چین کی مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور مربوط جدت کی حکمتِ عملی
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین کی مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور مربوط جدت کی حکمتِ عملی تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
چین میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے مستقبل پر ہونے والی بحث محض کسی ایک حیران کن ایجاد کے گرد نہیں گھومتی بلکہ اسے ’’مستقبل کی صنعتوں‘‘ کے وسیع تر تصور کے تحت دیکھا جاتا ہے۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق قومی ترقی کا انحصار ان فرنٹئیر ٹیکنالوجیز پر ہے جو ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں، مگر طویل المدت اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین کی پالیسی سازی میں مستقبل کی صنعتوں کو معاشی ڈھانچے کی ازسرِ نو تشکیل اور قومی مسابقت کے استحکام کا ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
چین کی وزارتِ صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت سات سرکاری اداروں کی جانب سے جاری مشترکہ پالیسی دستاویز میں مستقبل کی صنعتوں کو ان شعبوں کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو جدید ترین اختراع سے تقویت یافتہ ہوں اور معیشت کی ساخت کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ان صنعتوں کو چھ بڑے موضوعات میں تقسیم کیا گیا ہے ، جن میں مستقبل کی مینوفیکچرنگ، مستقبل کی اطلاعاتی ٹیکنالوجی، مستقبل کے مواد، مستقبل کی توانائی، مستقبل کی خلائی صنعت اور مستقبل کی صحت ، شامل ہیں۔
ان زمروں کے تحت وہ ٹیکنالوجیز شامل ہیں جو عالمی اختراع کے محاذ پر نمایاں ہو رہی ہیں، جن میں جنریٹو مصنوعی ذہانت، انسان نما روبوٹکس، کوانٹم معلوماتی ٹیکنالوجی، برین کمپیوٹر انٹرفیس، بایو مینوفیکچرنگ، میٹا ورس، اگلی نسل کے ڈسپلے سسٹمز، جدید مواصلاتی نیٹ ورکس اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نئے طریقے شامل ہیں۔
پندرہویں پانچ سالہ منصوبے میں مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے جن چھ ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے اُن میں کوانٹم ٹیکنالوجی، بایو مینوفیکچرنگ، ہائیڈروجن توانائی اور نیوکلیئر فیوژن، برین کمپیوٹر انٹرفیس ، چھٹی نسل کی موبائل مواصلات (6G) اور ’’مجسم ذہانت‘‘ ، شامل ہیں۔ مجسم ذہانت سے مراد وہ مصنوعی ذہانت ہے جو جسمانی وجود رکھنے والے نظاموں میں ضم ہو، جیسے ایسے روبوٹس جو اپنے ماحول کو محسوس کر سکیں، فیصلے کر سکیں اور حقیقی دنیا میں تعامل انجام دے سکیں۔ یہ خالص ڈیجیٹل مصنوعی ذہانت سے مختلف ہے، کیونکہ اس میں الگورتھمز کے ساتھ سینسرز، ایکچیویٹرز اور موٹرز جیسے ہارڈویئر اجزا کو یکجا کیا جاتا ہے، تاکہ روبوٹ سیکھ سکیں اور عملی کام انجام دے سکیں۔
چین کی حکمتِ عملی کو سمجھنے کے لیے پالیسی فریم ورک کا جائزہ ضروری ہے۔ یہ منصوبہ محض تکنیکی امنگ نہیں بلکہ معاشی جدید کاری کا تقاضا ہے۔ روایتی صنعتوں کو پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز درکار ہیں، جبکہ ابھرتی ہوئی صنعتوں کو وسعت دینے کے لیے جدید پلیٹ فارمز کی ضرورت ہے۔ ان دونوں سطحوں کے پس منظر میں ایک مشترکہ بنیاد موجود ہے: یہ توقع کہ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، توانائی اور بایوٹیکنالوجی میں جدت نئے مصنوعات اور خدمات کو جنم دے گی، جو روزمرہ زندگی کو بہتر بنائیں گی۔
سائنسی کامیابیوں کو اس حکمتِ عملی کی اساس قرار دیا گیا ہے۔ پالیسی میں ترجیحی شعبوں میں بنیادی ٹیکنالوجیز کو آگے بڑھانے، تجارتی اطلاق کو تیز کرنے اور اداروں کو لیبارٹری تحقیق اور صنعتی استعمال کے درمیان مؤثر پل بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
اہم امر یہ ہے کہ اس حکمتِ عملی میں کسی ایک ٹیکنالوجی کو مستقبل کا واحد تعین کنندہ نہیں سمجھا گیا۔ خواہ وہ انسان نما روبوٹس ہوں یا جنریٹو مصنوعی ذہانت، پالیسی کا مرکزی تصور مختلف فرنٹیئر شعبوں کی مربوط اور ہم آہنگ ترقی ہے۔ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، کوانٹم ٹیکنالوجی، جدید توانائی نظام، بایوٹیکنالوجی اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو الگ الگ سرگرمیوں کے طور پر نہیں بلکہ ایک وسیع اختراعی ماحولیاتی نظام کے باہم مربوط اجزا کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اسی تناظر میں آئندہ نسل کی مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس ٹیکنالوجیز کسی ایک غیر معمولی دریافت کا نتیجہ نہیں ہوں گی، بلکہ مختلف سائنسی میدانوں میں بتدریج پیش رفت اور ان کے انضمام سے سامنے آئیں گی۔ یہ تصور قیاس آرائی نہیں بلکہ حکمرانی اور منصوبہ بندی کا عملی نمونہ ہے، جس کا مقصد طویل المدت استعداد سازی اور صنعتی بنیادوں کو مضبوط کرنا ہے۔
چین میں مستقبل کی صنعتوں کا تصور اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید سائنسی تحقیق کو مربوط پالیسی اور صنعتی حکمتِ عملی کے ذریعے معاشی طاقت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ مختلف فرنٹئیر شعبوں کی ہم آہنگ ترقی سے ایک ایسا اختراعی نظام تشکیل دیا جا رہا ہے جو نہ صرف عالمی مسابقت کو تقویت دے بلکہ عوام کی روزمرہ زندگی میں بھی عملی فوائد فراہم کرے۔ یوں مستقبل کی ٹیکنالوجی محض تجربہ گاہوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ قومی ترقی اور سماجی بہبود کا مؤثر ذریعہ بن جاتی ہے۔ |
|