دوستی، دوست اورفیس بک

ازقلم: ذوالفقار علی بخاری

’زندگی تنہا نہیں گزاری جا سکتی۔‘

ہمیں جیون ساتھی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اورکبھی ایک اچھے دوست کی۔ دورحاضر میں سوشل میڈیا ایک بہترین دوست کی مانند ہمیں بے پناہ خوشیاں دے رہا ہے اورکبھی کبھی غمگین کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہونے والی دوستی اکثر جیون ساتھی کا انتخاب بھی ممکن بنا تی ہے۔جیون ساتھی اگر ہم خیال ہو تو بہترین دوست بن سکتا ہے۔ لیکن ایسا بہت کم دکھائی دیتاہے کہ جیون ساتھی دوستی کے لیے آمادہ ہو۔

غیروں کو دوست بنانا مشکل ہوتا ہے لیکن جب وہ دوست بن جاتے ہیں تو پھر اپنوں پر بازی لے جاتے ہیں۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ اکثر لوگوں کے بہترین دوست غیروں میں زیادہ ہوتے ہیں۔جس کی ایک وجہ یہی ہوتی ہے کہ خونی رشتے کبھی نہ کبھی جانبدار ہو جاتے ہیں اورپھر مسائل جنم لیتے ہیں۔

اگر اچھا دوست ہوگا تو آپ اچھے تصور ہوں گے،بُرے دوست کی صحبت میں نہ صرف برائی کی جانب بڑھیں گے بل کہ بُرے بھی تصور کیے جائیں گے۔ دوست بنانے میں احتیاط کرنا بہت ضروری ہے کیوں کہ کبھی کبھی دوستی زندگی کا دھار بدل کر رکھ دیتی ہے۔دوست کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہر حال میں ساتھ نبھانے والا ہوتا ہے اورمشکل وقت میں ساتھ چھوڑنے والا دشمن۔دوست بنانے میں احتیاط کرنی چاہیے کہ دوست کی شخصیت آپ کی شناخت بن سکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر دوست بنانے کے لیے تو اور زیادہ احتیاط کی ضرور ت ہوتی ہے کہ آپ نہیں جانتے ہیں کہ سامنے والے کی شخصیت اور سوچ کیسی ہے۔اکثر خاتون کے لبادے میں لڑکا اورلڑکے کے بھیس میں خاتون چھپی ہوتی ہے تو احتیاط ضروری ہے۔فیس بک کو چہرہ شناسی کی کتاب کہیں تو بے جا نہ ہوگا۔آپ کو کئی لوگوں کے ظاہروباطن عیاں ہوتے دکھائی دیتے ہیں اورآپ سرپکڑکربیٹھ جاتے ہیں کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے۔عام زندگی کی مانند سوشل میڈیا پر بھی دوستیاں ختم کی جاتی ہیں اورجان نثارساتھیوں سے تعلق قطع کیا جا تا ہے۔سوشل میڈیا پر ’ان فالو‘،’بلاک‘،’ان فرینڈ‘ کرکے اظہار کیا جاتاہے کہ ہم مزید ساتھ چلنے کو تیار نہیں ہیں۔ فیس بک فرینڈزکو“بلاک“اور“ان فرینڈ“ کیا جاتا ہے جس کی کئی وجوہات ہوتی ہیں جیسا کہ

شرانگیزی

نظریاتی اختلاف

حسد

پیشہ ورانہ رقابت

سوشل میڈیا سے ہٹ کر دیکھا جائے تو عام زندگی میں بھی دوستیوں کے خاتمے میں یہی عناصر اہم کردار ادا کرتے ہیں۔فیس بک پر کئی احباب تنازعات سے بچنے کے لیے“بلاک“ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ بدمزگی نہ ہو۔کچھ احباب کے نزدیک یہ“بزدلی“ تصورہوتی ہے حالاں کہ مناسب طرز عمل یہی ہوتا ہے کہ دوسروں کی شرانگیزی سے اپنے دامن کو بچایا جائے۔اِس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہوتا ہے کہ کوئی“بہادر“ نہیں ہے یا“جھوٹا“ ہے،اِسے اپنی ساکھ کو بچانا قراردیا جائے گاکہ لوگ بھلا کب چاہتے ہیں کہ آپ صاف ستھرے رہیں۔

چند احباب“سچائی“ کے پرچار کو برداشت نہ کرنے پر دوسروں کو“بلاک“ یا“ان فرینڈ“کردیتے ہیں کہ "ضمیر" جاگنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے جیسا کہ عام زندگی میں دیکھنے کو ملتا ہے۔یہ بے حد سنگین اورمجرمانہ عمل ہوتا ہے کہ آپ سچ سے بھاگ کرجھوٹ کے دامن میں چھپنے کی کوشش کریں۔ فیس بک پر“بلاک“ کیا جائے یا آپ کودوستوں کی فہرست سے“خارج“ کیا جائے،آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کہ“جانے“والوں کی جگہ رفتہ رفتہ“پْر“ ہو جاتی ہے۔ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ اچھے دوستوں سے محرومی ایک سنگین جرم ہے جس کے ارتکاب سے گریز ضروری ہے۔ لیکن جب حالات ناگریز ہو جائیں توآپ کو اپنی شخصیت کے مجموعی تاثر اورساکھ کی خاطر دوری اختیار کرلینی چاہیے۔

سوال یہ ہے کہ عام زندگی یا سوشل میڈیا پر کسی کے“بلاک“ کرنے یا“ان فرینڈز“ کرنے سے آپ کا“ضمیر“مطئمن رہتا ہے یا نہیں؟ اگر آپ پرسکون رہتے ہیں تو سمجھ لیجیے کہ لوگ“ہیروں“ سے محروم ہو کر“کوئلے“ جمع کررہے ہیں۔جو آپ کو اپنی“صحبت“ سے محروم کر رہے ہیں، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ دوسروں کی“سازش“ میں پھنس چکے ہوں اوروقت گزرنے کے بعداْنھیں اپنی غلطی کا احساس ہو۔ اپنے دامن پر بھی نگاہ ڈالیں کہ کہیں آپ نے کچھ غلط نہ کیا ہو،جس کی وجہ سے دوسرے“دور“ہو رہے ہوں۔بہرحال، فیس بک فرینڈشپ زندگی اورموت کا مسئلہ نہیں ہے، اگرکوئی سماجی روابط کے لیے آمادہ نہیں ہے تو اْسے“نظرانداز“کرکے اپنی زندگی کو خوشی سے گزاریں۔زندگی میں دوست ضروری ہیں لیکن آپ کی شناخت اورساکھ زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔اگر کسی دوست کی کمی محسوس کریں تواچھی کتب کو دوست بنائیں کہ وہ کسی صورت آپ کو دھوکہ نہیں دے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
Zulfiqar Ali Bukhari
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 419 Articles with 635374 views I'm an original, creative Thinker, Teacher, Writer, Motivator and Human Rights Activist.

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do N
.. View More