چین کی سبز ترقی کی حکمتِ عملی

چین کی سبز ترقی کی حکمتِ عملی
تحریر : شاہد افراز خان ،بیجنگ

دنیا اس وقت ماحولیاتی تبدیلی، آلودگی اور قدرتی وسائل کے دباؤ جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں پائیدار ترقی اور ماحول کے تحفظ کو عالمی پالیسی سازی کا اہم حصہ بنا دیا گیا ہے۔ چین بھی گزشتہ برسوں کے دوران ترقی اور ماحول کے درمیان توازن قائم کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کر چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اقتصادی ترقی کو ماحول دوست طریقوں کے ساتھ آگے بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

اسی پس منظر میں 2026 سے شروع ہونے والا چین کا پندرہواں پانچ سالہ منصوبہ ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے، جس میں سبز معیشت، کم کاربن ترقی اور ماحول کے تحفظ کو قومی ترقی کے بنیادی ستون کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

چین میں ماحول دوست ترقی کو ایک جامع اور طویل المدتی حکمتِ عملی کے طور پر اپنایا گیا ہے۔ اس سوچ کی بنیاد اس تصور پر ہے کہ صاف پانی اور سرسبز پہاڑ دراصل قیمتی معاشی وسائل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی نظریے کے تحت گزشتہ برسوں میں ماحول کے تحفظ اور قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے۔

گزشتہ پانچ سال کے دوران چین نے سبز ترقی کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ملک میں دنیا کا سب سے بڑا کاربن مارکیٹ نظام قائم کیا گیا ہے اور صاف توانائی سے بجلی پیدا کرنے کا سب سے بڑا نظام بھی تشکیل دیا گیا ہے۔ اسی طرح ملک کے جنگلاتی رقبے میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور اب جنگلات چین کے مجموعی رقبے کے ایک چوتھائی سے زیادہ حصے پر پھیل چکے ہیں۔

چین کے مختلف علاقوں میں ماحول کی بحالی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے منصوبوں کے نتیجے میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ بعض صحرائی علاقوں میں سبز پودوں اور جنگلات کی افزائش کے ذریعے ماحولیاتی توازن بہتر بنایا گیا ہے جبکہ بڑے شہروں میں فضائی آلودگی میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔

ماحول دوست ترقی میں جدید ٹیکنالوجی کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ چین نے گزشتہ برسوں میں صاف توانائی، قابل تجدید توانائی اور ماحولیاتی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تیزی سے پیش رفت کی ہے۔ اسی کے ساتھ ان ٹیکنالوجیز کو عالمی سطح پر بھی فروغ دینے کی کوششیں جاری ہیں۔
چین نے دنیا کے سو سے زیادہ ممالک اور خطوں کے ساتھ صاف توانائی کے منصوبوں میں تعاون کیا ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد نہ صرف توانائی کی ضروریات پوری کرنا ہے بلکہ ماحول دوست ترقی کو بھی فروغ دینا ہے۔یہ منصوبے اس بات کی مثال ہیں کہ کس طرح سبز ٹیکنالوجی کے میدان میں بین الاقوامی تعاون مقامی معیشتوں اور ماحول دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے چین نے کاربن اخراج کو کم کرنے اور توانائی کے نظام کو زیادہ ماحول دوست بنانے کے لیے ایک جامع پالیسی فریم ورک تشکیل دیا ہے۔ کاربن اخراج کے عروج اور کاربن غیر جانبداری کے اہداف کو قومی ترقی کی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا گیا ہے۔

چین توانائی کے استعمال کی شدت کو کم کرنے والے ممالک میں بھی شامل ہے۔ قابل تجدید توانائی کے شعبے میں تیزی سے ترقی کے باعث چین اس وقت دنیا کے تقریباً 70 فیصد ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے آلات اور تقریباً 80 فیصد شمسی توانائی کے ماڈیول فراہم کر رہا ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں دنیا بھر میں صاف توانائی کی لاگت کم ہوئی ہے اور ترقی پذیر ممالک کو ماحول دوست توانائی اپنانے میں مدد ملی ہے۔
اسی کے ساتھ چین عالمی ماحولیاتی حکمرانی کے مختلف پلیٹ فارمز پر بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ مختلف بین الاقوامی شراکت داریوں اور منصوبوں کے ذریعے ماحول کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

دنیا اس وقت جس ماحولیاتی دوراہے پر کھڑی ہے وہاں پائیدار ترقی کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ چین کی سبز ترقی کی حکمتِ عملی اس بات کی مثال پیش کرتی ہے کہ اقتصادی ترقی اور ماحول کے تحفظ کو ایک ساتھ آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ صاف توانائی، جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے چین نہ صرف اپنے ہاں ماحول دوست تبدیلی کو آگے بڑھا رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر پائیدار ترقی کے لیے بھی مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ مستقبل میں بھی یہ اقدامات عالمی ماحول اور انسانی فلاح کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1093096 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More