کیا پاکستان میں اقلیتیں محفوظ ہیں؟
(Ali Raza Jamali, Islamabad)
|
کیا پاکستان میں اقلیتیں محفوظ ہیں؟
آج بھی ہمارے ملک پاکستان میں اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں۔ ان پر طرح طرح کے ظلم اور تشدد ہوتے رہتے ہیں۔ کبھی انہیں اپنے مذہبی تہوار منانے میں مشکلات پیش آتی ہیں تو کبھی ان کی عبادت گاہیں بھی محفوظ نہیں رہتیں، اور کبھی انہیں جبری طور پر مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یعنی اب اس ملک میں اقلیتوں کا رہنا ان کے لیے ایک عذاب بن چکا ہے اور وہ مستقل خوف کی فضا میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ سب کچھ اس ملک میں ہو رہا ہے جس کے بانی نے 11 اگست 1947ء کی تقریر میں فرمایا تھا: "آپ آزاد ہیں، آپ اپنے مندروں میں جانے کے لیے آزاد ہیں، آپ اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا عقیدے سے ہو، اس کا ریاست کے کاروبار سے کوئی واسطہ نہیں ہوگا۔" اس کے باوجود آج اقلیتوں کا اس ملک میں رہنا کسی خطرے سے خالی نہیں ہے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ہر مہینے اقلیتی برادری کے 20 افراد کا جبری مذہب تبدیل کرایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ کو کئی کیسز یاد ہوں گے کہ 2018 میں روہڑی (سندھ) میں 18 سالہ ہندو لڑکی پوجا کماری کو وحید بخش لاشاری سے شادی نہ کرنے پر گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اب اس ملک میں اقلیتوں کا رہنا کتنا مشکل ہو چکا ہے۔ ایسے کئی واقعات ہوئے ہوں گے جو شاید رپورٹ بھی نہیں ہوتے۔ 13 اکتوبر 2020 کو آرزو راجہ (Arzoo Rajah) کو راستے سے اغوا کر کے جبری مذہب تبدیل کرایا گیا اور 43 سالہ مسلمان مرد سے اس کی شادی کر دی گئی۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ سب اس معاشرے میں ہو رہا ہے جہاں 98 فیصد مسلمان رہتے ہیں اور ان کا مذہب فرماتا ہے کہ "دین اسلام میں کوئی جبر نہیں ہے" (سورۃ البقرہ)۔ یقیناً دین اسلام میں کوئی جبر نہیں ہے اور نہ ہی اسلام کسی کو جبری مذہب تبدیل کرانے کی اجازت دیتا ہے، لیکن چند شدت پسند مسلمانوں کی وجہ سے اسلام اور ملک پاکستان کا نام دنیا بھر میں بدنام ہو رہا ہے۔ جبری مذہب تبدیلی کے کچھ اعداد و شمار درج ذیل ہیں: 2021 سینٹر فار سوشل جسٹس (CSJ) ایک انسانی حقوق کی تنظیم ہے، جس کے مطابق 2021 میں پاکستان میں جبری مذہب تبدیل کرانے کے 78 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جن میں 39 ہندو، 38 عیسائی اور ایک سکھ شامل تھا۔ ان کیسز میں سے 76 فیصد ایسے تھے جن کی عمر 18 سال سے بھی کم تھی اور کچھ کی عمر 14 سال تھی۔ ان میں سے 40 کیسز سندھ میں، 36 کیسز پنجاب میں اور ایک ایک بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں رپورٹ ہوئے تھے۔
2022 سی ایس جے (CSJ) کے مطابق 2022 میں 124 کیسز درج ہوئے تھے، جن میں 81 ہندو، 42 عیسائی اور ایک سکھ شامل تھا۔ ان کیسز میں سے 23 فیصد کی عمر 14 سال سے بھی کم تھی، 36 فیصد کی عمر 14 سے 18 سال کے درمیان تھی، جبکہ 12 فیصد بالغ تھے۔ ان 124 کیسز میں سے 65 فیصد کیسز سندھ میں، 33 فیصد پنجاب میں اور باقی بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں رپورٹ ہوئے تھے۔
2023 سی ایس جے (CSJ) کی 2023 کی رپورٹس کے مطابق اس سال 136 جبری مذہب تبدیل کرانے کے کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جن میں 110 ہندو اور 26 عیسائی شامل تھے۔ ان میں سے 107 کیسز سندھ میں، 28 پنجاب میں اور ایک کیس بلوچستان میں ریکارڈ ہوا۔
2024 سی ایس جے کی 2024 کی رپورٹس کے مطابق 2024 میں 83 جبری مذہب تبدیل کرانے کے کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
یہ وہ کیسز تھے جو ریکارڈ میں آ گئے، لیکن حقیقت میں شاید اعداد و شمار اس سے بھی زیادہ ہوں، کیونکہ اس ملک میں ایسے کیسز اکثر ریکارڈ میں نہیں آتے۔
شاید اب اس ملک میں اقلیتوں کا رہنا کسی خطرے سے خالی نہیں ہے، کیونکہ اس معاشرے میں مذہبی انتہاپسندی اپنے عروج پر ہے اور لوگ دوسرے کے عقائد کو برداشت کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔ اس انتہاپسندی کو اس مقام تک پہنچانے میں بعض شدت پسند مولویوں کا اہم کردار رہا ہے، جنہوں نے اس معاشرے کو نفرت، مذہبی تعصب اور انتہاپسندی کے علاوہ شاید کچھ نہیں دیا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ ریاست جو دعویٰ کرتی ہے کہ ہمارے لیے سب شہری برابر ہیں، اس ریاست نے بھی ان اقلیتوں کے لیے کچھ نہیں کیا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس ملک میں ابھی تک جبری مذہب تبدیل کرانے والوں کے خلاف کوئی قانون موجود نہیں ہے، تو سزا کیا ہوگی؟
ہم حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جبری مذہب تبدیل کرانے والوں کے خلاف جلد از جلد قانون بنایا جائے، اور آج تک جو بھی لوگ ایسی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں، ان کے خلاف سخت سے سخت قانون بنا کر انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے۔ اور ہم چند باشعور مسلمان اپنی اقلیتی برادری سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم سے جتنا ہو سکا ہم آپ کے حقوق کے لیے آخری دم تک جدوجہد کرتے رہیں گے اور آپ کے ساتھ مل کر اس انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ مصنف: علی رضا جمالی نیو سعید آباد، مٹیاری، سندھ |
|