ہیلمٹ: قانون نہیں، زندگی کی ضمانت

ہیلمٹ صرف حادثات میں ہی نہیں، روزمرہ ڈرائیونگ میں بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یہ دھول، مٹی، کیڑوں، تیز ہوا اور شور سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔ سردی، بارش، دھند اور شدید دھوپ میں آرام اور توجہ برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے، جو حادثات کے امکانات کو مزید کم کرتا ہے۔

ہیلمٹ: قانون نہیں، زندگی کی ضمانت اختر سردار چودھری

پاکستان کی سڑکیں اب محض راستے نہیں رہیں، بلکہ ایک خاموش قاتل کی مانند انسانی جانوں کو نگل رہی ہیں۔ روزانہ ہونے والے ٹریفک حادثات نے ایک مستقل سماجی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔ موٹر سائیکلوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، تیز رفتاری کی لت، غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ اور حفاظتی اصولوں کی مسلسل نظر اندازی نے ہزاروں گھروں کو اجاڑ دیا ہے۔ ان حادثات کا سب سے بڑا شکار موٹر سائیکل سوار ہیں، جو سڑکوں پر سب سے زیادہ تعداد میں تو موجود ہوتے ہیں، مگر حفاظت کے معاملے میں سب سے پیچھے۔تصور کریں: ایک نوجوان، اپنے گھر سے نوکری کی تلاش میں نکلتا ہے، مگر کچھ لمحوں بعد ایک حادثہ اس کی زندگی بدل دیتا ہے۔ یہ کوئی افسانہ نہیں، بلکہ پاکستان کی سڑکوں کی روزمرہ حقیقت ہے۔ موٹر سائیکل یہاں عام آدمی کی بنیادی سواری ہے۔روزگار، تعلیم، علاج اور خریداری کا سہارا۔ مگر افسوس، اسی سواری کو سب سے زیادہ لاپرواہی سے استعمال کیا جاتا ہے۔ ٹریفک حادثات میں جاں بحق یا شدید زخمی ہونے والوں میں اکثریت موٹر سائیکل سواروں کی ہوتی ہے۔
حکومت اور ٹریفک پولیس نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے ٹریفک قوانین کو مزید سخت اور مؤثر بنایا ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ پہننا، ڈرائیونگ لائسنس کا ہونا، اگلی اور پچھلی لائٹس، چاروں اشارے، سائیڈ مررز اور ایک لائن میں پارکنگ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ خلاف ورزی پر جرمانوں میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا، تاکہ شہری اپنی جان کی حفاظت کو سنجیدگی سے لیں۔ مگر کیا محض جرمانے رویوں کو بدل سکتے ہیں؟ یا حقیقی تبدیلی کے لیے شعور، تربیت اور ذمہ داری کا احساس زیادہ ضروری ہے؟ قانون تب مؤثر ہوتا ہے جب وہ خوف کی بجائے سوچ کا حصہ بن جائے۔
پاکستان میں ہیلمٹ کا قانون کوئی نیا نہیں ہے۔ ٹریفک قوانین کے مطابق یہ ہمیشہ سے لازمی رہا ہے، لیکن عمل درآمد میں شدید کمی رہی ہے۔ گزشتہ آٹھ سے دس برسوں میں کراچی، لاہور، فیصل آباد، پشاور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں ''ہیلمٹ مہم'' جیسی آگاہی مہمات چلائی گئیں۔ ان کا مقصد شہریوں کو یہ باور کرانا تھا کہ ہیلمٹ پولیس کا دباؤ نہیں، بلکہ زندگی بچانے کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے۔عالمی تحقیق اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ ہیلمٹ پہننے سے حادثے میں موت کے امکانات تقریباً 37 فیصد تک کم ہو جاتے ہیں، جبکہ سر کی شدید چوٹ کا خطرہ 70 فیصد سے زائد کم ہو جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ہیلمٹ کے بغیر موٹر سائیکل چلانے کا تصور بھی نہیں کیا جاتا، کیونکہ وہاں انسانی جان کی قدر قانون سے بالاتر ہے۔
