نبی کریم ﷺ کا سفرِ ہجرت: ایمان، قیادت اور جنگی حکمتِ عملی کا شاہ کار

ہمارے یہاں واعظین و مبلغین اس واقعے کو جب بیان کرتے ہیں تو اس میں روحانیت اور معجزے پر زیادہ فوکس کرتے ہیں۔ تاہم آج ہم اس واقعے کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھیں گے اور چاہیں گے کہ معلمین اپنی جماعتوں اور تدریس میں اس پہلو کو بھی نمایاں کریں۔ یہ مقدس سفر نہ صرف معجزات کو نمایاں کرتا ہے بلکہ اس میں اسٹریٹیجک پلاننگ، حکمتَ عملی اور جنگی تدابیر کا بہترین امتزاج ہے۔
تاریخ اسلام ہجرت کے ذکر کے بغیر ادھوری رہتی ہے اور بالخصوص ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ کی مکہ سے مدینہ ہجرت ایک انتہائی اہم اور تاریخ کا رخ موڑ دینے والا واقعہ ہے۔ نبی کریمﷺ کی ہجرتِ مدینہ کا واقعہ اتنا مشہور ہے کہ مسلمانوں کے بچے بچے کو یہ واقعہ یاد ہے۔ اس واقعے میں کئی معجزات بھی ہیں اسی وجہ سے یہ واقعہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ہمارے یہاں واعظین و مبلغین اس واقعے کو جب بیان کرتے ہیں تو اس میں روحانیت اور معجزے پر زیادہ فوکس کرتے ہیں۔ تاہم آج ہم اس واقعے کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھیں گے اور چاہیں گے کہ معلمین اپنی جماعتوں اور تدریس میں اس پہلو کو بھی نمایاں کریں۔ یہ واضح رہے کہ اس مضمون میں ہم معجزات کی نفی یا ان کی اہمیت کو کم نہیں کریں گے بلکہ ہم خود اس کے قائل ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اس واقعے کو ایک دوسرے تناظر اور دوسرے زاویے سے دیکھا اور پرکھا جائے۔

دین ِ اسلام دنیا کے لیے آیا ہے۔ دنیا میں رہنے والے انسانوں کے لیے آیا ہے اور انسانوں تک ہدایت پہنچانے کے لیے اللہ رب العزت نے انہی انسانوں میں سے اپنے چنیدہ اور برگزیدہ بندوں کو انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے منصبِ رسالت سے سرفراز فرمایا۔ انسانوں کی رہنمائی اور فلاح کے لیے اور دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے تمام انبیائے کرام ؑ نے انسانی صلاحیتوں اور دستیاب وسائل کے ذریعے ہی اپنے کام کو سر انجام دیا ہے۔ یہی ہمارا موضوع ہے۔نبی کریم ﷺ نے بھی اپنی حیاتِ مبارکہ میں جو بھی عمل کیا ، اس میں انسانوں کے لیے بالخصوص مسلمانوں کے لیے پیغام ہے کہ وہ اس پر غور و فکر کریں اور اس سے رہنمائی حاصل کریں۔
-1اب ہم موضوع کی طرف آتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کا سفرِ ہجرت میں جہاں کئی معجزات ہیں وہا ں یہ سفر نبی کریمﷺ کی حکمتِ عملی اور بہترین جنگی اسٹریٹجک کا شاہ کار ہے۔ جب اللہ کے نبی ﷺ کو اللہ کی طرف سے یہ اشارہ ملا کہ مکہ چھوڑ کر مدینہ جانا ہے اور اس کے لیے اللہ کے حکم کا انتظار کریں تو ہمارے پیارے نبی ﷺ اس دوران بیٹھے نہیں رہے بلکہ یہیں سے اپنی تیاریوں کا آغاز کردیا۔ سب سے پہلے اپنے لیے ایک بہترین رفیقِ سفر کا انتخاب کیا گیا۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے جب حضرت محمد ﷺ سے ہجرت کی اجازت مانگی تو آپؐ نے فرمایا کہ "صبر کرو، شاید اللہ تمہارے لیے ایک ساتھی کا انتظام کردے۔" (صحیح بخاری) اس طرح اپنے سفر کے لیے ایک باعتماد اور مضبوط ساتھی کا انتخاب کیا گیا جو کہ سفر میں ساتھ نہ چھوڑے اور ہر مشکل میں ساتھ رہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ کہ پرانے رفیق کے ساتھ سفر کرنے سے سفر پرسکون رہتا ہے۔یہ ایک بہترین حکمتِ عملی تھی۔ آج کے دور میں اس کو
Trusted Companion Selection: (بااعتماد ساتھی کا انتخاب)
قیادت میں سب سے پہلی ترجیح یہ ہوتی ہے کہ مشکل سفر یا مشن کے لیے ایسا ساتھی منتخب کیا جائے جو وفادار، مضبوط اور ہر حال میں ساتھ رہے۔
Morale Support: (حوصلہ افزائی اور نفسیاتی سہارا)
پرانے رفیق کے ساتھ ہونے سے سفر پرسکون رہتا ہے اور خوف و خطر کم ہو جاتا ہے۔
Strategic Partnership: (اسٹریٹیجک شراکت داری)
قیادت ایسے ساتھی کا انتخاب کرتی ہے جو نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی اور روحانی طور پر بھی ہم قدم ہو۔

-2حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے یہ اشارہ ملنے کے بعد اپنی دو انٹنیوں کو اس سفر کے لیے پہلے سے تیار کرنا شروع کردیا۔ ان کی خوراک کا خاص خیال رکھا جاتا تھا تاکہ وہ صحت مند رہیں اور ہجرت کے سفر کے لیے تیار رہیں۔ یہاں خصوصی حکمت یہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے اونٹنیوں کو ببول کی پتی کا چارہ کھلانا شروع کیا۔ ببول کی پتی کا چارہ ماہرین کے مطابق لمبے صحرائی سفر کے لیے جانور کو طاقت اور توانائی فراہم کرتا ہے۔ اس چارے میں ریشہ زیادہ ہوتا ہے جس سے یہ دیر تک معدے میں رہتا ہے اور جانور کو بھوک اور پیاس کم لگتی ہے۔یہ چیز آج کی اصطلاح میں
Logistics Preparation: (لوجسٹک تیاری)
سفر یا جنگ سے پہلے رسد اور سواریوں کو مکمل طور پر تیار کرنا۔
Sustainability planning :( پائیداری کی منصوبہ بندی)
ایسی خوراک یا وسائل فراہم کرنا جو طویل سفر میں توانائی اور برداشت قائم رکھیں۔
Operational Readiness: (عملی تیاری)
مشن سے پہلے تمام وسائل کو بہترین حالت میں رکھنا تاکہ دورانِ سفر کوئی رکاوٹ نہ آئے۔

-3دوسری جانب آپؐ نے اپنی حرکات و سکنات اور عمل سے بالکل ایسا ظاہر نہیں ہونے دیا کہ آپؐ عنقریب مکہ چھوڑنے والے ہیں بلکہ آپؐ اس دوران بالکل پرسکون رہے اور معمول کے مطابق اپنی سرگرمیاں سر انجام دیتے رہے تاکہ کفار کو کسی قسم کا شک نہ ہو۔ اس دوران آپؐ حسبِ معمول دعوت و تبلغ کا کام سر انجام دیتے رہے،مسلمانوں کو ہجرت کی ترغیب بھی دیتے رہے تاکہ زیادہ سے زیاد سے مسلمان مدینہ پہنچ جائیں۔ ساتھ ساتھ آپؐ دشمنوں کی نقل و حرکت پر مکمل نظر رکھے ہوئے تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اہل مدینہ کے ساتھ خط و کتابت جاری رکھی تاکہ ان کو اسلام کی تعلیمات بھی دی جاتی رہے اور ان کے ساتھ تعلق کو مستحکم رکھا جاسکے۔