پھر میں گھنٹوں آتشِ تنہائی میں تڑپتا رہا، وجود کی بے معنویت سے لڑتا رہا۔ دل کی دہلیز پر دستک دینے گیا تو دردِ دل نے میرا ہاتھ تھام لیا۔ وہ پکارنے لگا اور مجھ سے کہنے لگا:
"ہمتِ مرداں، مددِ خدا۔"
کیا تم نے چٹانوں کو غور سے دیکھا ہے؟
کیا تم نے کسی وادی میں جگنو دیکھے ہیں؟
کیا تم نے شاہینوں کو فلک پر پرواز کرتے دیکھا ہے؟
کیا تم نے بادلوں کو گرجتے دیکھا ہے؟
کیا تم نے بجلی کو کڑکتے دیکھا ہے؟
کیا تم نے طوفانوں کو اٹھتے دیکھا ہے؟
کیا تم نے آندھیوں کو چلتے دیکھا ہے؟
کیا تم نے آنکھوں کی سرخی دیکھی ہے؟
کیا تم نے دل کی دھرتی کو محسوس کیا ہے؟
کیا تم نے اٹھتی جوانی دیکھی ہے؟
کیا تم نے بچوں کی ماں کو دیکھا ہے؟
کیا تم نے بے غرض محبت دیکھی ہے؟
کیا تم نے سینوں میں سلگتی آگ دیکھی ہے؟
کیا تم نے کوہِ طور پر جلوۂ ربانی کا ذکر پڑھا ہے؟
کیا تم نے عمر بن خطاب کا ذکر سنا ہے؟
کیا تم نے علی بن ابی طالب، شیرِ خدا، کی شجاعت پڑھی ہے؟
کیا تم نے خولہ بنت ثعلب کی استقامت دیکھی ہے؟
کیا تم نے حضرت ہاجرہؑ کو صفا و مروہ کے درمیان دوڑتے سوچا ہے؟
کیا تم نے میری یادوں کو کبھی محسوس کیا ہے؟
کیا تم نے میرے دل کے درد کو پڑھا ہے؟
کیا تم نے سانسوں کا تلاطم سنا ہے؟
کیا تم نے اندھوں کی آنکھوں میں امید دیکھی ہے؟
کیا تم نے بہتے دریا کو دیکھا ہے؟
کیا تم نے کہسار اور ٹیلے دیکھے ہیں؟
کیا تم نے چٹانوں پر بیٹھے شاہین دیکھے ہیں؟
کیا تم نے کسی باپ کا حوصلہ دیکھا ہے؟
اگر دیکھا ہے، تو ذرا سوچو...
حضرت اسماعیلؑ زمین پر لیٹے ہیں، حضرت ابراہیمؑ کے ہاتھ میں چھری ہے، اور حضرت ہاجرہؑ اللہ کی رضا پر مطمئن ہیں۔ آسمان سے حکمِ خداوندی نازل ہوتا ہے، قربانی قبول ہو جاتی ہے، اور اللہ اکبر کی صدا گونج اٹھتی ہے۔
کیا تم نے اس سے بڑھ کر ہمت، یقین اور اللہ پر بھروسا دیکھا ہے؟
کیا تم نے کسی شیر کو دھاڑتے دیکھا ہے؟
کیا تم نے ہرن کی چال دیکھی ہے؟
کیا تم نے کسی جنگل کا شباب دیکھا ہے؟
کیا تم نے کسی باز کی نگاہ دیکھی ہے؟
کیا تم نے ویرانیوں میں سائباں تلاش کیا ہے؟
یہ سب ہمت اور حوصلے کی مثالیں ہیں۔ جب انسان کی ہمت جوان ہو تو زندگی کا رنگ اور ڈھنگ ہی بدل جاتا ہے، اور جب ہمت ٹوٹ جائے تو انسان جیتے جی شکست کھا لیتا ہے۔ اس لیے ہمت کا دامن کبھی نہ چھوڑو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اسی کی راہیں آسان کرتا ہے جو ثابت قدم رہتا ہے۔ |