چین کی ہیلتھی اسکول پالیسی
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین کی ہیلتھی اسکول پالیسی تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
چین میں تعلیمی نظام کو محض امتحانی کارکردگی تک محدود رکھنے کے بجائے طلبہ کی جسمانی اور ذہنی صحت کو مرکزی حیثیت دینے کی سمت ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ چینی وزارتِ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ نئی رہنما ہدایات کے تحت ’’ہیلتھی اسکول‘‘ کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کا آغاز کیا گیا ہے، جس کا مقصد بچوں کو زیادہ وقت بیرونی سرگرمیوں، فنونِ لطیفہ اور عملی مہارتوں کی طرف راغب کرنا ہے۔
وزارتِ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ یہ رہنما دستاویز ’’صحت کو اولیت‘‘ دینے والے تعلیمی فلسفے کے نفاذ کے لیے کلیدی پالیسی قرار دی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق اگرچہ حالیہ برسوں میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم طلبہ کی جسمانی فٹنس، نظر کی کمزوری، وزن کے مسائل، ذہنی صحت، خوراک کے معیار اور غذائیت جیسے شعبوں میں چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔
اس رہنما اصول کا بنیادی ہدف تعلیم کا محور محض تعلیمی کارکردگی سے ہٹا کر طلبہ کی ہمہ جہت جسمانی اور نفسیاتی نشوونما کی جانب منتقل کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے آٹھ اہم اقدامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ابتدائی اور ثانوی اسکولوں میں روزانہ کم از کم دو گھنٹے مربوط جسمانی سرگرمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ 15 منٹ کے وقفے متعارف کرائے جائیں گے اور جامعات میں فٹنس بہتری کے پروگراموں کو فروغ دیا جائے گا۔ جمالیاتی تعلیم کو مضبوط بنانے کے لیے آرٹ کورسز کی مکمل فراہمی اور باقاعدہ نمائشوں اور ثقافتی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے گا تاکہ تمام طلبہ اس میں شرکت کر سکیں۔ اسی طرح محنت و ہنر کی تعلیم کے ذریعے طلبہ میں مثبت کام کی عادات کو فروغ دیا جائے گا اور ان کی عملی مہارتوں کو اجاگر کیا جائے گا۔
ذہنی صحت کے شعبے میں پیشہ ورانہ ٹیموں کو مضبوط بنانے اور قومی سطح پر نگرانی اور ابتدائی انتباہی نظام کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔ نظر کی کمزوری، خصوصاً کنڈرگارٹن اور پرائمری سطح پر، روکنے کے لیے جامع اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ موٹاپے کی روک تھام کے لیے اسکول، خاندان اور طبی اداروں کے درمیان تعاون کو بڑھایا جائے گا۔
کیمپس میں خوراک کے معیار اور حفاظت کو مزید سخت بنایا جائے گا، جس میں کھانے کی نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنا اور مخصوص غذائی و حفاظتی عملہ تعینات کرنا شامل ہے۔ مزید برآں، زندگی کی حفاظت سے متعلق تعلیم کو نصاب کا حصہ بنایا جائے گا، ابتدائی طبی امداد کی تربیت کو عام کیا جائے گا اور اسکولوں میں خودکار بیرونی ڈیفبریلیٹر (اے ای ڈی) اور دیگر ہنگامی آلات کی تنصیب کو لازمی قرار دیا جائے گا۔
اس پالیسی کے تحت بیجنگ، حہ بی، شنگھائی، جیانگ سو، شان دونگ، ہائی نان اور گوانگ دونگ سمیت سات صوبائی سطح کے علاقوں میں 540 سے زائد اسکولوں میں پائلٹ پروگرام شروع کیے جا چکے ہیں، جہاں قابلِ تقلید ماڈلز تیار کیے جائیں گے۔
دستاویز میں تین مرحلوں پر مشتمل روڈ میپ بھی دیا گیا ہے۔ 2027 تک پائلٹ منصوبے مکمل کیے جائیں گے اور بہتر معیارات اور جائزہ نظام قائم ہوں گے۔ 2030 تک ’’صحت کو اولیت‘‘ کا تصور وسیع پیمانے پر اختیار کیا جا چکا ہوگا اور اسکولوں میں صحت سے متعلق سہولیات نمایاں طور پر بہتر ہو جائیں گی۔ 2035 تک ملک بھر میں اعلیٰ معیار کے ’’ہیلتھی اسکول‘‘ کے قیام کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
’’ہیلتھی اسکول‘‘ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ چین تعلیمی نظام کو جسمانی، ذہنی اور اخلاقی تربیت کے جامع فریم ورک میں ڈھالنے کا خواہاں ہے۔ کھیل، فنون، محنت اور ذہنی صحت پر یکساں توجہ کے ذریعے نئی نسل کو متوازن اور صحت مند انداز میں پروان چڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر یہ پالیسی اپنے مقررہ مراحل کے مطابق آگے بڑھتی رہی تو آئندہ دہائی میں تعلیمی ماحول زیادہ متوازن، محفوظ اور صحت مند صورت اختیار کر سکتا ہے۔ |
|