یہ حکمتِ عملی ایک بہترین لیڈر کی نشان دہی کرتی ہے جو اپنےا رادوں کو مخالفین سے پوشیدہ رکھتا ہےاور ان پر مکمل نظر رکھتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک لیڈر پہلے اپنے کارکنوں اور ماننے والوں کی جان کی حفاظت کو یقینی بناتا ہے اور مستقبل کی پیش بندی کرتا ہے۔
Operational Security :( OPSEC) – عملی راز داری
اپنے اصل ارادوں اور منصوبوں کو دشمن سے پوشیدہ رکھنا تاکہ وہ کسی قسم کا اندازہ نہ لگا سکے۔
Strategic Deception :( اسٹریٹیجک فریب)
معمول کے مطابق سرگرمیاں جاری رکھنا تاکہ مخالفین کو کوئی غیر معمولی حرکت محسوس نہ ہو
Intelligence Surveillance (خفیہ نگرانی)
دشمن کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھنا تاکہ بروقت ردعمل دیا جا سکے
Morale Management (حوصلہ افزائی و تحفظ)
پہلے اپنے کارکنوں اور ماننے والوں کی حفاظت کو یقینی بنانا اور انہیں مستقبل کے لیے تیار کرنا۔
Diplomatic Outreach :( سفارتی تعلقات)
اہلِ مدینہ کے ساتھ خط و کتابت جاری رکھنا تاکہ تعلقات مستحکم ہوں اور مستقبل کی بنیاد مضبوط ہو۔

-4ہجرت کی اجازت ملنے کے بعد اس وقت کے بہترین گائیڈ " عبداللہ بن اریقط" کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ عبداللہ بن اریقط غیر مسلم تھے لیکن قابلِ بھروسہ تھے۔ اس لیے حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے عبداللہ بن اریقط کا انتخاب کیا۔دیکھیے حضرت محمد ﷺ اللہ کے نبی ہیں اور کوئی کافر آپؐ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا لیکن ہمیں سکھانے کے لیے یہ عمل کیا گیا کہ دستیاب وسائل کو بر وئے کار لانا چاہیے اور یہ فیصلہ ہمیں بتاتا ہےکہ ضرورت کے وقت غیر مسلموں سے بھی مدد لی جاسکتی ہے ۔ یاد رہے کہ غزوہ بدر کے بعد وہ کفار جن کی فدیہ دینے کی استطاعت نہ تھی، ان کا فدیہ یہ مقرر کیا گیا کہ وہ مسلمانوںکے بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھائیں گے۔
Operational Pragmatism :(عملی حقیقت پسندی)
• قیادت کا یہ فیصلہ کہ نظریاتی اختلاف کے باوجود عملی ضرورت کے وقت بہترین ماہر کو منتخب کیا جائے۔
Strategic Risk Management :( خطرے کا حکمتِ عملی سے انتظام)
دشمن کے تعاقب سے بچنے کے لیے ایسا گائیڈ منتخب کرنا جو راستوں کا ماہر ہو اور دشمن کو دھوکہ دینے میں مدد دے۔

-5 پھر ہجرت کے دن کی حکمتِ عملی دیکھیے ۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم، اپنے بستر پر حضرت علی  کو سونے کا حکم دیتے ہیں۔ اس حکمتِ عملی کو آج کی جنگی زبان میں
Diversion (توجہ ہٹانا / انحرافی تدبیر)
دشمن کی توجہ اصل ہدف سے ہٹا کر کسی اور طرف لگا دینا
Psychological Warfare (نفسیاتی جنگ)
دشمن کو ذہنی طور پر مغالطے میں رکھنا تاکہ وہ اصل حقیقت تک نہ پہنچ سکے۔
