ایلن مسک بھی مان گیا

ایلن مسک بھی مان گیا
حسیب اعجاز عاشرؔ
انسان صدیوں سے ایک ہی سوال کے گرد گھوم رہا ہے: کیا دولت خوشی خرید سکتی ہے؟ جدید دنیا کی چکاچوند، بلند عمارتیں، مہنگی گاڑیاں اور اربوں ڈالر کی سلطنتیں اس سوال کا حتمی جواب دینے میں ناکام رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کے ایک بیان نے اسی پرانی حقیقت کو پھر سے تازہ کر دیا کہ دولت سب کچھ نہیں خرید سکتی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس مفہوم کی بات کی کہ یہ جملہ درست ہے کہ دولت خوشی نہیں خرید سکتی، اور اس پر دنیا بھر میں بحث شروع ہو گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بات ایسے شخص کی طرف سے آئی جسے جدید دور کی دولت، طاقت اور ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا استعارہ سمجھا جاتا ہے۔
عالمی معاشی رپورٹس کے مطابق حالیہ کارپوریٹ معاہدوں کے بعد ایلون مسک کی مجموعی دولت پہلی مرتبہ 800 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی اور اسے تاریخ کا امیر ترین فرد قرار دیا گیا۔ اِس مقام پر طور تو عام انسان کی سوچ ختم ہو جاتی ہے,اتنی دولت جس کا تصور بھی مشکل ہے,لیکن اسی مقام پر کھڑے ہو کر اگر کوئی شخص کہے کہ دولت خوشی نہیں خرید سکتی تو یہ جملہ قطعی کوئی فلسفہ نہیں،سیدھا سادا ایک تجربہ ہے۔
دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ظاہری جاہ و جلال، شہرت کی چکاچوند اور دولت کے انبار بھی دل کے ویرانے کو گلزار نہیں بنا سکتے۔ بسا اوقات انسان آسمانِ شہرت پر آفتاب کی طرح درخشاں ہوتا ہے، مگر اس کے باطن میں اندھیری راتوں کا بسیرا ہوتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ نام و نمود کے میناروں پر فائز کئی مشاہیر، اندرونی کرب اور ذہنی اضطراب کے ہاتھوں اس قدر مغلوب ہوئے کہ زندگی کا چراغ خود اپنے ہاتھوں بجھا بیٹھے۔مشہور اداکار روبن ولیمز، جس کی مسکراہٹ نے کروڑوں چہروں پر ہنسی بکھیری، خود دل کے عمیق اندھیروں میں گم تھا؛ کرٹ کوبیئن، جس کی آواز نوجوانوں کے جذبات کی ترجمان تھی، اپنے ہی غموں کا اسیر رہا؛ انتھونی بورڈین، جس نے دنیا کے رنگ دیکھے، اپنے باطن کی ویرانی سے نہ بچ سکا؛ کیٹ سپیڈ، چیسٹر بینیٹن اور ایڈولف مرکل جیسے افراد بھی اس بے نام بے چینی کے ہاتھوں مغلوب ہوئے۔ یہ سب اس امر کی شہادت ہیں کہ دولت و شہرت کی فراوانی، سکونِ قلب کی ضامن نہیں۔
اس کے برعکس تاریخِ اسلام کے اوراق ایسے نفوسِ قدسیہ سے منور ہیں جنہوں نے فقر و فاقہ کو اختیار کیا، مگر دلوں میں اطمینان کا چراغ روشن رکھا۔ حضرت ابوذر غفاریؓ نے سادگی کو اوڑھنا بچھونا بنایا، دنیا کی رونقوں کو ٹھکرا کر حق گوئی کو شعار کیا، اور اسی میں سکون پایا۔ حضرت بلالؓ نے غلامی کی زنجیروں اور ظلم کی سختیوں کو برداشت کیا، مگر ''احد، احد'' کی صدا میں ایسا اطمینان پایا جو بادشاہوں کو نصیب نہ ہوا۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے بھوک کی شدت میں پتھر باندھے، مگر حدیثِ رسول ﷺ کی خدمت میں ایسا سرور پایا جو دنیاوی آسائشوں سے بڑھ کر تھا۔ حسن بصریؒ نے فقر کو زینت سمجھا اور راتوں کی گریہ و زاری میں قلبی سکون تلاش کیا۔ عبداللہ بن مبارکؒ نے دنیا کی وسعتوں کو خیر باد کہہ کر ایمان کی دولت کو ترجیح دی، اور اسی کو حقیقی غنا جانا۔
