آپ کے بن اُدھورا ہوں

آپ کے بن اُدھورا ہوں
حسیب اعجازعاشرؔ
ماں وہ پہلی معلمہ ہے جس کی گود میں حرفِ محبت لکھا جاتا ہے، جس کی آغوش میں یقین کی بنیاد رکھی جاتی ہے، اور جس کی دعا سے قسمت کے بند دریچے کھل جاتے ہیں۔ دنیا کی ہر نعمت کا بدل ممکن ہے، مگر ماں کا بدل ممکن نہیں؛ وہ ایک ہی بار عطا ہوتی ہے۔یوں تو برسوں ہم سنتے آئے تھے کہ فلاں کی والدہ کا انتقال ہو گیا مگر ان خبروں کے اندر جو قیامت پوشیدہ ہوتی ہے، اس کا ادراک اُس گھڑی ہوا جب اپنی امی جی اس دارِ فانی سے رخصت ہوئیں کہ یہ حیاتِ انسانی کا سب سے بڑا سانحہ ہے، تمام غموں کا ماحصل، تمام دکھوں کی انتہا، اور دل پر اترنے والی وہ بجلی جس کی کڑک سے اندر کا جہان ویران ہو جائے۔ وہ کئی برس سے علیل تھیں، صبر و رضا کی تصویر بنی ہر تکلیف کو خاموشی سے سہتی رہیں؛ کبھی ہسپتال جاتیں، کبھی صحت یاب ہو کر لوٹ آتیں۔اِس بار بھی ہم یہی گمان کرتے رہ گئے کہ ہسپتال میں شفا ان کی منتظر ہو گی،مگر افسوس کہ گھر سے نکلتے ہوئے اِن کا یہ الوداعی پیغام کہ“اللہ حافظ۔اب واپس نہیں آؤں گی”،جسے ہماری غفلت سن تو سکی مگر سمجھ نہ سکی۔ ہسپتال میں رات کو یہ اطمینان ہوا کہ ماں سکون کی نیند سو رہی ہیں۔ مگر صبح جب میں ناشتہ لیے کمرہ ہسپتال میں داخل ہوا تو تقدیر اپنا فیصلہ سنا رہی تھی۔ میں نے ان کی چند ڈوبتی اُبھرتی سانسیں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ یوں محسوس ہوا گویا وہ اپنے ربِّ کریم سے عرض گزار تھیں کہ“اے پروردگار! میرے بیٹے کو آنے دے، اسے میری آخری سانسوں کا گواہ ضرور بنا دینا۔”بس پھر کیا۔۔لمحہ بھر میں سب کچھ ٹھہر گیا،دل کی دھڑکین،سانسیں، وقت بھی، آوازیں بھی، اور ہمارے اندر کا ایک پورا جہان بھی۔
اسے اتفاق نہیں کہہ سکتے،یہ قدرت کا باقاعدہ انتظام و اہتمام تھا کہ ہم پانچوں بھائی بہن یہیں موجود تھے۔ حالانکہ ہم بھائیوں میں سے کوئی ایک اللہ کی راہ میں سفر پر بھی ہوسکتاتھا۔ جو بہن دیارِ غیر میں مقیم تھی، جس کے گھر والے عمرے کی سعادت کے لیے سرزمینِ حجاز کو روانگی کا پلان بنا رہے تھے، اُس نے کہا:“میرا عمرہ یہی ہے کہ میں ماں کی خدمت کر لوں ”اور وہ چند روز پیشتر ہی امی جی کی خدمت میں حاضر ہو چکی تھی۔بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی،ذرا دیکھیں کہ اللہ نے رشتوں کا کیسا بھرم رکھا کہ چند ماہ امی جی ہماری آپی کے پاس رہیں،خدمت گزار بیٹی کی آرزو تھی کہ ماں اسی کے آنگن میں دم لیں؛ مگر ماں کے دل میں یہ تمنا بھی موجزن تھی کہ آخری سانس اپنے گھر، اسی بستر پر آئے جہاں کبھی اُن کے رفیقِ حیات کا آخری وقت گزرا۔ ربّ نے دونوں چاہتوں کی لاج رکھ لی: وہ بیٹی کے ہاں سے بخیریت بیٹے کے گھر لوٹ آئیں تھیں، وہیں سے ہسپتال گئیں۔بیٹوں کے آنگن کی نسبت قائم رہی، اور بیٹی کی خدمت بھی شرفِ قبولیت پا گئی۔ وصیتیں بھی پوری ہوئیں: چھوٹے بیٹے نے جنازہ پڑھایا، اور میرے ذمے اطعامِ خلق،جانے سے پہلے انہوں نے وصیت کی کہ جو بھی میرے جنازے سے پرا ٓئے، اسے اچھا کھانا کھلایا جائے۔اپنے ہاتھوں سے مجھے کچھ رقم تھمائی اور ہدایات دیں کہ اگر کم پڑ جائے تو تمہاری ذمہ داری، اور اگر زیادہ ہو جائے تو تمہارے۔ کون ہے جو لحد میں اُترنے سے پہلے لوگوں کے لیے دسترخوان بچھانے کی فکر کرے اور وہ بھی رمضان المبارک میں افطاری کے وقت؟ اندازاً دو سو سے زائد افراد نے مساجد میں کھانا تناول کیا، تین سو سے زائد خواتین نے گھر کے اندر۔ گھر چھوٹا تھا مگر مجمع وسیع، گویا برکت نے دسترخوان پر اپنے پر پھیلا دیے۔سب کچھ ایسے مرتب ہوا جیسے اوپر سے تحریر ہو کر آیا ہو کہ جیسا طے ہوچکا ویسا ہی ہوگا۔
پروقار زندگی گزاری اور پوری شان سے رخصت ہوئی کہ زمان و مکان کی ساعتیں بھی گواہی دینے لگیں، رمضان المبارک کی بابرکت گھڑیاں، جمعۃ المبارک کا دن، آفتاب اپنی حدّت کم کر کے نرم پڑ چکا تھا۔ فضا میں ایک خنکی تھی، ہوا میں ایک لطیف سی نرمی، اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ آسمان سے ابرِ رحمت سایہ فگن ہے۔ اہلِ دل کہتے ہیں کہ بعض بندوں کی رخصتی پر قدرت کے اشارے بھی بدل جاتے ہیں۔پہلا عشرہ رخصت ہو کر دوسرے عشرے کی دہلیز پر قدم رکھ رہا تھا۔اور تدفین کا وہ وقت آن پہنچا جسے اہلِ دل حضرتِ خدیجہ الکبریٰ کی تدفین کی ساعت سے نسبت دیتے ہیں۔ آسمان سے ہلکی بوندا باندی نے فضا کو نم کر دیا۔ستائیس فروری کی شب جب میری امی جان کا جنازہ اُٹھا تو یوں محسوس ہوا جیسے میرا اپنا ایک عہد بلکہ میں خود مٹی کے سپرد ہونے جا رہا ہوں۔جنازہ غیرمعمولی ہجوم لیے اُٹھا، گویا عید کی نماز کا منظر ہو،جنازگاہ میں قدم رکھنے کو جگہ نہ تھی۔ لوگ جوق در جوق ایسے آ رہے تھے جیسے آسمان سے فرشتے اُتر رہے ہوں۔چہروں پر رقت، آنکھوں میں آنسو، اور لبوں پر دعا۔ دیکھنے والے کہتے تھے کہ چہرہ انور پر عجب طمانیت ہے، گویا نور کی لطیف جھلک اب بھی باقی ہو۔ تب دل نے جانا کہ یہ سب ربّ کی محبتوں کے استعارے ہیں وہ اپنے محبوب بندوں کو اپنے پاس پورے پروٹوکول،عزت اور وقار کے ساتھ بلاتا ہے۔
نمازیں، ذکر و عبادات کے ساتھ ساتھ ان کی حیات کا ایک اور درخشاں پہلو مہمان نوازی اور ایثاربھی تھا۔تبھی تو جنازہ اُٹھنے سے پہلے دسترخوان لگ رہے تھے، ان کی طبیعت میں ایک عجب کشش تھی۔ جس سے ملتیں، ایسے ملتیں جیسے اسی سے سب سے زیادہ محبت ہو۔ چہرے پر مسکراہٹ، لہجے میں نرمی، اور آنکھوں میں خلوص،ہر آنے والے کو اپنا سمجھنا، ہر غمگین کے لیے تسلی کا لفظ رکھنا، ہر محتاج کے لیے دستِ تعاون دراز کرنا ان کا شیوہ تھا۔ دروازہ ہمیشہ کھلا، تجوری ہمیشہ کشادہ، اور دل ہمیشہ آمادہ۔ کوئی کام لے کر آتا تو کوشش یہی ہوتی کہ کسی طرح اس کا مسئلہ حل ہو؛ کوئی مدد چاہتا تو وہ اپنی بساط کے مطابق بڑھ چڑھ کر شریک ہوتیں۔رمضان کی مبارک ساعتیں چل رہی ہیں اور ضرورت مند گھر کی چوکھٹ پر اُسی محبت اورعنائیت کی اُمید لئے آ رہے ہیں جو والدہ اپنی زندگی میں اُن پر نچھاور کرتیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ والدہ جانے سے پہلے ہدایات دے کر گئی ہیں اُن کے دی گئی امانت کس کس کو کتنی کتنی دی جائے گی۔