یہ بھی انسانی تدبیر اور حکمتِ عملی کا شاہ کار ہے۔کفار کو اس جانب مشغول رکھا گیا اور اس دورا ن اللہ کے نبی ﷺ ان کی نظروں کے سامنے سے گزر کر چلے گئے۔ کفار کی نظروں کے سامنے سے گزر جانا اور اللہ کی جانب سے آپ ﷺ کو کفا ر کی نظروں سے اوجھل رکھنا یہ ایک معجزہ ہے ۔
-6 اس کے بعد جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کا آغاز کیا جاتا ہے تو یہاں بھی بہترین تدبیر اختیار کی جاتی ہے۔ مدینہ ، مکہ سے شمال کی جانب ہے لیکن آپ ﷺ مکہ سے مدینہ جانے کے بجائے اس کے بالکل مخالف سمت یعنی جنوب کی جانب 4 سے 5 کلو میٹر دور "المصلی" نامی علاقے میں جبل ثور کی جانب سفر کرتے ہیں۔ چونکہ مسلمان مکہ سے مدینہ جا رہے تھے اس لیے کفار کو جب پتا چلا کہ آپ ﷺ مکہ سے چلے گئے ہیں تو فطری طور پر انہوں نے پہلے مدینہ جانے والے راستوں کی جانب دوڑ لگائی اور ان کا سارا زور ابتدائی طور پر مدینہ کی جانب تھا جب کہ آپ ﷺ اس کے برعکس جنوب کی جانب اور مکہ کے قریب ہی ایک غار میں تشریف فرما تھے۔ اس حکمتِ عملی کو
Diversionary Maneuver (انحرافی چال)
دشمن کی توجہ اصل راستے سے ہٹا کر کسی اور سمت میں لگانا۔
Feint (فریب حملہ / جھوٹی حرکت)
فوجی اصطلاح میں "Feint" اس حرکت کو کہتے ہیں جو دشمن کو اصل منصوبے سے ہٹانے کے لیے کی جائے۔ غارِ ثور میں قیام ایک "Feint" تھا۔
Delay and Exhaustion Tactic (تاخیر اور تھکن کی حکمتِ عملی)
دشمن کو زیادہ وقت تک تلاش میں مصروف رکھ کر مایوس اور تھکا دینا۔ تین دن غارِ ثور میں قیام اسی مقصد کے لیے تھا۔اس طرح آپ ﷺ نے دشمن کو الجھائے رکھا، ان کو مغالطے میں رکھا اور پھر تین دن تک غارِ ثور میں قیام پذیر رہے تاکہ دشمن تھک جائے اور مایوس ہوجائے۔
-7 اس کے بعد دیکھیے کہ غارِ ثور میں بھی محض وقت نہیں گزارا گیا بلکہ اس وقت کو گزارنے اور قابل عمل بنانے کے لیے بھی بہترین تدبیر اختیار کی گئی۔حضرت ابو بکر کے صاحب زادے عبداللہ بن ابوبکر ؓکی یہ ذمے داری تھی کہ وہ دن بھر مکہ میں موجود رہتے۔ دشمنوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے، ان کی باتیں سنتے، ان کے منصوبوں کی خبر رکھتے اور رات کو چپکے سے غارثور میں آکر یہ ساری رپورٹ پیارے نبیﷺ اور اپنے والد کو دیتے۔ اس طرح دشمنوں کی نقل و حرکت اور ان کے منصوبوں تک رسائی کا پورا انتظام کیا گیا تاکہ اس کی روشنی میں اگلا قدم اٹھایا جائے۔اگر دیکھا جائے تو اس کو جدید جنگی حکمتِ عملی میں
Intelligence Gathering (خفیہ معلومات اکٹھی کرنا)
دشمن کی سرگرمیوں، منصوبوں اور ارادوں کو جانچ کر اپنی قیادت کو اطلاع دینا۔
Informant / Spy (خبر رسان / مخبر)
جنگی حکمتِ عملی میں ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو دشمن کے اندر رہ کر اپنی فوج کو اطلاع دے۔
Reconnaissance (جاسوسی/کھوج لگانا)
دشمن کی نقل و حرکت اور پوزیشن معلوم کرنے کے لیے مسلسل مشاہدہ کرنا۔
