چین کی فضائی معیار میں بہتر ی کی نئی حکمتِ عملی
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین کی فضائی معیار میں بہتر ی کی نئی حکمتِ عملی تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
فضائی آلودگی آج کے دور میں دنیا کے بیشتر ممالک کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکی ہے۔ صنعتی سرگرمیوں، توانائی کے استعمال اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث صاف ہوا کا حصول ایک مسلسل جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔ چین بھی گزشتہ برسوں سے فضائی معیار بہتر بنانے کے لیے جامع اقدامات کر رہا ہے اور اب اس عمل کو مزید تیز کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں چینی حکام نے آئندہ مرحلے کی حکمتِ عملی اور چیلنجز سے متعلق تفصیلات پیش کی ہیں۔
اس ضمن میں ، چین پی ایم 2.5 کی مقدار میں مزید کمی کے لیے دوگنی کوششیں کرے گا، ڈھانچہ جاتی اصلاحات کو بھرپور انداز میں آگے بڑھائے گا اور آلودگی پر قابو پانے کے لیے مزید باریک بینی پر مبنی اقدامات نافذ کرے گا۔
چینی حکام نے واضح کیا کہ فضائی معیار میں مسلسل بہتری کے باوجود متعدد عوامل چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ بیجنگ۔تھیانجن۔حہ بی خطہ اور اس کے گردونواح، میں ہر سال خزاں اور سردیوں کے دوران ایک یا دو مرتبہ شدید آلودگی کی ایسی لہر آتی ہے جو سات دن سے زائد جاری رہ سکتی ہے۔ صرف تین دن کی شدید آلودگی کسی شہر کی سالانہ اوسط پی ایم 2.5 مقدار میں تقریباً ایک مائیکروگرام فی مکعب میٹر اضافہ کر سکتی ہے۔ایسے موسمی حالات فضائی آلودگی کے پھیلاؤ اور جمع ہونے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ عالمی حدت کے پس منظر میں شدید موسمی واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے فضائی معیار میں مستقل بہتری کے عمل کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا رہ سکتا ہے۔
چینی حکام کے نزدیک اگرچہ ملک میں پی ایم 2.5 کی سطح میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم یہ اب بھی عالمی معیار سے پیچھے ہے۔ اخراج میں مزید گہری کمی حاصل کرنا آسان نہیں کیونکہ بڑے پیمانے کے منصوبوں کے ذریعے کمی کی گنجائش محدود ہو چکی ہے۔ توانائی کا ڈھانچہ بدستور فوسل ایندھن پر انحصار کرتا ہے، صنعتی ساخت بھاری صنعتوں پر مرکوز ہے اور نقل و حمل کا نظام شاہراہوں پر زیادہ منحصر ہے، جن میں قلیل مدت میں بنیادی تبدیلی مشکل ہے۔
مزید برآں بعض علاقوں میں آلودگی کنٹرول کی تنصیبات کے غیر مؤثر استعمال اور تکنیکی صلاحیتوں کی کمی جیسے مسائل بھی موجود ہیں۔ مقامی ماحولیاتی اداروں میں آلات اور مہارت کی کمی فضائی معیار میں مسلسل بہتری کے سفر کو طویل اور پیچیدہ بناتی ہے۔ انہی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے چین کے پالیسی ساز پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے دوران فضائی معیار میں بہتری کے ایک جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد کو آگے بڑھائیں گے۔ اس کے تحت مالیات، ٹیکس، قیمتوں اور ماحولیاتی پالیسیوں میں امتیازی اور جدید انتظامی طریقے اپنائے جائیں گے۔ روایتی صنعتوں کی سبز اور کم کاربن تبدیلی کو تیز کیا جائے گا، غیر فوسل توانائی کی ترقی کو فروغ دیا جائے گا اور سبز ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
علاقائی سطح پر بیجنگ۔تھیانجن۔حہ بی خطہ، فِن وی میدان اور دریائے یانگسی ڈیلٹا جیسے اہم علاقوں میں مشترکہ گورننس اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کو مزید گہرا کیا جائے گا۔ اسی طرح دیگر شہری کلسٹرز کو بھی ان کلیدی علاقوں کے معیار تک لانے کی کوشش کی جائے گی، جبکہ بعض پائلٹ علاقوں کو عالمی معیار کے مطابق حکمتِ عملی اختیار کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔
چین کی جانب سے پی ایم 2.5 میں مزید کمی اور فضائی معیار کی جامع بہتری کے عزم سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ کو قومی ترقی کے بنیادی ستون کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر ڈھانچہ جاتی اصلاحات، سبز توانائی کے فروغ اور علاقائی تعاون کو مربوط انداز میں جاری رکھا گیا تو آئندہ برسوں میں صاف ہوا کا ہدف مزید قریب آ سکتا ہے اور پائیدار ترقی کی سمت مضبوط ہو سکتی ہے۔ |
|