چین میں خاندانی معاونت اور پالیسی اصلاحات کے اثرات نمایاں

چین میں خاندانی معاونت اور پالیسی اصلاحات کے اثرات نمایاں
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

خاندانی استحکام کسی بھی معاشرے کی سماجی اور معاشی بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔ بدلتے معاشی حالات، شہری طرزِ زندگی اور آبادیاتی رجحانات کے تناظر میں کئی ممالک کو شادی اور پیدائش کی شرح میں کمی جیسے چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ ایسے میں چین میں 2025 کے دوران شادیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومتی پالیسی اقدامات اور خاندانی معاونت کے نظام کے اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

چین کی وزارتِ شہری امور کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں 67 لاکھ 60 ہزار شادیوں کا اندراج کیا گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 11 فیصد زیادہ ہے۔ سرکاری ڈیٹا کے مطابق 2024 کے مقابلے میں شادیوں کی تعداد میں 6 لاکھ 57 ہزار جوڑوں کا اضافہ ہوا، جو سالانہ بنیادوں پر 10.76 فیصد اضافے کی نمائندگی کرتا ہے۔

اسی عرصے کے دوران ملک بھر میں 27 لاکھ 43 ہزار طلاقوں کا اندراج بھی کیا گیا۔ تاہم مجموعی طور پر شادیوں میں اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ حالیہ برسوں میں شادی اور مناسب عمر میں بچوں کی پیدائش کی حوصلہ افزائی کے لیے کیے گئے اقدامات بتدریج نتائج دے رہے ہیں۔

چین نے شادی اور خاندانی استحکام کو فروغ دینے کے لیے انتظامی اور پالیسی سطح پر متعدد اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ ان میں بین الصوبائی شادی رجسٹریشن کے طریقہ کار کو آسان بنانا ایک اہم قدم ہے۔ گزشتہ برس مئی میں نافذ ہونے والے ضابطے کے تحت علاقائی پابندیاں ختم کر دی گئیں، جس کے بعد جوڑے ملک میں کسی بھی مقام پر اپنی رہائشی رجسٹریشن سے قطع نظر شادی کا اندراج کرا سکتے ہیں۔ مزید برآں، شادی رجسٹریشن کے لیے خاندانی رجسٹریشن ریکارڈ پیش کرنے کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔

ان اصلاحات کے بعد بین الصوبائی شادیوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، خاص طور پر ان شہروں میں جہاں بڑی تعداد میں نقل مکانی کرنے والی آبادی مقیم ہے۔ مثال کے طور پر شنگھائی میں 2025 کے دوران 1 لاکھ 25 ہزار 102 شادیوں کا اندراج ہوا، جو 2024 کے مقابلے میں تقریباً 38.7 فیصد زیادہ ہے۔ شین زین میں 1 لاکھ 18 ہزار 900 شادیوں کا اندراج ہوا، جو 28.54 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے، جبکہ فوجو میں 37 ہزار 887 جوڑوں نے شادی رجسٹر کرائی، جو سالانہ بنیادوں پر 20.37 فیصد اضافہ ہے۔

شادی کی حوصلہ افزائی کے لیے بعض مقامی حکومتوں نے مالی مراعات بھی متعارف کرائی ہیں۔ شمالی چین کے صوبہ شانشی کے شہر لیولیانگ میں یکم جنوری 2025 سے پہلی شادی رجسٹر کرانے والے جوڑوں کو 1,500 یوان کی ترغیبی رقم دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسی طرح مشرقی چین کے صوبہ زے جیانگ کے کئی شہروں میں شادی سے متعلق اخراجات کے لیے خصوصی واؤچرز جاری کیے گئے، جن کے تحت نوبیاہتا جوڑوں کو 1,000 یوان تک کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ یہ واؤچرز فوٹوگرافی، شادی کی منصوبہ بندی، سفر اور ضیافت جیسی خدمات پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ شادی کو صرف ایک سماجی عمل نہیں بلکہ معاشی سرگرمی کے ایک اہم جزو کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، جو مقامی کھپت اور خدماتی صنعت کو تقویت دے سکتا ہے۔

وسیع تناظر میں چین میں شادیوں کی شرح میں اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ چین میں خاندانی معاونت، انتظامی آسانیوں اور مالی ترغیبات پر مبنی پالیسیوں کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ بین الصوبائی رجسٹریشن میں سہولت اور مقامی سطح پر دی جانے والی مراعات نے شہری نقل مکانی اور جدید طرزِ زندگی کے تناظر میں شادی کے عمل کو زیادہ آسان اور قابلِ رسائی بنا دیا ہے۔ یہ رجحان نہ صرف خاندانی استحکام کو مضبوط کرنے کی جانب ایک قدم ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی اور اندرونی کھپت کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1092422 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More