میں نے پوچھا۔۔۔۔امید کیا ہے؟؟ وہ تخیل میرا مجھ سے کہنے لگا : میرے دل کے آنگن میں جو امنگ سی اٹھی ہے شائد کہ یہ ہی امید ہے۔ میرے لفظ فقط خاموش ہیں۔مگر ان میں میری صدائیں بسی ہیں ۔یہ ہیں میری آرزو وں کی سرگوشیاں۔آہ میرے دل کی آوارگی میری بے بسی اور میری عاشقی۔ میں نے پوچھا۔۔۔ کیوں خاموش ہے دل کی لگی۔پھر لبوں پہ اسکے اک تسبیح جاری ہوئ۔ ہاۓ میری سادگی یہ میری سادگی امید کیا ہے؟ اک صبح کی کرن ۔اک مچلتی لہر۔اک خاموش صدا۔یہ ہی آغاز ہے۔یہ ہی آواز ہے۔اک بے باک کلی۔ اک چھپا ہوا راز ہے۔اک سنہرا خواب ہے۔اک انوکھا سوال ہے۔اک مکمل جواب ہے۔ کیا تم نے ۔۔۔اڑتی ہوائیں۔مہکتی فضائیں ۔دل کی دعائیں۔خاموش صدائیں۔پیاسی وفائیں دیکھی ہیں کیا تم نے۔۔سا نسںو ں کا چلنا۔آہوں کا نکلنا۔آنسوؤں کا چھلکنا دل کا دھڑکنا۔یادوں کا آنا۔خوابوں کا ملنا ۔دیکھا ہے؟ کیا تم نے۔چاند کا حا لہ دیکھا ہے کہ کیسے یہ امید لے کر روز بڑھتا رہتا ہے کہ اک دن اسے مکمل ہو نا ہے۔ کیا تم نے طلوع ہوتا آفتاب دیکھا ہے ؟کیسے وہ آہستہ آہستہ اپنی روشنی پورے عالم میں پھیلا دیتا ہے۔ کیا تم نے پرندوں کے آشیانے دیکھے ہیں۔وہ خاموشی سے ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ یہ نازک گھونسلے بھی امید کے مضبوط ستونوں پر قائم ہوتے ہیں ۔ کیا تمہیں سانس لینے کی حقیقت معلوم ہے۔کہ یہ بھی تو مسلسل زندگی کی امید کے سہارے چل رہی ہے کیا تم نے رات کو صبح میں بدلتے دیکھاہے؟رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو آخر امید کی پہلی کرن نکل ہی آتی ہے کیا تم نے کونپل کو پھوٹتے دیکھا ہے؟ وہ بھی اسی امید پر روز پروان چڑھتی رہتی ہے کہ اک دن مکمل وجود اختیار کرے گی۔ کیا تم نے کسی شاخ پر جھولتے نازک پتوں کو دیکھا ہیے۔کسطرح وہ اپنی پوری زندگی اک امید کی روشنی کے سپرد کئیے ہوۓ ہوتے ہیں۔ کیا تم نے خاموش ہونٹوں کو اس امید پر ہلتے دیکھا ہے کہ شائد ان ہو نٹوں سے نکلے الفاظ کی تاثیر کسی مجبور کی مجبوری کو خوشحالی میں بدل دے کیا تم نے دل کی دھڑکن سنی ہے کہ کسطرح خاموشی سے اور مسلسل دھیرے دھیرے چلتی رہتی ہے۔ تا کہ انسان کی زندگی کا چراغ روشن رہے کیا تم نے آسمان کو بغیر ستونوں کے اس امید پر استوار ہوۓ دیکھا ہے۔کہ اسکے ساۓ تلے پورا عالم و کائینات کا نظام ایک مقررہ وقت تک چلتا رہے کیا تم نے۔۔۔ابر کو اڑتے دیکھا ہے؟کہ کسطرح اپنی آغوش میں پانی کی بوندیں سمیٹے ایک سر زمین سے دوسری سر زمین تک سفر کرتا ہے تاکہ یہ دنیا اپنے رب سے رزق کی کمی اور رحمت کا کوئ شکوہ نہ کرے کیا تم نے ۔۔۔بے نور سیاہ رات کو دیکھا ہے کہ کیسے صبح کی امید پر آگے بڑھتی رہتی ہے اور یہاں تک کہ صبح کی پہلی ہی کرن رات کی تاریکی کے خاتمے کا پیغام لے آتی ہے کیا تم نے۔۔۔اشجار کو لہراتے دیکھا ہےوہ بھی اس امید پر پروان چڑھتے ہیں کہ اک دن اپنے مکمل وجود کے ساتھ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر زمین کی تپتی پیٹھ کو اپنی ٹھنڈی چھاؤں سے سکون بخشیں گے کیا تم نے کسی پنچھی کو اس امید پر رزق کی تلاش میں نکلتے دیکھا ہے کہ وہ اپنے بے سہارا بھوکے بچوں کی بھوک اور پیاس کو مٹا سکے کیا تم نے کسی بے بس کی آنکھوں میں اس امید پر آنسو دیکھے ہیں کہ شائد انکی نمی سنگ دلوں کے دل کو موم کر کے ان کی محرمیوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دے
کیا تم نے گناہوں سے لبریز ہاتھ دعا کی لئیے اس امید پر اٹھتے دیکھے ہیں کہ اللہ رحمان و رحیم ہے ۔ وہ اپنے بندوں کو معاف کرنے والا اور دعاؤں کو قبول کرنے والا ہے۔
مختصر یہ کہ ساری دنیا اس امید پر قائم ہے۔ہر سانس ، کر دھڑکن،پر طلوع آفتاب ، ہر برسنے والا بادل پر دعا کے لئیے اٹھنے والا ہاتھ اسی امید کی گواہی دیتا ہے۔ کہ اک دن یہ عارضی دنیا فنا ہو کر دائمی آخرت وجود میں آنی ہے۔جہاں کسی کے ساتھ ذرا برابر بھی زیا تی نہیں ہو گی حقیقت یہ ہی ہے کہ یہ سارا عام امید کے سہارے چل رہا ہے۔اور یہ ہی امید انسان کو جینے، سنبھلنے، آگے بڑھنے اور اپنے رب سے وابستہ رہنے کا حوالہ عطا کرتی ہے۔ |