اپنے معزز قارئین سے معذرت خواہ ہوں کہ لمبے عرصے تک کوئ تحریر آپ کے لۓ لکھ نہیں سکی کیونکہ میں اپنی زندگی کے ایک بہت اہم پروجیکٹ پر کام کر رہی ہوں۔ آپ سب سے بھی دعا کی درخواست کرونگی کہ دعاؤں میں یاد رکھیں کہ میں اس کام کو نہایت احسن طریقے سے سرانجام دے سکوں اور آپ کے ساتھ شیئر کر سکوں۔ والدین بننے کی خبر جہاں خوشی کی نوید ہوتی ہے وہیں ذمہ داریوں اور فرائض کا ایک ان دیکھا بوجھ جیسے انسان کے کاندھوں پر وارد ہوجاتا ہے۔ رب تعالٰی کے بعد والدین ہی اپنے بچوں کی حفاظت کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ مگر نہایت معذرت کے ساتھ یہاں میں یہ اعتراف کرنا چاہونگی کہ آجکل کے والدین جہاں معاش اور ضروریاتِ زندگی کے حصول میں مصروف ہیں وہیں وہ اپنے بچوں کی تربیت اور پرورش سے کسی قدر غافل نظر آتے ہیں۔ چند واقعات جو میرے علم میں ہیں اپنے تمام قارئین خصوصاً والدین کے لۓ تحریر کر رہی ہوں۔
ایک واقعہ جس کی میں خود عینی شاہد ہوں وہ آپ سب کے گوش گزار کرنا چاہتی ہوں۔ ہوا کچھ یوں کہ میں اپنے شوہر کے ساتھ ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ گئ، وہاں ایک لڑکی بھی انہوں نے رکھی ہوئ تھی جو شاید آرڈر لیتی یا صفائ کا انتظام دیکھتی۔ ہم آرڈر دے کر انتظار کرنے لگے۔ ان کا فیملی ہال بیسمنٹ میں تھا۔ اس لڑکی کے علاوہ وہاں ایک ویٹر بھی تھا۔ ہمارا آرڈر آ چکا تھا، ہم کھانے سے فارغ ہو کر جانے ہی والے تھے کہ اتنے میں میرے شوہر نے مجھے کہا کہ جا کر دیکھو شاید وہ لڑکی گر گئ ہے۔ میں جلدی سے وہاں پہنچی تو دیکھا وہ بیچاری شاید بیہوش ہو کر گر گئ تھی اور وہ لڑکا اسے اٹھا کر پاس پڑی کرسی پر بٹھانے کی اپنی سی کوشش کر رہا تھا جو کہ اس کے لۓ ناممکن تھا۔ ظاہر ہے محرم نامحرم کا حجاب بھی تو تھا۔ میں نے اس لڑکے کے ساتھ مل کر بمشکل تمام اس لڑکی کو کرسی پر بٹھایا اور پانی چھڑکا گیا تو وہ لڑکی ہوش میں آئ۔ ہم تو وہاں سے رخصت ہو گۓ مگر کچھ الجھنیں، کچھ سوالات میرے دماغ میں بیٹھ گۓ۔ کیا لڑکی کے والدین اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ ان کی بیٹی جہاں کام کرتی ہے وہاں وہ اکیلی ہوتی ہے، کوئ اور لڑکی اس کے ساتھ وہاں نوکری نہیں کر رہی؟ کیا اس لڑکی کے بیہوش ہونے کا واقعہ پہلی بار رونما ہوا تھا یا وہ ایسے کسی عارضے میں مبتلا تھی اور اکثر اس کے ساتھ ایسا ہوتا رہا تھا؟ میں کسی کی نیت پر شک نہیں کر رہی نہ ہی کسی کی کردارکشی، اگر ہم وہاں موجود نہ ہوتے تو واقعی اس لڑکی کی بیہوشی کی حالت میں عزت محفوظ تھی؟ سوالات یقیناً پریشان کن ہیں مگر جوابات۔۔۔۔
ایک دفعہ والدہ کے ساتھ ایک نۓ پارلر جانے کا اتفاق ہوا جو مین روڈ پر ایک پلازے کی دوسری منزل پر واقع تھا۔ وہاں جا کر دیکھا توعجیب منظر پایا، روشنی مدھم تھی اور موسیقی لگی تھی۔ وہاں کام کرنے والی تو صرف لڑکیاں تھیں مگر ریسپشن پر مرد تھا۔ علاوہ ازیں یہ بھی معلوم ہوا کہ وہاں کا مالک اور ہیئر سٹائلسٹ بھی ایک جوان مرد تھا۔ ہمیں تھوڑی دیر انتظار کرنے کا کہا گیا کہ سر آتے ہیں وہ ہیئرکٹنگ کرینگے۔ چند ثانیے گزرنے کے بعد ایک کیبن جو غالباً فیشل وغیرہ کے لۓ مخصوص تھا، سے سر کم ہیئرسٹائلسٹ تشریف لاۓ۔ تھوڑی دیربعد اسی کیبن سے ایک لڑکی بھی باہر آ گئ جو شاید وہاں کی ورکر تھی۔ رونگھٹے کھڑے ہوگۓ نا آپ لوگوں کے بھی؟ اس کیس میں بھی میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ ان لڑکیوں کے والدین کیا اس بات سے واقف ہیں کہ جہاں ان کی بیٹی کام سیکھنے یا کرنے جا رہی ہے وہاں مرد بھی ہیں؟ وہاں کے آذاد ماحول کے بارے میں کچھ علم بھی ہے انہیں یا نہیں؟
ہم جس مشکل دورمیں جی رہے ہیں اس میں بچوں کی تربیت و پرورش کسی جفت کش مہم سے کم نہیں۔ کیا انسان ان کی گھر میں نگرانی کرے یا کیا باہر کے خطرناک معاشرتی بے رہروی سے محفوظ رکھے۔ میری تمام والدین سے گذارش ہے کہ سب سے پہلے اپنی اولاد کے ساتھ دوستی و اعتماد کا رشتہ بحال کریں تاکہ وہ اپنی زندگی کے ہر چھوٹے بڑے، اچھے برے کام سے آپ کو آگاہ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ دوسرا اگر آپ کی اولاد کسی بھی جگہ یا رشتے سے خوف یا دوری کا اظہار کرے تو اس کی بات کو اہمیت دیتے ہوۓ اسے کسی بھی ایسی جگہ مت بھیجیں یا لے کر جائیں جہاں وہ خود کو غیر محفوظ تصور کرے۔ |