ہماری زندگیوں میں ماں وہ مرکز تھی جس کے گرد ہماری خوشیاں گردش کرتی تھیں۔ ان کی موجودگی میں باپ کی جدائی کا غم قدرے مدھم ہوا تھا؛ وہی سایہ، وہی سہارا، وہی فیصلہ کن آواز۔ اب جب وہ بھی رخصت ہو گئیں تو یوں لگتا ہے جیسے گھر کی دیواروں سے ایک مانوس روشنی اٹھ گئی ہو۔ کمرے وہی ہیں، در و دیوار وہی، مگر فضا میں ایک خلا ہے جو ہر لمحہ اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔ تاہم اسی خلا میں ان کی دعاؤں کی بازگشت سنائی دیتی ہے؛ یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہمیں جوڑ کر گئیں ہیں اور بکھرنے نہیں دیں گی۔ ان کی تربیت، ان کی نصیحتیں، ان کی شفقت ہمارے لیے اب چراغِ راہ ہیں۔
میری ہر دعا ؤں میں پہلی دعا یہی ہوتی تھی کہ“یا اللہ! میری والدہ کو صحت عطا فرما“۔آج جب ہاتھ دعا کے لیے اٹھتے ہیں تو یہی دعا بے اختیار لبوں تک آ کر ٹھٹھک جاتی ہے کہ اب وہ اس دنیا کی بیماریوں سے آزاد ہو چکی ہیں۔دل چاہتا ہے کہ جی بھر کر رو لوں، مگر رو بھی نہیں سکتا،اِن آنسوؤں کو ضبط کرنا اب میری بہنوں کی ہمت و حوصلہ اورمیرے بھائی کی ڈھارس کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ اگر میں ٹوٹ گیا تو انہیں کون جوڑے گا؟مجھے کیسے بھی کہنا ہے کہ”میں ہوں نا“۔ خود کوکتنا بھی مضبوط ظاہر کر تا پھروں، مگر اندر کہیں ایک بچہ آج بھی فون کی طرف دیکھ رہا ہے کہ شاید گھنٹی بجے، شاید وہی آواز آئے، شاید پھر کوئی کہہ دے:“حسیب آفس سے کب آنا ہے؟ حسیب آج دیر کیوں ہو گئی؟ حسیب فلاں دوائی لیتے آنا”۔آہ۔ اب گھر کی چوکھٹ پر وہ آنکھیں منتظر نہیں، کوئی قدموں کی چاپ پر چونکنے والی ہستی نہیں رہی کہ”لگتا ہے کہ حسیب آیا ہے“۔”ماں کی کمی“ وہ زخم ہے جو دکھتا نہیں مگر عمر بھر رِستا رہتا ہے۔ اب کون میری پیشانی پر ہاتھ رکھ کر دعا دے گا؟ میں کس کا ماتھا چوموں گا؟کون میرے ہاتھوں کو چوم کر سینے لگائے گا؟
آج تنہائی کے کسی گوشے میں بیٹھ کرجب ماضی کی گلیوں میں قدم رکھتا ہوں تو امی جان کی وہ آواز کانوں میں گونجتی ہے:“حسیب! میں تیرے بغیر ادھوری ہوں۔”کاش کوئی جا کر اُنہیں بتا دے کہ امی جان میں بھی آپ کے بن اُدھورا ہوں اور یہ ادھورا پن اب میری زندگی کا مقدر ہے۔کاش میں نے ان کے ہاتھوں کو زیادہ چوما ہوتا، کاش ان کی تھکن کو زیادہ بانٹا ہوتا۔ جو ساعتیں ان کے قدموں میں گزارنی تھیں، وہ دنیا کی مشغولیات کی نذر ہو گئیں؛ جو مسکراہٹیں ان کی آنکھوں میں دیکھنی تھیں، وہ شاید میری غفلتوں کی گرد میں کہیں دھندلا گئیں۔ ماں کا حق تو وہ بحرِ بے کراں ہے جس کے کنارے تک بھی رسائی ممکن نہیں، مگر ہائے افسوس کہ میں تو اپنے حصے کی موج بھی نہ تھام سکا۔ماں کی عظمت پر قلم چلانا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔ وہ زندگی کا پہلا مدرسہ، پہلی دعا، پہلا سہارا اور آخری پناہ ہوتی ہے۔ میری ماں بھی اسی قافلہ محبت کی ایک روشن چراغ تھیں۔ اب یہی دعا ہے کہ ربِ کریم ان کی قبر کو نور سے بھر دے، اسے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، اور میری ان کمیوں کو اپنی رحمت سے ڈھانپ لے۔
Haseeb Ejaz Aashir | 03344076757
04-March-2026
Haseeb Ejaz Aashir
About the Author: Haseeb Ejaz Aashir Read More Articles by Haseeb Ejaz Aashir: 181 Articles with 176658 views https://www.linkedin.com/in/haseebejazaashir.. View More