خاموش بیٹیاں

(Zobia khan, Bahawalpur)

خاموش کمرہ،
گھڑی کی ٹک ٹک جیسے وقت کی سانس لے رہی ہو،
اور دور سے کسی کے قدموں کی مدھم گونج،
ایک یاد دلاتی ہے کہ دنیا چلتی رہتی ہے۔
قریب والے کمرے سے کبھی ہنسی کے لمحے گزرتے ہیں،
لیکن یہ سب شور میرے دل کو خاموشی میں لکھنے پر مجبور کرتا ہے —
الفاظ، صرف یہ سکھانے کے لیے کہ زندگی دوسروں کے لیے سبق بنایا جائے۔
ہم اکثر کسی بات سے متفق ہو جاتے ہیں،
چاہے وہ بات کسی کے کہنے سے ہو یا لکھے ہوئے الفاظ سے،
ہم آسانی سے متفق ہو جاتے ہیں۔
لیکن زندگی کے اصل امتحانات میں یہی صبر،
یہی سمجھنا، سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔
بیٹیوں کے لیے یہ امتحان اور بھی سخت ہے،
کیونکہ ہماری سوچ آج بھی وہی کھڑی ہے
جہاں کئی سال پہلے تھی۔
ہر ظلم، ہر ناانصافی، ہر تکلیف، ہر صورت حال —
اس کے پیچھے بیٹی کو بس یہی کہا جاتا ہے:
صبر کرو۔
چاہے وہ صبر کرتے کرتے اپنا آپ کھو دے،
پھر بھی اس کے چہرے پر مسکراہٹ،
اور دل بھری آنکھوں میں ادھورے خواب،
ایک خاموش داستان بن جاتے ہیں۔
بے چین جسم، خالی دماغ — بس یہ رہتا ہے،
اور باقی سب خاموش ہو جاتا ہے۔
ہم سب کو چاہیے کہ ہم ان کے دکھ،
ان کے صبر، اور ان کی خاموش قربانی کو سمجھیں۔
ان کے لیے محبت، حمایت، اور حوصلہ فراہم کریں
جو وہ حقیقی طور پر مستحق ہیں۔
یہی ہمارا سب سے بڑا سبق اور ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔

 

Zobia khan
About the Author: Zobia khan Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.