Early Warning System (ابتدائی خبردار کرنے والا نظام)
دشمن کی سازشوں کی بروقت اطلاع دے کر اپنے ساتھیوں کو محفوظ رکھنا۔
آپ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن ابوبکر کو مذکورہ بالا مشن پر لگائے رکھا تاکہ اس کے مطابق اپنی منصوبہ بندی کی جائے۔

-8 اس کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ کا کردار دیکھیے۔ و ہ صبح اپنی بکریوں کو چراتے ہوئے بظاہر معمول کے مطابق لیکن درحقیقت انتہائی سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق غارِ ثور کے قریب لاتے۔ ان کا مشن یہ تھا کہ بکریوں کے ریوڑ کے آنے جانے سے وہاں موجود اونٹوں کے نشانات اور حضرت عبداللہ بن ابو بکر کے آنے جانے کے نشانات و سراغ کو مٹایا جاسکے۔ ساتھ ساتھ وہ دونوں اصحاب کے لیے کھانا بھی لاتے اور بکریوں کا دودہ بھی دوھ کر دیتے تاکہ کھانے پینے کی کوئی شکایت نہ رہے۔جدید جنگی اصطلاحات میں اس عمل کو
Logistics Support (لوجسٹک سپورٹ / رسد رسانی)
خوراک اور ضروریات مہیا کرنا
Counter-Tracking / Concealment (نشان مٹانا / دشمن کو گمراہ کرنا)
بکریوں کو اس راستے پر لے جانا تاکہ عبداللہؓ کے قدموں کے نشانات مٹ جائیں۔ یہ دشمن کو گمراہ کرنے کی حکمتِ عملی تھی۔
Camouflage & Cover (چھپاؤ اور پردہ ڈالنا)
بکریوں کی موجودگی سے راستہ عام چرواہے کا لگتا تھا، نہ کہ کسی خاص مقصد کے لیے۔ یہ "کیموفلاج" تھا۔

-9 تین دن کے بعد جب سفر دوبارہ شروع کیا گیا تو سیدھے سبھائو مدینہ جانے کے بجائے ایک انتہائی غیر معروف، طویل اور مشکل راستے کا انتخاب کیا گیا۔عام طور پر مکہ سے مدینہ جانے والے قافلے شمالی راستہ (مکہ۔ ۔۔۔۔۔ عسفان۔۔۔۔۔۔۔ قدید ۔۔۔۔۔۔۔مدینہ) لیتے تھے۔لیکن نبی ﷺ نے اس راستے کے بجائے جنوبی اور ساحلی راستہ اختیار کیا ۔ جنوبی ساحلی راستہ (غارِ ثور۔۔۔۔۔۔۔ ساحلِ بحیرہ احمر ۔۔۔۔۔۔۔مدینہ)۔یہ راستہ زیادہ لمبا تھا مگر محفوظ تھا، کیونکہ قریش کو توقع ہی نہ تھی کہ آپ ﷺ اس طرف جائیں گے۔
یہ ایک بہترین حکمتِ عملی تھی جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔ اس حکمتِ عملی کو جدید فوجی اور جنگی اصطلاح میں
Diversionary Route (انحرافی راستہ):
اصل منزل تک پہنچنے کے لیے غیر معمولی یا کم استعمال شدہ راستہ اختیار کرنا تاکہ دشمن کو دھوکہ دیا جا سکے۔
Evasion Tactic (بچاؤ کی حکمتِ عملی):
دشمن کے تعاقب سے بچنے کے لیے غیر متوقع راستہ یا طریقہ استعمال کرنا۔
Unconventional Maneuver (غیر روایتی چال):
عام راستے کے بجائے غیر روایتی راستہ اختیار کرنا، جو دشمن کے اندازے سے مختلف ہو۔
