خون کی دہلیز پر کھڑی دنیا — کیا امن کی کوئی راہ باقی ہے؟
(Sardar Muhammad Shoaib Saifi, Islamabad)
یہ تحریر موجودہ عالمی کشیدگی — خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں Iran اور Israel کے درمیان تناؤ، اور جنوبی ایشیا میں Pakistan اور Afghanistan کے تعلقات — کو پس منظر بنا کر یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا دنیا ایک بار پھر کسی بڑے تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے۔ تاریخ کی مثالیں، خصوصاً World War I اور World War II، یہ سبق دیتی ہیں کہ معمولی واقعات بھی بڑی تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔ مضمون اس بات پر زور دیتا ہے کہ ایٹمی دور میں مکمل جنگ سب کے لیے تباہ کن ہوگی، اس لیے طاقت کے بجائے مکالمہ، انصاف اور دانش مندی ہی پائیدار امن کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ فیصلہ قیادت کے ہاتھ میں ضرور ہے، مگر عوامی شعور اور ذمہ دارانہ رویہ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ 🔹 ایڈیٹر کو اشاعت کی درخواست Email Subject برائے اشاعت: عالمی امن و موجودہ کشیدگی پر تجزیاتی کالم محترم ایڈیٹر صاحب، السلام علیکم امید ہے آپ بخیریت ہوں گے۔ میں نے موجودہ عالمی حالات اور بڑھتی ہوئی بین الاقوامی کشیدگی کے تناظر میں ایک تجزیاتی کالم تحریر کیا ہے جس کا عنوان ہے: “خون کی دہلیز پر کھڑی دنیا — کیا امن کی کوئی راہ باقی ہے؟” اس تحریر میں عالمی تناؤ، تاریخی اسباق اور موجودہ سفارتی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے امن، مکالمے اور دانش مندی کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ میرا مقصد قارئین کو جذباتیت کے بجائے سنجیدہ اور متوازن سوچ کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ گزارش ہے کہ آپ اس تحریر کو اشاعت کے لیے زیرِ غور لائیں۔ اگر کسی ترمیم یا بہتری کی ضرورت ہو تو میں خوش دلی سے آمادہ ہوں۔ آپ کے قیمتی وقت اور توجہ کا شکریہ۔ والسلام محمد شعیب اگر آپ چاہیں تو میں اسے زیادہ مختصر، زیادہ پراثر یا زیادہ تجزیاتی انداز میں بھی ڈھال سکتا ہوں۔ |
|
|
دنیا ایک بار پھر تاریخ کے اس موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں فضا میں بارود کی بو محسوس کی جا سکتی ہے، سفارتی بیانات میں سختی بڑھ رہی ہے اور سرحدوں کے دونوں طرف کھڑے سپاہیوں کی نظریں کسی غیر یقینی کل کی طرف جمی ہوئی ہیں۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی ہو، یا مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تناؤ کی بازگشت — عالمی سیاست کا درجہ حرارت مسلسل اوپر جا رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ خطرہ موجود ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا انسانیت اس بار بھی وہی غلطی دہرانے جا رہی ہے جو وہ ماضی میں کر چکی ہے؟ تاریخ کے اوراق ہمیں خبردار کرتے ہیں۔ World War I ایک ایسے واقعے سے بھڑکی جسے ابتدا میں محدود سمجھا گیا، مگر دیکھتے ہی دیکھتے وہ آگ پورے یورپ کو نگل گئی۔ پھر World War II نے انسانیت کو ایسی تباہی دکھائی جس کی مثال پہلے کبھی نہ تھی۔ شہر ملبے کا ڈھیر بن گئے، کروڑوں انسان لقمۂ اجل بنے اور آخرکار ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال نے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ جنگ اب صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں رہی بلکہ پوری نسلوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ ان سانحات کے بعد عالمی قیادت نے عہد کیا تھا کہ آئندہ اختلافات کو مذاکرات کی میز پر حل کیا جائے گا، مگر آج کے حالات دیکھ کر وہ عہد کمزور پڑتا محسوس ہوتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ محض دو ممالک کا تنازع نہیں بلکہ عالمی مفادات کی گتھی ہے۔ توانائی کے ذخائر، اسٹریٹجک راستے اور سیاسی اثر و رسوخ — سب اس خطے کو عالمی طاقتوں کے لیے حساس بناتے ہیں۔ امریکہ کی حمایت، یورپی ممالک کی سفارتی کوششیں، اور بڑی طاقتوں کی خاموش چالیں مل کر ایک پیچیدہ منظرنامہ بناتی ہیں۔ یہ کھلی عالمی جنگ نہیں، مگر ایک ایسی کشمکش ضرور ہے جو کسی بھی لمحے شدت اختیار کر سکتی ہے۔ ادھر جنوبی ایشیا میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بھی آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ سرحدی کشیدگی اور باہمی الزامات وقتی سرخیاں تو بن جاتے ہیں، مگر ان کا اثر سرحدی بستیوں میں بسنے والے عام لوگوں پر پڑتا ہے۔ ایک ماں جو اپنے بیٹے کی سلامتی کے لیے دعا گو ہے، ایک مزدور جو روزگار کے لیے سرحد پار آتا جاتا تھا، ایک طالب علم جس کا مستقبل غیر یقینی ہو گیا — یہ وہ چہرے ہیں جو کسی عالمی کانفرنس کے اعلامیے میں نظر نہیں آتے۔ سوشل میڈیا نے اس خوف کو اور بڑھا دیا ہے۔ ایک غیر مصدقہ خبر لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچتی ہے اور “تیسری عالمی جنگ” کا لفظ ٹرینڈ بن جاتا ہے۔ جذبات بھڑک اٹھتے ہیں، افواہیں پھیلتی ہیں اور بے یقینی بڑھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر کشیدگی ضرور موجود ہے، مگر براہِ راست عالمی جنگ کے آثار ابھی واضح نہیں۔ ایٹمی دور میں بڑی طاقتیں جانتی ہیں کہ مکمل جنگ کا مطلب باہمی تباہی ہے۔ اسی لیے وہ براہِ راست ٹکراؤ کے بجائے اقتصادی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور پراکسی محاذوں کو ترجیح دیتی ہیں۔ مگر کیا یہ حکمتِ عملی ہمیشہ کارگر رہے گی؟ تاریخ بتاتی ہے کہ بعض اوقات ایک غلط اندازہ، ایک اشتعال انگیز قدم یا ایک حادثہ بڑے بحران کو جنم دے دیتا ہے۔ اسی لیے آج سب سے زیادہ ضرورت دانش مندی اور تحمل کی ہے۔ طاقت کا مظاہرہ وقتی فائدہ دے سکتا ہے، مگر پائیدار امن صرف مکالمے اور انصاف سے ممکن ہے۔ اگر عالمی قیادت نے اپنے سیاسی مفادات کو انسانیت پر ترجیح دی تو نقصان سب کا ہو گا۔ مسلم دنیا، جو جغرافیائی طور پر حساس خطوں میں واقع ہے، اسے بھی جذباتی نعروں کے بجائے حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی اپنانا ہو گی۔ داخلی استحکام، معاشی مضبوطی اور تعلیم پر سرمایہ کاری ہی وہ بنیادیں ہیں جو کسی بھی عالمی بحران کے اثرات کو کم کر سکتی ہیں۔ صرف بیرونی خطرات کا رونا رونے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا؛ ہمیں اپنے اندر بھی اتحاد، برداشت اور شعور پیدا کرنا ہو گا۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتی، بلکہ خیالات اور بیانیوں سے بھی لڑی جاتی ہے۔ جب نفرت اور تعصب کو فروغ ملتا ہے تو بارود کی چنگاری زیادہ تیزی سے بھڑکتی ہے۔ اگر ہم اپنے معاشروں میں انصاف، برداشت اور مکالمے کو فروغ دیں تو عالمی سطح پر بھی امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ آج دنیا واقعی خون کی دہلیز پر کھڑی محسوس ہوتی ہے، مگر دہلیز کا مطلب دروازہ بھی ہوتا ہے — ایک ایسا دروازہ جو تباہی کی طرف بھی کھل سکتا ہے اور امن کی طرف بھی۔ فیصلہ قیادتوں کے ہاتھ میں ہے، مگر آواز عوام کو بھی اٹھانی ہو گی۔ ہمیں جنگ کے شور میں امن کی صدا کو دبنے نہیں دینا چاہیے۔ کیا امن کی کوئی راہ باقی ہے؟ جواب ہاں میں بھی ہو سکتا ہے اور نہیں میں بھی۔ اگر ہم تاریخ کے سبق کو یاد رکھیں، جذبات کے بجائے حکمت کو ترجیح دیں اور انصاف کو طاقت پر غالب آنے دیں تو امن کی راہ ابھی باقی ہے۔ مگر اگر ہم نے ضد، مفاد اور نفرت کو رہنما بنا لیا تو خون کی یہ دہلیز عبور ہوتے دیر نہیں لگے گی۔ انسانیت کا مستقبل اسی انتخاب پر منحصر ہے۔ |
|