ڈرائیونگ لائسنس کا معاملہ بھی ہمارے معاشرے میں غیر سنجیدگی کا شکار ہے۔ بڑی تعداد میں لوگ بغیر تربیت اور لائسنس کے سڑکوں پر اتر آتے ہیں۔ چند دن کی مشق کو کافی سمجھ لیا جاتا ہے، جو ٹریفک قوانین سے لاعلمی اور عملی کمزوری کی وجہ سے حادثات کو دعوت دیتا ہے۔ڈرائیونگ لائسنس محض ایک کاغذ نہیں، بلکہ اس بات کی ضمانت ہے کہ سوار تربیت یافتہ ہے، قوانین کا پابند ہے اور دوسروں کے لیے خطرہ نہیں۔ بغیر لائسنس گاڑی چلانا قانونی جرم تو ہے ہی، اجتماعی غیر ذمہ داری بھی۔ٹریفک سیفٹی کے ماہرین اور نیورو سرجنز اس بات پر متفق ہیں کہ ہیلمٹ موٹر سائیکل سوار کی سب سے مؤثر حفاظتی ڈھال ہے۔ حادثے میں سب سے زیادہ خطرہ سر اور دماغ کو ہوتا ہے۔ ہیلمٹ جھٹکے کو جذب کر کے دماغ کو شدید ٹراما سے بچاتا ہے۔ اکثر حادثات میں سر سب سے پہلے زمین سے ٹکراتا ہے، اور معیاری ہیلمٹ اس شدت کو 60 سے 80 فیصد تک کم کر دیتا ہے۔
ہیلمٹ صرف حادثات میں ہی نہیں، روزمرہ ڈرائیونگ میں بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یہ دھول، مٹی، کیڑوں، تیز ہوا اور شور سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔ سردی، بارش، دھند اور شدید دھوپ میں آرام اور توجہ برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے، جو حادثات کے امکانات کو مزید کم کرتا ہے۔ نفسیاتی طور پر بھی ہیلمٹ سوار کو پر اعتماد اور محتاط بناتا ہے، جو خود بخود ڈرائیونگ کو بہتر کرتا ہے۔ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم قانون کی بجائے عادتوں اور ماحول کی پیروی کرتے ہیں۔ اگر آس پاس ہیلمٹ پہنے لوگ ہوں تو ہم بھی اسے اپناتے ہیں، ورنہ اسے غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ہیلمٹ کو ''چالان سے بچنے کا طریقہ'' تصور کیا جاتا ہے، جبکہ یہ زندگی کی ضمانت ہے۔
حادثات کے اعدادوشمار دل دہلا دینے والے ہیں۔ صرف پنجاب میں 2025 میں اب تک 4,791 افراد ٹریفک حادثات میں ہلاک ہو چکے ہیں، جو پچھلے سال سے 19 فیصد زیادہ ہے۔ ملک بھر میں روزانہ سینکڑوں موٹر سائیکل حادثات رپورٹ ہوتے ہیں، جن میں 70 فیصد سے زائد متاثرین نوجوان ہوتے ہیں۔ دستیاب ڈیٹا کے مطابق، اموات کی سب سے بڑی وجہ سر کی چوٹیں ہیں، اور تقریباً 60 فیصد شدید زخمی وہ ہوتے ہیں جنہوں نے ہیلمٹ نہیں پہنا ہوتا۔ ہر سال اربوں روپے علاج، بحالی اور پیداواری نقصان میں ضائع ہوتے ہیں، جو قومی معیشت پر بوجھ بنتے ہیں۔
حکومت کی لائٹس، اشاروں، سائیڈ مررز اور منظم پارکنگ پر سختی کا مقصد شہریوں کو پریشان کرنا نہیں، بلکہ سڑکوں کو محفوظ بنانا ہے۔ رات میں لائٹ کے بغیر چلنا یا مررز کی عدم موجودگی حادثات کو دعوت دیتا ہے۔عوام کو چاہیے کہ وہ قانون کے خوف سے نہیں، بلکہ اپنی اور دوسروں کی جان کی حفاظت کے لیے اصول اپنائیں۔ معیاری ہیلمٹ کا استعمال، اسے درست باندھنا، موٹر سائیکل کی روزانہ جانچ، تیز رفتاری سے پرہیز، ڈرائیونگ لائسنس کا حصول اور دوسروں کا خیال۔یہ سب ہر شہری کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ہم سب کویہ تسلیم کرنا ہوگا کہ قانون کی سختیاں عارضی ہو سکتی ہیں، مگر زندگی کی حفاظت مستقل ضرورت ہے۔ ہیلمٹ کوئی بوجھ نہیں، بلکہ وہ ڈھال ہے جو گھروں کو اجڑنے، بچوں کو یتیم ہونے اور والدین کو اپنے پیاروں کے جنازے اٹھانے سے بچا سکتی ہے۔ ہماری سڑکیں تب محفوظ ہوں گی جب ہم جرمانے کے خوف سے نہیں، بلکہ ذمہ داری کے احساس سے قوانین کی پابندی کریں گے۔آئیے آج ہم اس بات کا عہد کریں کہ ہم چالان سے نہیں، اپنی جان کی حفاطت کرتے ہوئے گاڑی چلائیں گے۔
Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal
About the Author: Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal Read More Articles by Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal: 506 Articles with 686082 views Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal
Press Reporter at Columnist at Kassowal
Attended Government High School Kassowal
Lives in Kassowal, Punja
.. View More