-10 اور پھر وہ لمحہ دیکھیے۔ پہلا جب دشمن غار کے سر پر پہنچ گیا۔ عین ممکن ہے کہ وہ ذراسا جھانک لے تو اس کی نظر پڑ جائے لیکن اللہ کے نبی انتہائی مطمئن ہیں۔دوسرا لمحہ جب سراقہ بن جحشم جو بھی مسلمان نہ ہوئے تھے، وہ تلوار لیے سر پر پہنچ گئے ہیں۔ گھوڑا ٹھوکر کھا کر گرا تو پیدل چلے لیکن جب پیر زمین میں دھنس گئے تو امان طلب کی اور نبی مہربان فرماتے ہیں میں تمھارے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن دیکھ رہا ہوں۔یہ سکون، اطمینان اور پیش گوئی درحقیقت اللہ پر کامل یقین اور بابصیرت قیادت کا بہترین نمونہ ہے۔
Strategic Calm (حکمتِ عملی والا سکون):
کمانڈر کا پرسکون رہنا فوج یا ساتھیوں کو حوصلہ دیتا ہے۔
Psychological Resilience (نفسیاتی استقامت):
شدید خطرے کے وقت بھی ذہنی سکون اور اعتماد قائم رکھنا۔ نبی ﷺ کا غار میں مطمئن رہنا اور کہنا "لا تحزن إن الله معنا" اس کی بہترین مثال ہے۔
Moral Dominance (اخلاقی برتری):
دشمن کے سامنے خوف کے بجائے اخلاقی قوت دکھانا۔ سراقہ کو کنگنِ کسریٰ کی بشارت دینا دشمن کو نفسیاتی طور پر مغلوب کر دیتا ہے۔
Faith-Based Confidence (ایمانی اعتماد):
جدید عسکری اصطلاحات میں اسے "High Morale" کہا جاتا ہے، مگر اسلامی تناظر میں یہ ایمان پر مبنی اعتماد تھا، جس نے خطرے کو موقع میں بدل دیا۔
11- اس طرح یہ سفرِ ہجرت مختلف خطرات کا سامنا کرتے ہوئے اختتام پذیر ہوا۔ اس سفر میں نبی کریم ﷺ کا دشمنوں کی نظروں کے سامنے سے گھر سے نکل جانا، غارِ ثور پر مکڑی کا جالا تان دینا اور کبوتری کا کھونسلا بنا کر انڈے دینا، سراقہ ؓکے گھوڑے کا ٹھوکر کھانا اور بعد میں ان کے اپنے پیروں کا زمین میں دھنس جانا یہ سب معجزات ہیں ۔ ان سے کوئی انکار نہیں تاہم معجزات اور کرامات اسی صورت میں ظہور پذیر ہوتے ہیں جب انسان اپنی تدبیر اور دستیاب وسائل کو استعمال کرنے کے بعد عاجزی کے ساتھ رب کے حضور دعا گو ہو ۔ معروف حدیث ہے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: "یا رسول اللہ! میں اپنی اونٹنی کو چھوڑ دوں اور اللہ پر توکل کروں، یا پہلے اسے باندھ دوں پھر اللہ پر توکل کروں؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "اسے باندھ دو، پھر اللہ پر توکل کرو۔" (ترمذی)۔ یہ حدیث ہمیں یہ تعلیم دیتی ہے کہ توکل کا مطلب اسباب ، تدبیر اور وسائل کو ترک کرنا نہیں ہے بلکہ پہلے اسباب اختیار کیے جائیں، تدبیر اختیار کی جائے ، دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے ، پھر اللہ پر بھروسہ کیا جائے۔
آخری بات : مکرر عرض ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہ ساری حکمتِ عملی اور تدابیر اپنی ذاتِ بابرکت کے لیے اختیار نہیں کیں کیوں کہ کہ آپ ﷺ کو تو اللہ رب العزت نے اپنی حفاظت میں لیا ہوا تھا، دراصل یہ ساری حکمتِ عملی اور تدابیر اپنی امت کو سکھانے کے لیے اختیار کی گئیں تاکہ ہم اس سے سبق سیکھ سکیں۔
Saleem Ullah Shaikh
About the Author: Saleem Ullah Shaikh Read More Articles by Saleem Ullah Shaikh: 538 Articles with 1661974 views سادہ انسان ، سادہ سوچ، سادہ مشن
رب کی دھرتی پر رب کا نظام
.. View More