چین کی معاشی سماجی ترقی ، اعداد وشمار کے آئینے میں
(Shahid Afraz Khan, Beijing)
|
چین کی معاشی سماجی ترقی ، اعداد وشمار کے آئینے میں تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
چین کی معیشت نے چودھویں پانچ سالہ منصوبے (2021ء تا 2025ء) کے دوران مجموعی طور پر مستحکم کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور معیاری ترقی کے فروغ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ اس عرصے میں نہ صرف اقتصادی حجم میں نمایاں اضافہ ہوا بلکہ ٹیکنالوجی، صنعت اور سماجی فلاح کے شعبوں میں بھی اہم پیش رفت سامنے آئی، جس سے آئندہ ترقیاتی مرحلے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم ہوئی۔
گزشتہ پانچ برسوں میں ملکی معیشت کا حجم نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ چودھویں پانچ سالہ منصوبے کے اختتام تک چین کی مجموعی اقتصادی پیداوار 140 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گئی، جبکہ تیرہویں پانچ سالہ منصوبے (2016ء تا 2020ء) کے اختتام پر یہ حجم 103 ٹریلین یوآن تھا۔ اس طرح چین کی معیشت میں اوسطاً ہر سال تقریباً 10 ٹریلین یوآن کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اس پانچ سالہ عرصے میں معیشت میں مجموعی اضافہ 35 ٹریلین یوآن سے زیادہ رہا، جو ایک درمیانے درجے کی معیشت کے مجموعی حجم کے برابر قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی دوران اوسط سالانہ اقتصادی شرح نمو 5.4 فیصد رہی، جو عالمی سطح پر بڑی معیشتوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ اور عالمی اوسط شرح نمو سے بھی بلند بتائی گئی۔
ترقی کے معیار سے جڑے شعبوں، بالخصوص ٹیکنالوجی اور صنعتی جدت کے حوالے سے بھی نمایاں پیش رفت سامنے آئی۔ گزشتہ پانچ برسوں میں چین نے سائنسی تحقیق کے متعدد اہم نتائج حاصل کیے ہیں، جبکہ کئی ٹیکنالوجیز اور صنعتی شعبے عالمی منڈی میں نہ صرف ہم پلہ ہو گئے ہیں بلکہ بعض شعبوں میں قیادت کی پوزیشن بھی حاصل کر رہے ہیں۔
اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ سماجی فلاح کے میدان میں بھی نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ بچوں کی نگہداشت اور ابتدائی تعلیم تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے مفت پری اسکول تعلیم کی پالیسی نافذ کی گئی جس سے تقریباً ایک کروڑ چالیس لاکھ بچوں کو فائدہ پہنچا۔ اس کے علاوہ بچوں کی دیکھ بھال کے لیے فراہم کی جانے والی مالی معاونت سے تین کروڑ سے زیادہ شیر خوار اور کم عمر بچوں کو سہولت حاصل ہوئی۔
تعلیم کے شعبے میں بھی پیش رفت دیکھی گئی۔ اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح 2020ء میں 54.4 فیصد سے بڑھ کر 60 فیصد سے تجاوز کر گئی، جبکہ نو سالہ لازمی تعلیم کی تکمیل کی شرح 96 فیصد سے زیادہ ہو گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں کاؤنٹی سطح پر لازمی تعلیم کی متوازن ترقی بنیادی طور پر حاصل کر لی گئی ہے۔
روزگار کے شعبے میں بھی مثبت نتائج سامنے آئے۔ غربت سے نکلنے والے افراد میں روزگار حاصل کرنے والوں کی تعداد ہر سال 30 ملین سے زیادہ مستحکم رہی۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران شہری علاقوں میں مجموعی طور پر 60 ملین سے زائد نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں، جبکہ شہریوں کی آمدنی میں اضافہ بھی مجموعی اقتصادی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ رہا۔
صحت کے شعبے میں بھی اصلاحات اور بہتری جاری رہی۔ ملک بھر میں بین الصوبائی بیرونی مریضوں کے طبی اخراجات کے لیے براہ راست میڈیکل انشورنس تصفیہ کا نظام قائم کیا گیا جس سے 400 ملین سے زیادہ افراد مستفید ہوئے۔ اس عرصے میں چین میں اوسط متوقع عمر 79 برس سے تجاوز کر گئی، جو گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 1.3 سال کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
بزرگوں کی فلاح کے لیے قومی پنشن انشورنس نظام بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ عمر رسیدہ افراد کو بہتر نگہداشت کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ شہری اور دیہی باشندوں کے لیے بنیادی پنشن کی کم از کم سطح میں ہر سال اضافہ کیا گیا جس کی مجموعی شرح 53 فیصد سے زیادہ رہی اور اس سے 180 ملین سے زائد بزرگ افراد مستفید ہوئے۔
حکام کے مطابق یہ کامیابیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ چین کی معیشت مسلسل استحکام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، دباؤ کے باوجود مضبوط لچک رکھتی ہے اور جدت پر مبنی معیاری ترقی کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ انہی کامیابیوں کی بنیاد پر آئندہ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026ء تا 2030ء) کے دوران مختلف خطرات اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور معیاری اقتصادی ترقی کے فروغ کے عزم کو مزید مضبوطی حاصل ہوئی ہے۔
چودھویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران حاصل ہونے والی اقتصادی اور سماجی کامیابیاں چین کی ترقیاتی حکمت عملی کی مؤثریت کو ظاہر کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان نتائج کی بنیاد پر چین آئندہ پانچ برسوں میں بھی معیاری ترقی، جدت اور سماجی فلاح کے فروغ کے ساتھ اپنی جدیدکاری کے اہداف کی جانب پیش رفت جاری رکھنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہے۔ |
|