سکون نہ زر میں ہے، نہ زور میں، نہ شہرت کے ہنگاموں میں؛ بلکہ وہ تو اس دل میں اترتا ہے جو اپنے رب کی یاد سے معمور ہو۔ مال و متاع کی فراوانی اگر دل کو خالی چھوڑ دے تو وہ ویرانی بن جاتی ہے، اور فقر اگر ایمان کے نور سے منور ہو تو وہی دل کو جنت کا نمونہ بنا دیتا ہے۔
اصل حقیقت بھی یہی ہے کہ دولت زندگی کی سہولتیں تو خرید سکتی ہے، مگر سکون نہیں۔ دولت گھر خرید سکتی ہے، گھر کا سکون نہیں۔ دوا خرید سکتی ہے، صحت کی ضمانت نہیں۔ آسائش خرید سکتی ہے، اطمینانِ قلب نہیں۔ یہاں ایمان کی قوت سامنے آتی ہے۔ ایمان انسان کو مقصد دیتا ہے، امید دیتا ہے اور دل کو وہ سہارا دیتا ہے جو کسی بینک بیلنس سے حاصل نہیں ہوتا۔ قرآن و سنت کی تعلیمات بار بار اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہیں کہ دلوں کا اطمینان اللہ کی یاد میں ہے۔ جب انسان اپنے معاملات کو ایک اعلیٰ مقصد سے جوڑ لیتا ہے تو محرومی بھی بوجھ نہیں رہتی اور فراوانی بھی غرور نہیں بنتی۔آج کی دنیا میں اصل بحران دولت کی کمی نہیں بلکہ سکون کی کمی ہے۔ جدید انسان کے پاس اسمارٹ فون ہے مگر سکون نہیں، تیز رفتار انٹرنیٹ ہے مگر اطمینان نہیں، وسیع مارکیٹ ہے مگر دل خالی ہے۔ ایسے ماحول میں اگر ایک ارب پتی یہ اعتراف کرے کہ دولت خوشی نہیں خرید سکتی تو یہ دراصل پوری انسانیت کے لیے ایک آئینہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایمان والا شخص محدود وسائل کے باوجود مطمئن رہتا ہے کیونکہ اس کا سہارا اللہ پر یقین ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ رزق، عزت اور سکون سب اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ اسی لیے وہ سادہ بستر پر بھی سکون سے سو جاتا ہے، جبکہ دولت کے انبار پر بیٹھا انسان بھی بے چین رہ سکتا ہے۔
قارئیں کرام، دولت بری چیز نہیں، مگر اسے مقصدِ حیات بنا لینا سب سے بڑی غلطی ہے بلکہ سب سے بڑا فتنا ہے۔ دولت اگر خدمتِ انسانیت کا ذریعہ بنے تو نعمت ہے، اور اگر دل پر حکمرانی کرے تو آزمائش۔ اصل سکون نہ بینک اکاؤنٹ میں ہے، نہ اسٹاک مارکیٹ میں اصل سکون ایمان، شکر اور قناعت میں ہے۔اور شاید یہی وہ سچ ہے جسے دنیا کا امیر ترین انسان ایلن مسک بھی اپنی بلند ترین چوٹی پر کھڑے ہو کر محسوس کر رہا ہے، جبکہ ایمان والا انسان زمین پر سادہ زندگی کے باوجود اطمینان کی نیند سو لیتا ہے۔بس دعا ہے کہ اللہ دولت مندوں سے دولت نہ لے بلکہ سب کے سب کو ایمان کی دولت سے بھی مالا مال کر دے۔آمین
Haseeb Ejaz Aashir | 03344076757

Haseeb Ejaz Aashir
About the Author: Haseeb Ejaz Aashir Read More Articles by Haseeb Ejaz Aashir: 181 Articles with 176707 views https://www.linkedin.com/in/haseebejazaashir.. View More