پشاور میں چوہے بھی شہریوں کی زندگی میں دخل دینے لگے، عدالت میں عوامی اپیل: "یہاں چوہے ہی حکمران ہیں!"
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
پشاور، وہ شہر جہاں تاریخی ثقافت، چائے کے چھوٹے چھوٹے ٹھیلے، اور رش کے باوجود لوگوں کی روزمرہ زندگی کو ایک عجیب سا رنگ ملتا ہے، اب ایک نئے اور حیرت انگیز مسئلے کا مرکز بن گیا ہے: چوہے۔ جی ہاں، وہی چوہے جو فلموں اور کارٹونز میں ہمارے دوست یا دشمن بن کر دکھائے جاتے ہیں، پشاور کے کچھ علاقوں میں شہریوں کے لیے حقیقی زندگی کے ڈراو?نے کردار بن گئے ہیں۔
پچھلے چند ہفتوں میں چوہوں کے کاٹنے کے واقعات میں اتنی تیزی سے اضافہ ہوا ہے کہ یہ عام شہریوں کی ہنسی مذاق کی بات نہیں رہی بلکہ حقیقی پریشانی اور خطرے کی بات بن گئی ہے۔ ورسک روڈ، چارسدہ روڈ، بشیر آباد اور فاٹا سیکرٹریٹ کالونی میں شہری اب رات کو اپنے بستر میں چوہوں کی آنکھوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اگرچہ پشاور کے لوگ ہمیشہ صبر و تحمل کے لیے مشہور رہے ہیں، لیکن اب وہ یہ سوال کر رہے ہیں: "کیا ہم اپنے گھروں میں چوہوں کے ساتھ شیئر کریں یا ان کے خلاف جنگ شروع کریں؟"
یہ معاملہ اتنا سنگین ہو گیا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے گرین بینچ میں پبلک انٹرسٹ رِٹ پٹیشن دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں بتایا گیا کہ چوہوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کے کاٹنے کے واقعات شہریوں کی زندگی کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔ درخواست گزاروں میں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ سینئر صحافی اور ماہر وکلائ بھی شامل ہیں تاکہ اس مسئلے کو مو¿ثر طریقے سے اجاگر کیا جا سکے۔اس معاملے میں سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ شہریوں نے اپنی شکایت میں چوہوں کو نہ صرف مسئلہ بلکہ "شہری حکمران" قرار دیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا کہ چوہے اتنے بڑے ہو چکے ہیں کہ کبھی کبھار یہ محسوس ہوتا ہے جیسے چوہے پشاور کے سڑکوں اور نالوں کے غیر رسمی میئر بن چکے ہیں۔
سینئر وکیل سیف اللہ محب کاکاخیل نے عدالت میں مو¿قف اختیار کیا کہ شہر میں ناقص صفائی، کچرے کے ڈھیر، ٹوٹا ہوا سیوریج نظام، اور متعلقہ اداروں کی غفلت کی وجہ سے یہ مسئلہ سنگین عوامی صحت کے بحران میں تبدیل ہو گیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ انہوں نے زہریلے کیڑے مار ادویات اور جال استعمال کیے، لیکن چوہوں کی افزائش اتنی تیز تھی کہ یہ سب ناکام رہا۔ آخرکار، شہریوں کا کہنا ہے: "اب تو لگتا ہے چوہے ہماری روزمرہ زندگی کے لیے فیصلہ ساز ہیں!"چوہے صرف چھوٹے اور عام جانور نہیں رہے، بلکہ ان کی بڑھتی ہوئی تعداد نے شہریوں کی ہنسی مذاق کو بھی متاثر کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر شہری اس معاملے کو لے کر مختلف قسم کے میمز اور ویڈیوز بنا رہے ہیں، جیسے کہ "چوہے پشاور کے نئے مکانات کے مالک" یا "رات کے وقت چوہے دفتر جا کر کام کر رہے ہیں"۔ یہ سب مزاحیہ باتیں اصل مسئلے کی سنگینی کے باوجود شہریوں کی فطری حسِ مزاح کو ظاہر کرتی ہیں۔
