسنت" سنسکرت زبان کے لفظ "وسنت" سے ماخوذ ہے، جس کے معنی بہار ہیں۔ قدیم ہندوستانی کلچر میں وسنت رتُو کو سال کا سب سے خوبصورت موسم سمجھا جاتا تھا، اور اس کے استقبال کے لیے متنوع رسومات اور تقریبات منائی جاتی تھیں۔
قدیم دستاویزات اور مذہبی متون کے مطابق، بسنت کا تہوار ہندو مت، بدھ مت اور بعد میں سکھ روایات میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے۔ وسنت پنچمی کے دن علم و دانش کی دیوی سرسوتی کی پوجا کی جاتی تھی۔ اس موقع پر زرد رنگ کے کپڑے پہنے جاتے، پھولوں کی مالائیں گلے میں ڈالی جاتی اور رنگین مٹھائیاں تقسیم کی جاتی تھیں۔ زرد رنگ کو بہار کی علامت تصور کیا جاتا تھا کیونکہ سرسوں کے کھیتوں میں یہی رنگ چھایا ہوتا، اور یہ روشنی، خوشحالی اور امید کی نمائندگی کرتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ بسنت مذہبی حدود سے نکل کر ایک ثقافتی تہوار میں تبدیل ہو گیا، جو عوامی شرکت، اجتماعی خوشی اور معاشرتی ہم آہنگی کی علامت بنا۔
مسلمان حکمرانوں کی آمد کے بعد برصغیر کی تہذیب میں ایک نیا رنگ شامل ہوا۔ مقامی کلچر کو یکسر رد کرنے کے بجائے حکمرانوں نے اسے اپنی روایات کے ساتھ ہم آہنگ کر لیا۔ مغل دور میں بسنت کو شاہی سرپرستی حاصل ہوئی۔ تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ مغل بادشاہ بہار کی آمد پر قلعوں، باغات اور محلوں میں خصوصی تقریبات منعقد کرتے۔ دربار میں پتنگ بازی کے مقابلے، موسیقی کی محفلیں اور شاہانہ ضیافتیں سجائی جاتیں۔ یہی وہ دور تھا جب لاہور کی چھتیں اور کھلے میدان رنگین محافل اور خوشیوں سے گونج اٹھتی تھیں۔
لاہور، جو صدیوں تک سلطنتوں کا مرکز رہا، "بسنت"کا ایک ثقافتی مرکز بھی بن گیا۔ یہاں بسنت نے شہر کی روح میں رچ بس کر اپنی پہچان بنا لی۔ شہر کی گلیاں، محلے، چھتیں اور میدان بسنت کے دن ایک منفرد اور رنگین منظر پیش کرتے تھے۔ ہر طرف پتنگیں اڑتی، ڈھول کی تھاپ سنائی دیتی اور قہقہے گونجتے۔ لوگ زندگی کی تمام پریشانیوں کو چند لمحوں کے لیے بھلا کر خوشی میں ڈوب جاتے۔
بسنت کی ایک خاص بات یہ تھی کہ یہ کسی ایک طبقے یا گروہ تک محدود نہ تھی۔ امیر ہو یا غریب، شہری ہو یا دیہاتی، سب اس میں شریک ہوتے۔ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق حصہ لیتا اور خوشی سب کی یکساں ہوتی۔ بچے، نوجوان اور بزرگ سب اس تہوار کا حصہ بنتے۔ گھروں کی چھتیں میل ملاقات کا مرکز بن جاتیں، لوگ ایک دوسرے کے گھروں پر جاتے، کھانے بانٹتے، چائے پیتے اور پتنگ بازی کے مقابلوں سے لطف اندوز ہوتے۔
بسنت صرف تفریح اور خوشی کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشی سرگرمیوں کا بھی ایک اہم محور بھی ہے۔ پتنگ سازی، ڈور بنانے، رنگوں کی تیاری، کھانے پینے کے اسٹالز، ہوٹلوں کی بکنگ اور سیاحت اس سے براہِ راست منسلک ہیں۔ ہزاروں لوگ اس تہوار کے ذریعے روزگار حاصل کرتے۔ لاہور کے بازاروں میں بسنت کے موسم میں رونق آ جاتی، رنگ برنگی پتنگیں، ڈور کے گچھے، بانس، جالیاں اور دیگر سامان ہر طرف دستیاب ہوتا۔
مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس خوبصورت تہوار میں ایک سیاہ پہلو بھی شامل ہونے لگا۔ پتنگ بازی کو زیادہ سنسنی خیز بنانے کی دوڑ میں دھاتی ڈور کا استعمال بڑھ گیا۔ دھاتی ڈور کا مقصد مخالف کی پتنگ آسانی سے کاٹنا تھا، لیکن اس کے خطرناک نتائج سامنے آئے۔ دھاتی ڈور کی وجہ سے موٹر سائیکل سواروں، پیدل چلنے والوں اور بچوں سمیت کئی افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بسنت، جو کبھی خوشی اور امید کی علامت تھی، اچانک خوف اور خطرے کی علامت بن گئی ہے۔
ہر سال کچھ افسوسناک واقعات میڈیا کی زینت بنتے اور عوام میں خوف پھیلتا۔ حکومتیں اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے کے بجائے آسان راستہ اختیار کرتی رہیں۔ ابتدا میں جزوی پابندیاں لگیں، پھر مکمل پابندی نافذ کر دی گئی۔ یوں بسنت، جو کبھی لاہور کی پہچان تھی، شجر ممنوعہ قرار پا گئی اور ایک پوری نسل نے اس تہوار کو صرف کہانیوں میں سنا، دیکھا نہیں۔
