چین میں اسپرنگ فیسٹیول شاپنگ کے بدلتے رجحانات
(Shahid Afraz Khan, Beijing)
|
| چین میں اسپرنگ فیسٹیول شاپنگ کے بدلتے رجحانات تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
اسپرنگ فیسٹیول، جسے چینی نیا سال بھی کہا جاتا ہے، چین میں نہ صرف ثقافتی اور سماجی اہمیت رکھتا ہے بلکہ معاشی سرگرمیوں کا ایک بڑا محرک بھی سمجھا جاتا ہے۔ ہر سال اس موقع پر ہونے والی "نیان ہو" یعنی تہوار کی خریداری ملکی معیشت کی سمت، صارفین کے رجحانات اور منڈی کی تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ رواں برس اسپرنگ فیسٹیول سے قبل خریداری کے رجحانات نے واضح طور پر اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ چین کی صارف معیشت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں نوجوانوں کی ترجیحات، درآمدی اشیا کی بڑھتی مقبولیت اور حکومتی پالیسیوں کے اثرات نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔
روایتی طور پر اسپرنگ فیسٹیول کی خریداری کا مرکز خشک میوہ جات، مٹھائیاں، مشروبات اور دیگر گھریلو اشیا ہوا کرتی تھیں، تاہم حالیہ برسوں میں اس روایت میں نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ نوجوان صارفین کی بڑھتی قوتِ خرید اور ان کی انفرادی سوچ نے تہواری اشیا کی طلب کو نئے رخ پر ڈال دیا ہے۔ اب خریداری محض ذخیرہ اندوزی یا روایتی علامتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ذاتی پسند، جمالیاتی ذوق اور جذباتی وابستگی اس کے اہم عناصر بن چکے ہیں۔
رواں برس مقبول تہواری اشیا میں ڈیزائنر کھلونے، کارٹون تھیم پر مبنی اسپرنگ فیسٹیول جوڑے، اور تخلیقی انداز میں تیار کردہ "فو" علامات شامل ہیں، جو خوش بختی کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ اسی طرح مختلف معروف آئی پی برانڈز کے ساتھ مشترکہ طور پر تیار کی گئی اشیا، جن میں اسنیکس، کاسمیٹکس اور الیکٹرانکس شامل ہیں، صارفین کی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان اس بات کی علامت ہے کہ تہوار کی خریداری اب جذباتی تسکین اور ذاتی اظہار کا ذریعہ بنتی جا رہی ہے، جسے بعض حلقے"جذباتی معیشت" کا نام دے رہے ہیں۔
تحقیقی اداروں کے اندازوں کے مطابق یہ جذباتی معیشت آئندہ برسوں میں مزید وسعت اختیار کرے گی اور 2029 تک اس کا حجم کئی کھرب یوان تک پہنچنے کی توقع ہے، جس سے یہ چین کی صارف بنیاد پر مبنی ترقی کا ایک اہم ستون بن سکتی ہے۔
دوسری جانب، اسپرنگ فیسٹیول کی خریداری میں درآمدی اشیا کی موجودگی بھی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ نمایاں ہو گئی ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا کے گرم خطوں سے آنے والے پھل، وسطی ایشیا سے درآمد شدہ خوردنی تیل اور یورپ کی چاکلیٹس اب محض نایاب یا خصوصی اشیا نہیں رہیں بلکہ عام صارفین کی روزمرہ انتخاب کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ مختلف شہروں میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی "نیان ہو" نمائشوں اور میلوں نے بھی غیر ملکی مصنوعات کو مقامی صارفین کے لیے زیادہ قابلِ رسائی بنا دیا ہے۔
ریلوے مال برداری، بین الاقوامی پروازوں اور سرحد پار ای کامرس کے فروغ کے باعث درآمدی اشیا کی رسد میں استحکام آیا ہے، جس کے نتیجے میں یہ مصنوعات بتدریج چینی صارفین کی روزمرہ زندگی میں شامل ہو رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان چین کی کھلے پن کی پالیسی اور عالمی منڈی سے گہرے انضمام کی عکاسی کرتا ہے، جس سے نہ صرف صارفین کو متنوع انتخاب میسر آ رہا ہے بلکہ غیر ملکی کاروباری اداروں کے لیے بھی وسیع مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ رواں اسپرنگ فیسٹیول کی خریداری میں ایک اور نمایاں عنصر حکومتی سطح پر متعارف کرایا گیا کنزیومر گڈز ٹریڈ اِن پروگرام ہے۔ 2026 میں اس پروگرام کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا گیا ہے، جس کے تحت پرانی گاڑیوں، گھریلو برقی آلات اور ڈیجیٹل مصنوعات کو تبدیل کرنے پر سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔ اس اقدام سے صارفین کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور مارکیٹ میں نئی طلب پیدا ہوئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف جنوری کے مہینے میں اس پروگرام کے تحت گھریلو آلات اور ڈیجیٹل مصنوعات کی فروخت کروڑوں یونٹس تک پہنچ گئی، جبکہ مجموعی کاروباری حجم دسیوں ارب یوان رہا۔ اس پالیسی کا اثر محض ریٹیل شعبے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے باعث خریداری مراکز میں آمد و رفت بڑھی، جس سے کھانے پینے، تفریح اور دیگر خدماتی شعبوں کو بھی فائدہ پہنچا۔
معاشی ماہرین کے نزدیک اسپرنگ فیسٹیول کے دوران سامنے آنے والے یہ رجحانات چین کی معیشت میں جاری ساختی تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ صارفین کی بدلتی ترجیحات، منڈی کی بین الاقوامی نوعیت اور حکومتی پالیسیوں کے امتزاج سے یہ واضح ہوتا ہے کہ داخلی طلب مستقبل میں اقتصادی ترقی کا ایک مضبوط محرک بننے جا رہی ہے۔
وسیع تناظر میں ، یہ کہا جا سکتا ہے کہ رواں اسپرنگ فیسٹیول کی خریداری محض تہوار کی روایات تک محدود نہیں بلکہ چین کی بدلتی ہوئی معیشت کی ایک جامع تصویر پیش کرتی ہے۔ نوجوان صارفین کی سوچ، عالمی منڈی سے جڑی سپلائی چینز اور داخلی طلب کو متحرک کرنے والی پالیسیاں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ چین کی صارف معیشت بتدریج ایک زیادہ متنوع، لچکدار اور پائیدار راستے پر گامزن ہے، جو آنے والے برسوں میں ملکی معاشی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ |