بانس سے پلاسٹک کا متبادل
(Shahid Afraz Khan, Beijing)
|
بانس سے پلاسٹک کا متبادل تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
ماحولیاتی آلودگی اور پلاسٹک کے بڑھتے استعمال نے دنیا بھر میں متبادل قدرتی وسائل کی تلاش کو ناگزیر بنا دیا ہے۔ چین، جو بانس کے وسیع ترین ذخائر رکھنے والے ممالک میں سرفہرست ہے، اس قدرتی وسیلے کو پلاسٹک کے مؤثر متبادل کے طور پر فروغ دے رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں بانس کی صنعت نہ صرف ماحولیاتی تحفظ بلکہ دیہی معیشت کی مضبوطی کا بھی ایک اہم ذریعہ بن کر ابھری ہے۔
جنوب مغربی چین کے صوبہ گوئی ژو کے شہر چی شوئی میں بانس کی وسیع صنعت فعال ہے، جہاں کارخانوں میں بانس کے ڈنڈوں کو ماحول دوست دسترخوانی برتنوں اور طبی استعمال کے لیے سوابز میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ مقامی صنعت کی خصوصیت یہ ہے کہ تیار کردہ مصنوعات کیمیائی اجزا سے پاک اور مکمل طور پر تحلیل پذیر ہیں، جس کے باعث انہیں ملکی و عالمی منڈیوں میں پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ چی شوئی میں 200 سے زائد بانس سے متعلق ادارے سرگرم عمل ہیں اور مختلف اقسام کی مصنوعات تیار کر رہے ہیں۔ 2025 میں مقامی بانس صنعت کی مجموعی پیداوار 10 ارب یوان سے تجاوز کر گئی، جس سے تقریباً ایک لاکھ 65 ہزار بانس کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ ہوا۔
چین نے 2022 میں بانس کو پلاسٹک کے متبادل کے طور پر فروغ دینے کے لیے ایک قومی اقدام شروع کیا، جس کے بعد اس کے استعمال کو تیز کرنے کے لیے تین سالہ عملی منصوبہ بھی متعارف کرایا گیا۔ بانس کی اہم خصوصیات میں اس کی تیز رفتار نشوونما، پائیداری، حیاتیاتی تحلیل پذیری اور مؤثر کاربن جذب کرنے کی صلاحیت شامل ہیں، جو اسے ماحولیاتی نقطۂ نظر سے ایک موزوں انتخاب بناتی ہیں۔
روزمرہ اشیا سے لے کر صنعتی مواد تک، چین میں بانس پر مبنی ہزاروں اقسام کی مصنوعات تیار کی جا رہی ہیں۔ بین الاقوامی طلب میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، اور بانس سے تیار کردہ دسترخوانی برتن اور دیگر مصنوعات عالمی منڈیوں کو برآمد کی جا رہی ہیں۔
جدت اس سبز تبدیلی کا مرکزی عنصر ہے۔ متعدد بڑی کمپنیوں نے اپنی پیکجنگ میں بانس فائبر مواد کا استعمال شروع کیا ہے، جس سے نہ صرف ماحول دوست متبادل فراہم ہوا بلکہ ترسیل کے دوران کاربن اخراج میں بھی کمی آئی۔ دستیاب معلومات کے مطابق 2016 سے اب تک بانس فائبر پیکجنگ کے استعمال سے ہزاروں ٹن پیکجنگ مواد کی بچت ممکن ہوئی ہے۔
تحقیقی منصوبوں کے ذریعے بانس کے استعمال کو ہائی ٹیک شعبوں تک بھی وسعت دی جا رہی ہے، جن میں گاڑیوں کے اندرونی حصے شامل ہیں۔ مشرقی چین کے صوبہ جیانگ شی میں ایک ادارے نے بانس سے تیار کردہ کی بورڈز اور اسپیکرز متعارف کرائے ہیں، جن کی لاکھوں یونٹس فروخت ہو چکی ہیں۔
مجموعی طور پر چین میں تقریباً 80 لاکھ ہیکٹر رقبے پر بانس کے جنگلات موجود ہیں اور سالانہ پیداوار تقریباً 15 کروڑ ٹن تک پہنچتی ہے۔ ملک بھر میں 10 ہزار سے زائد بانس پروسیسنگ ادارے فعال ہیں اور پوری صنعتی زنجیر میں 2 کروڑ 90 لاکھ سے زیادہ افراد کو روزگار حاصل ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں بانس صنعت کی مجموعی پیداوار 520 ارب یوان سے تجاوز کر گئی۔
ماہرین کے نزدیک بانس نہ صرف پلاسٹک آلودگی کے مسئلے کا حل پیش کرتا ہے بلکہ دیہی احیاء کے لیے بھی ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور بڑھتی ہوئی عالمی طلب کے تناظر میں چین کی بانس صنعت ایک زیادہ سبز اور پائیدار مستقبل کی جانب گامزن ہے۔
چین میں بانس کی صنعت کا فروغ اس بات کی عملی مثال ہے کہ قدرتی وسائل کو جدید ٹیکنالوجی اور پالیسی حمایت کے ذریعے معاشی قوت اور ماحولیاتی تحفظ کے آلے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ پلاسٹک کے متبادل کے طور پر بانس کا استعمال نہ صرف ماحول کے لیے مفید ہے بلکہ دیہی علاقوں میں آمدنی اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہا ہے۔ یوں بانس کی سبز صنعت چین کی پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی میں ایک اہم ستون کی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ |
|