انیلا چمکنی: ایک بہادر صحافی، جو خبر سے بڑھ کر رشتہ نبھانا جانتی تھی


کچھ لوگ خبروں میں نہیں آتے، وہ خود خبر بن جاتے ہیں۔انیلا چمکنی بھی ایسی ہی ایک کہانی تھی۔غالباً 1997 کا زمانہ تھا۔ میں پشاور میں روزنامہ آج میں آئی ٹی اور ایجوکیشن رپورٹر تھا۔ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں ایک خاتون ٹی جی، نادیہ بیگم، سے اکثر رابطہ رہتا تھا۔ ایک دن انہوں نے کہا، “میری بہن بھی صحافت میں آ رہی ہے… بہت باہمت ہے۔”نام پوچھا تو جواب ملا: انیلا چمکنی۔اس وقت ایک خاتون کا فیلڈ رپورٹنگ میں آنا غیر معمولی بات تھی۔ نام سنتا رہا، اخبارات میں خبریں دیکھتا رہا، مگر ملاقات نہ ہو سکی۔

پھر وقت نے چکر کاٹا۔ادارے بدلے، شہروں کے چکر لگے، مگر صحافت کا رشتہ قائم رہا۔ 2008 میں دنیا ٹی وی پشاور کے آغاز پر پہلی بار انیلا سے ملاقات ہوئی۔ لوگ کہتے تھے وہ “روڈ بھائی” ہے۔ مجھے یہ اصطلاح کبھی سمجھ نہیں آئی، مگر جب ساتھ کام کیا تو سمجھ آیا:وہ بہن بھی تھی، بھائی بھی، اور ایک مضبوط ساتھی بھی۔ دفتر کے جھگڑے ہوں یا فیلڈ کے خطرات، وہ ہمیشہ ڈٹ کر ساتھ کھڑی ہوتی۔ کبھی یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ خاتون ہے۔ اس کے لیے صحافت جنس نہیں، ذمہ داری تھی۔

طالبان کے دور میں سوات کا نام ہی خوف بن چکا تھا۔ مرد صحافی جانے سے ہچکچاتے تھے۔اسی دور میں انیلا برقع پہن کر گئی… اور مسلم خان کا انٹرویو کر کے واپس آئی۔ دو دن غائب رہی۔جب رپورٹ دیکھی تو پہلا خیال یہی آیا: “یہ لڑکی پاگل ہے… اور یہی پاگل پن صحافت کو زندہ رکھتا ہے۔” اس نے ثابت کیا کہ ہمت صنف کی محتاج نہیں ہوتی۔

2016 میں جب میں ایشین کالج آف جرنلزم چنائی، مدراس میں جرنلزم اسکالرشپ پر گیا، تو چھ ماہ تک میرے گھر جا کر بچوں، والدہ اور بیوی کا حال پوچھنے والی اگر کوئی تھی تو وہ انیلا تھی۔یہ صرف تعلق نہیں تھا، یہ ذمہ داری کا احساس تھا۔وہ رشتوں کو خبر کی طرح نہیں، امانت کی طرح نبھاتی تھی۔شادی کے بعد ان کے شوہر بیوروکریسی میں اعلیٰ عہدے پر رہے۔ تبادلے، مسائل، دباو¿… سب کچھ تھا۔اولاد نہ ہونا بھی ایک آزمائش تھی۔مگر انیلا نے کبھی شکوہ نہیں کیا۔وہ سیاسی طور پر متحرک رہی، خواتین صحافیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی، خیبر یونین آف جرنلسٹس کی منتخب سیکرٹری بنی۔ پشاور جیسے شہر میں یہ معمولی بات نہیں۔وہ مردوں کے برابر نہیں، کئی بار ان سے آگے کھڑی نظر آئی۔

تقریباً ایک ماہ پہلے اس کا فون آیا۔کہنے لگی:“تم فارغ ہو… ایک اخبار اور ٹی وی چینل سے بات کی ہے۔ بیورو چیف بن جاو¿ گے، اچھی تنخواہ ملے گی۔” میں نے ٹال دیا۔ شاید ہمت نہیں رہی تھی، شاید وقت بدل چکا تھا۔پھر رابطہ نہ ہوا۔

چند دن پہلے خبر آئی: برین ہیمرج۔یقین نہیں آیا۔ وہ تو مضبوط تھی، بےفکر تھی، دوسروں کا سہارا تھی۔ آج صبح خبر ملی: انیلا شاہین نہیں رہی۔چمکنی میں جنازے میں لوگوں کا ہجوم دیکھ کر ایک سوال ذہن میں آیا:انہیں کس نے بلایا؟ جواب سادہ ہے یہ وہ لوگ تھے جن کی زندگی میں وہ خاموشی سے شامل رہی۔

رمضان کی جمعہ رات… ایک باہمت صحافی اپنے رب کے حضور پیش ہو گئی۔وہ کیا چھوڑ گئی؟ انیلا چمکنی صرف ایک نام نہیں تھی۔وہ ایک پیغام تھی: صحافت ہمت مانگتی ہے رشتے نبھانا بھی پیشہ ورانہ دیانت کا حصہ ہے عورت اگر ٹھان لے تو کسی سے کم نہیںوہ چلی گئی، مگر ایک راستہ چھوڑ گئی ہے…ان خواتین کے لیے جو ڈرتی ہیں، اور ان مردوں کے لیے جو سمجھتے ہیں کہ ہمت صرف ان کی میراث ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر دے۔

#AnilaChamkani #WomenInJournalism #KPJournalists #PressFreedom #BraveWomen #Peshawar #JournalismLives #RespectJournalists

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1000 Articles with 776231 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More