جب اخلاقیات اکثریت سے ٹکرائیں: سندھ اسمبلی، شراب بندی کا بل اور سیاست کی خاموش منطق
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
سندھ اسمبلی میں حالیہ دنوں ایک ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس پر سنجیدہ بحث بھی ہو سکتی تھی اور طنز بھی۔ رکنِ اسمبلی انیل کمار نے شراب پر مکمل پابندی کا بل پیش کیا۔ بظاہر یہ ایک سادہ قانون سازی کی کوشش تھی۔ مگر ایوان میں موجود مسلمان اراکین نے متفقہ طور پر اسے مسترد کر دیا۔ نہ طویل بحث، نہ تفصیلی دلائل، نہ کمیٹی کو ریفر کرنے کی سنجیدہ کوشش۔ بس ایک اجتماعی انکار۔ یہ واقعہ خود کئی سوال کھڑے کرتا ہے۔ پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے۔ آئین اور ریاستی بیانیہ دونوں اسلامی اصولوں کا حوالہ دیتے ہیں۔ شراب اسلام میں واضح طور پر حرام ہے۔ اس میں کوئی ابہام نہیں، کوئی فقہی اختلاف نہیں۔ ایسے میں جب مکمل پابندی کا بل پیش ہوا تو کم از کم یہ توقع کی جا سکتی تھی کہ اس پر تفصیلی بحث ہوتی، قانونی اور سماجی پہلوو¿ں کا جائزہ لیا جاتا، اور پھر کوئی فیصلہ سامنے آتا۔لیکن ہوا اس کے برعکس۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بل ایک اقلیتی رکن نے پیش کیا۔ ایک غیر مسلم رکن اسمبلی اکثریتی مذہبی اصول کی بنیاد پر قانون سازی کی تجویز لے کر آیا۔ یہ منظر خود ایک علامت ہے۔ اس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے تھا۔ مگر جس سرعت سے اسے رد کیا گیا، اس نے سیاسی ترجیحات کو اخلاقی بحث پر غالب دکھایا۔ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک بل کی شکست نہیں بلکہ بحث کے موقع کی بھی شکست ہے۔شراب نوشی کے سماجی اثرات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ گھریلو تشدد، جرائم، ٹریفک حادثات اور صحت کے مسائل میں اس کا کردار عالمی سطح پر زیر بحث رہتا ہے۔ پاکستان میں اگرچہ مسلمانوں کے لیے شراب پہلے ہی ممنوع ہے، مگر عملی طور پر ایک محدود اور لائسنس شدہ نظام موجود ہے جس کے تحت غیر مسلم شہری شراب حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک غیر رسمی مارکیٹ بھی حقیقت ہے۔یعنی ریاست پہلے ہی ایک طرح کی جزوی پابندی نافذ کیے ہوئے ہے۔ مکمل پابندی کا مطلب اس نظام کو ختم کرنا اور ایک سخت ماڈل اپنانا ہوتا۔
یہیں سے معاملہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔کیا مکمل پابندی آئینی طور پر ممکن ہے؟ کیا اس سے اقلیتوں کے حقوق متاثر ہوں گے؟ کیا اس کے نتیجے میں بلیک مارکیٹ بڑھے گی؟ کیا نفاذ ممکن ہو سکے گا؟ یہ سب جائز سوالات ہیں۔ مگر ان سوالات کو ایوان کے اندر کھل کر زیر بحث لانا چاہیے تھا۔ اگر بل میں قانونی خامیاں تھیں تو انہیں واضح کیا جاتا۔ اگر آئینی تضاد تھا تو اسے دلیل کے ساتھ بیان کیا جاتا۔ سیاست میں خاموشی بھی ایک پیغام دیتی ہے۔ ایسا تاثر پیدا ہوا کہ معاملہ مذہبی یا اخلاقی بحث سے زیادہ سیاسی حساب کتاب کا تھا۔ ہمارے ہاں انتخابی مہمات میں مذہبی اقدار کا حوالہ دینا عام ہے۔ تقاریر میں معاشرتی اصلاح اور اسلامی اصولوں کی بات کی جاتی ہے۔ مگر جب انہی اصولوں سے متعلق قانون سازی کا سوال آئے تو احتیاط، خاموشی یا فوری انکار سامنے آ جاتا ہے۔