یونین کونسل کمبوہ اور سربلند پورہ میں صورتحال کافی خراب ہے۔ شہریوں کے مطابق بڑے نالوں اور نکاسی آب کے نظام کے بعد چوہوں کی افزائش میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہاں کے چوہے نہ صرف بڑے ہیں بلکہ ایک طرح سے خود کو شہری علاقوں کے مسلط شدہ شہری سمجھنے لگے ہیں۔ یہ چوہے اب صرف راشن چرا نہیں رہے بلکہ لوگوں کے آرام و سکون میں دخل اندازی کر رہے ہیں۔
عدالت میں پیش ہونے والے مو¿قف میں کہا گیا کہ یہ مسئلہ صرف کسی ایک علاقے تک محدود نہیں ہے بلکہ پورے شہر میں چوہوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ شہریوں نے عدالت سے اپیل کی کہ وہ متعلقہ اداروں کو ذمہ دار ٹھہرائیں اور اس معاملے کو حل کرنے کے لیے مو¿ثر اقدامات کریں۔
شہریوں نے عدالت میں چوہوں کو "قومی مسئلہ" قرار دیا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ "چوہے ہمارے گھروں میں رہتے ہیں، ہماری زندگیوں میں دخل اندازی کرتے ہیں، اور کبھی کبھی یہ محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ہماری روزمرہ کی سیاسی بحثوں میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔"چونکہ یہ معاملہ سنگین اور عوامی صحت کے لیے خطرہ بن چکا ہے، اس لیے شہریوں نے عدالت سے فوری طور پر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے مزاحیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ "اگر عدالت نے فوری کارروائی نہ کی، تو اگلی بار شاید چوہے خود ہی بلدیاتی انتخابات لڑنے کا اعلان کر دیں!"
موجودہ دور میں ہر شہری چاہتا ہے کہ اس کا شہر صاف، محفوظ، اور چوہوں سے خالی ہو، لیکن جب حقیقی زندگی میں یہ ممکن نہ ہو، تو مزاح اور ہنسی ہی بچتی ہے۔شہر کے لوگ اب چوہوں کے خلاف مختلف حربے آزما رہے ہیں۔ کچھ لوگ چوہے مار جال استعمال کر رہے ہیں، کچھ نے کھلے علاقوں میں زہر چھڑکا ہے، اور کچھ نے رات کے وقت چراغوں کے ساتھ چوہوں کو ڈرانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن چوہے اتنے ہوشیار اور تیز ہو گئے ہیں کہ وہ ہر منصوبے کو ناکام کر دیتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر شہری اس معاملے کو لے کر مزاحیہ پوسٹس کر رہے ہیں، جیسے کہ: "پشاور میں چوہے بھی ٹریفک سگنلز کے قوانین پر عمل کرتے ہیں"، یا "چوہے اب نالوں کے ٹریفک جام میں پھنس جاتے ہیں"۔ یہ سب شہریوں کی زندگی کی تلخی میں مزاح کا عنصر ڈال رہے ہیں۔یہ فیچر اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ شہری زندگی میں چھوٹے چھوٹے مسائل، جیسے چوہے، کس طرح عوام کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ جب شہری ادارے ناکام ہوں اور مسائل حل نہ ہوں، تو شہری خود مزاح اور تخلیقی حل تلاش کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
آخر میں، پشاور کے شہری عدالت سے امید رکھتے ہیں کہ وہ چوہوں کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل کریں، تاکہ شہری دوبارہ رات کو اپنے بستر میں سکون سے سو سکیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جب چوہے ہی حکمران ہوں، تو شہریوں کی ہنسی مذاق اور مزاح ہی ان کے لیے سب سے بڑی قوت بن جاتی ہے۔
#PeshawarRats #ComedyFeature #UrbanChaos #PublicInterestPetition #CityLifeProblems #FunnyButSerious #RodentRevolution #PakistaniNews
|