اس تاریخی پس منظر اور تلخ تجربات کے بعد اٹھارہ سال کے طویل توقف کے بعد حکومت پنجاب نے بسنت کی واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ یقیناً آسان نہیں، کیونکہ گزشتہ حادثات کی یادیں ابھی تازہ ہیں۔ تاہم، کسی قوم کی کلچریائی روایات کو مکمل طور پر ختم کرنا بھی مناسب نہیں۔ اسی مقصد کے تحت حکومت نے متعدد اقدامات کیے ہیں تاکہ بسنت کو محفوظ اور پُرامن بنایا جا سکے۔
سب سے اہم قدم دھاتی ڈور کے مکمل خاتمے کا عزم ہے۔ انتظامیہ اور پولیس کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ کسی بھی صورت میں دھاتی ڈور کی تیاری، فروخت یا استعمال برداشت نہیں کیا جائے گا۔ رجسٹرڈ دکانداروں کے علاوہ کوئی شخص پتنگ یا ڈور نہیں بیچ سکے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ خفیہ اداروں کو بھی ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ دھاتی ڈور کی کسی بھی ممکنہ سپلائی چین کا سراغ لگائیں اور فوری اطلاع دیں۔
موٹر سائیکل سواروں کی حفاظت کے لیے خصوصی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ آہنی راڈز کے استعمال کی پابندی، ٹریفک کنٹرول اور تین دن کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کی مفت فراہمی شامل اقدامات ہیں تاکہ کم سے کم لوگ سڑکوں پر نکلیں اور اگر نکلیں بھی تو محفوظ طریقے سے۔ فائرنگ پر مکمل پابندی ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔
پنجاب حکومت نے بسنت پر اشتعال انگیزی روکنے کے لیے دفعہ 144 کے تحت پابندیاں عائد کرنے کا سوچا ہے ۔ محکمہ داخلہ نے کہا کہ لاہور میں 6 تا 8 فروری محفوظ بسنت کی مشروط اجازت دی گئی ہے، جس کا مقصد ایک تفریحی اور پُرامن تہوار کا انعقاد ہے۔ دھاتی تار، نائلون یا شیشے سے لیپ شدہ ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی ہے، اور خطرناک ڈور یا پتنگ کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ مقررہ تاریخ سے قبل پتنگ بازی پر پانچ سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے جبکہ ممنوع مواد کی تیاری یا فروخت میں ملوث افراد کو سات سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت اس تہوار کو محض ایک تفریحی موقع نہیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ بسنت کی واپسی صرف لاہور کے شہریوں کے لیے خوشی کا موقع نہیں بلکہ پاکستان کا مثبت اور روشن چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی اس موقع پر وطن آتے ہیں، غیر ملکی سیاحوں کی توجہ حاصل ہوتی ہے اور پاکستان کا سافٹ امیج بہتر ہوتا ہے۔
بسنت دراصل زندگی، امید اور خوشیوں کی علامت ہے۔ اگر ہم اسے ذمہ داری کے ساتھ منائیں، قانون کی پاسداری کریں اور دوسروں کی جان و مال کا خیال رکھیں تو یہ تہوار ایک بار پھر لاہور کی پہچان بن سکتا ہے۔ حکومت کے اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام کی سنجیدگی اور تعاون بھی لازمی ہے۔ دھاتی ڈور کا استعمال نہ کریں، غیر قانونی خرید و فروخت کی اطلاع دیں اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کریں۔
اگر ہم سب مل کر یہ ثابت کر دیں کہ ہم تہوار بھی منا سکتے ہیں اور ذمہ داری بھی نبھا سکتے ہیں، تو آنے والی نسلیں ہمیں اس فیصلے پر یاد رکھیں گی۔ بسنت کی واپسی دراصل اس امید کی واپسی ہے کہ ہم اپنے ماضی کی خوبصورت روایات کو محفوظ طریقے سے زندہ رکھ سکتے ہیں اور ایک روشن، پُرامن اور خوشحال پاکستان کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔

 

Dr Saif Wallahray
About the Author: Dr Saif Wallahray Read More Articles by Dr Saif Wallahray: 48 Articles with 17500 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.