یہ تضاد عوام کی نظروں سے اوجھل نہیں رہتا۔ دوسری طرف یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان ایک کثیر المذاہب معاشرہ ہے۔ غیر مسلم شہریوں کو آئین نے اپنے مذہبی اور ثقافتی طریقہ زندگی کا حق دیا ہے۔ مکمل پابندی اس حق پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اگر یہی دلیل تھی تو اسے واضح انداز میں پیش کیا جانا چاہیے تھا۔ شفافیت سے نہ صرف فیصلہ مضبوط ہوتا ہے بلکہ ادارے کی ساکھ بھی بہتر ہوتی ہے۔ یہ معاملہ محض شراب کا نہیں، قانون سازی کے معیار کا ہے۔اسمبلیاں صرف ووٹ دینے کی جگہ نہیں ہوتیں، وہ دلیل دینے کی جگہ بھی ہوتی ہیں۔ حساس اور مذہبی نوعیت کے معاملات پر سنجیدہ مکالمہ جمہوری عمل کا بنیادی تقاضا ہے۔ بل کو مسترد کرنا اسمبلی کا اختیار ہے، مگر بحث سے گریز کرنا سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔اگر مکمل پابندی ناقابلِ عمل تھی تو اس کے بجائے کیا متبادل پیش کیا گیا؟ کیا موجودہ نظام کا جائزہ لینے کی تجویز آئی؟ کیا ریگولیٹری اصلاحات کی بات ہوئی؟ اگر نہیں، تو پھر یہ موقع ضائع ہو گیا۔
اس سارے منظر میں ایک ہلکی سی طنزیہ جھلک بھی محسوس ہوتی ہے۔ ایک اقلیتی رکن اکثریتی مذہبی اصول کی بنیاد پر قانون سازی کی کوشش کرے، اور اکثریتی مذہب کے نمائندے اسے مسترد کر دیں۔ یہ منظر خود ہمارے سیاسی اور سماجی بیانیے پر تبصرہ ہے۔لیکن طنز سے آگے بڑھ کر سنجیدہ سوال یہ ہے کہ کیا ہم بطور معاشرہ مشکل مباحث سے گریز کر رہے ہیں؟ الکحل پالیسی دنیا بھر میں ایک پیچیدہ موضوع ہے۔ مکمل پابندی کے اپنے خطرات ہیں، جزوی پابندی کے اپنے مسائل۔ اصل ضرورت اعداد و شمار، ماہرین کی رائے، اقلیتی نمائندوں سے مشاورت اور آئینی تجزیے کی تھی۔ اگر یہ سب مراحل طے کر کے فیصلہ آتا تو شاید تنقید کم ہوتی۔جمہوریت صرف اکثریت کا نام نہیں، دلیل کا بھی نام ہے۔
سندھ اسمبلی کے اس فیصلے نے کم از کم اتنا ضرور ثابت کیا کہ اخلاقیات، سیاست اور عملی حکمرانی کے درمیان توازن آسان نہیں۔ مگر یہی توازن قائم کرنا منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے۔ عوام توقع کرتے ہیں کہ ان کے نمائندے حساس معاملات پر کھلے ذہن سے بات کریں گے، نہ کہ فوری سیاسی ردعمل تک محدود رہیں گے۔آج بحث اسمبلی کے باہر ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا، ٹی وی ٹاک شوز اور عوامی حلقوں میں سوال اٹھ رہے ہیں۔ اگر ایوان کے اندر یہ مکالمہ ہو جاتا تو شاید باہر کی آوازیں اتنی تیز نہ ہوتیں۔ بالآخر، کسی بل کی منظوری یا مسترد ہونا جمہوری عمل کا حصہ ہے۔ مگر طریقہ کار تاریخ میں یاد رہتا ہے۔ اس واقعے نے ایک اہم سوال چھوڑ دیا ہے: کیا ہم مذہبی اور سماجی حساسیت کے معاملات پر سنجیدہ اور شفاف قانون سازی کے لیے تیار ہیں، یا ہم انہیں سیاسی سہولت کے مطابق نمٹاتے رہیں گے؟ سندھ اسمبلی کو اب بھی موقع ہے کہ وہ اس موضوع پر جامع بحث کا دروازہ کھولے۔ کیونکہ اصل مسئلہ صرف شراب نہیں، اعتماد ہے۔ اور اعتماد دلیل، شفافیت اور سنجیدگی سے بنتا ہے۔
#SindhAssembly #AlcoholBan #PakistanPolitics #LegislativeDebate #PublicPolicy #ReligiousValues #MinorityRights #Governance #Democracy #PolicyReform
|